انڈے کھانے کا حکم:
Question
اگر کسی حدیث میں انڈے کا کھانا ثابت ہو تو بحوالہ تحریر فرمائیں؟
Answer
صحیح حدیث میں انڈے کا تذکرہ ملتا ہے البتہ انڈے کھانے سے متعلق کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔
ملاحظہ ہو صحیحین کی روایت میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: "من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة. ثم راح في الساعة الأولي فكأنما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية، فكأنما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة، فكأنما قرب كبشاً أقرن، ومن راح في الساعة الرابعة، فكأنما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة، فكأنما قرب بيضة، فإذا خرج الإمام، حضرت الملائكة يستمعون الذكر. (متفق عليه).
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صل الله عليه وسلم: لعن السارق؛ يسرق البيضة، فتقطع يده، يسرق الحبل، فتقطع يده. (متفق عليه).
انڈے کھانے کی حدیث اگر چہ صراحۃً ہمیں نہیں ملی لیکن مندرجہ ذیل دلائل سے اس کا کھانا ثابت ہوتا ہے:
(۱) انڈے کے کھانے پر اجماع ہے اور امت کا تعامل ہے، ایسی چیزوں میں کسی حدیث کی چنداں حاجت نہیں ہوتی۔ مثلاً بھینس کا دودھ استعمال کرنے میں، یا تراویح میں ختمِ قرآن پر امت کا تعامل ہے، اگر چہ صراحۃً کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔
(۲) آنحضرت ﷺ نے مرغی تناول فرمائی اور انڈا مرغی کا جز ہے، اور یہ اعضائے محرمہ اور مکروہہ میں سے بھی نہیں ہے۔
(۳) حدیثِ بالا میں ما قبل میں سب چیزیں ماکولات کے قبیل سے ہیں، مثلاً اونٹ، گائے، مینڈھا، مرغی وغیرہ تو یقیناً انڈا بھی ماکول ہے۔
(٤) دوسری حدیث سے مترشح ہوتا ہے کہ معمولی کھانے کی چیز چوری کر کے مستحق قطع بن رہا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.