کھانے کے درمیان دعا کا حکم:
Question
کیا یہ بات صحیح ہے کہ جو شخص کھانا کھانے کے درمیان یہ دعا پڑھے: "
اللهم لك الحمد ولك الشكر"
تو اس کو ہر مرتبہ میں ایک دن کے روزے کا ثواب ملے گا؟ بینوا توجروا۔
Answer
کھانا کھانے کے درمیان میں مطلق حمد بیان کرنے اور شکریہ ادا کرنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے البتہ خصوصیت کے ساتھ سوال میں مذکور دعا کسی حدیث میں صراحۃً وارد ہوئی ہو نظر سے نہیں گزری، تاہم اس میں بھی حمد اور شکر مذکور ہے، لہذا اس کو پڑھنا درست ہے لیکن خاص اسی دعا کے پڑھنے کو سنت کہنا اور مخصوص فضیلت کا اعتقاد رکھنا درست نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو حدیث میں ہے طاعم شآ کر اجر و ثواب میں صائم صابر کی طرح ہے ۔ سنن ترمذی میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: الطاعم الشاكر بمنزلة الصائم الصابر. قال أبو عيسى: هذا حديث حسن غريب، (۲٤۸٦)، وكذا في سنن ابن ماجه، (۱۷٦٤)، وسنن الدارمي، (۲۰۲٤) وصحيح ابن حبان، (۳۱۵)، وصحيح ابن خزيمة، (۱۸۹۸)، ومسند أحمد، (۷۸۰٦)، ومستدرك حاكم: (٤/۱۳٦/۷۱۹٤).
عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إن الله ليرضي عن العبد ان يأكل الأكلة، فيحمده عليها، أو يشرب الشربة، فيحمده عليها. (رواه مسلم: ۲۷۳٤).
مجمع الزوائد میں ہے:
وعن سعد بن مسعود الثقفي قال: إنما سمي نوح عبداً شكوراً لأنه إذا أكل وشرب حمد الله. رواه الطبراني وتابعيه سعد بن سنان لم أعرفه، وبقية رجاله رجال الصحيح. (مجمع الزوائد: ۵/۲۹، دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.