کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا حکم:
Question
کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا کیسا ہے اگر مسنون ہے تو اس کی کیا دلیل ہے؟ نیز چاٹنے کی صحیح ترتیب کیا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
کھانا کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا مسنون ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: إذا أكل أحدكم فلا يمسح يده حتى يلعقها أو يلعقها. (رواه البخاري، رقم: ۵٤۵٦، باب لعق الأصابع قبل ان يمسح بالمنديل).
اس روایت سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا مسنون ہے، اور بعض روایات میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے، ہو سکتا ہے کہ اس حصہ میں برکت ہو جو اس کی انگلیوں پر لگا ہوا ہے لہذا چاٹنے سے برکت حاصل ہو جائے گی ۔ ملاحظہ ہو ابن حبان کی روایت میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه أنه سمع النبي ﷺ يقول: "إذا طعم أحدكم فسقطت لقمته من يده فليمط ما رابه منها وليطعمها ولا يدعها للشيطان ولا يمسح يده بالمنديل حتى يلعق يده فإن الرجل لا يدري في أي طعامه يبارك له وأن الشيطان يرصد الناس أو الإنسان على كل شيء حتى عند مطعمه أو طعامه ولا يرفع الصحفة حتى يلعقها أو يلعقها فإن في آخر الطعام البركة. (روابن حبان في صحيحه، رقم: ۵۲۵۳، قال الشيخ شعيب: حديث صحيح).
حضرت جابر
رضي الله عنه
سے منقول ہے حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر لے اور کھا لے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور فراغت پر انگلیوں کو چاٹ لے، اسے کیا معلوم کہ کھانے کے کس جزء میں برکت ہے ۔ اور شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس آتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی آتا ہے، اور برتن مت اٹھاؤ یہاں تک کہ اس کو چاٹ لو، یا دوسرے کو چٹا دو، اس لیے کہ کھانے کے آخری حصہ میں برکت ہوتی ہے ۔
وفي حديث ابن ماجة قال: لا يمسح أحدكم يده حتى يلعقها، فإنه لا يدري في أي طعامه البركة. (رقم: ۳۲۷۰) قال محمد فؤاد عبد الباقي: قوله فإنه لا يدري في أي طعامه البركة أي لا يدري أن البركة فيما على الأصابع أو في غيره فينبغي أن لا تضيع.
انگلیوں کے چاٹنے کی صحیح ترتیب:
انگلیوں کے چاٹنے کی صحیح ترتیب جو روایات میں وارد ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے درمیان والی سب سے بڑی انگلی کو چاٹا جائے، اس کے بعد شہادت کی انگلی کو، پھر انگوٹھے کو، نبی کریم ﷺ کی عادتِ مبارکہ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرمانے کی تھی اس لیے روایات میں تین ہی کا ذکر اس ترتیب سے ملتا ہے، اگر چوتھی یا پانچویں بھی استعمال ہو تو اسے انگوٹھے کے بعد چاٹ لیا جائے ۔
ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أنه ينبغي في لعق الأصابع الابتداء بالوسطي ثم السبابة ثم الإبهام كما جاء في حديث كعب بن عجرة رضي الله عنه رواه الطبراني في الأوسط قال: رأيت رسول الله ﷺ يأكل بأصابعه الثلاث قبل أن يمسحها بالإبهام والتي تليها والوسطي ثم رأيته يلعق أصابعه الثلاث فليعق الوسطي ثم التي تليها ثم الإبهام، وكان السبب في ذلك أن الوسطي أكثر الثلاثة تلويثاً بالطعام لا نها أعظم الأصابع وأطولها فينزل في الطعام منه أكثر مما ينزل من السبابة، وينزل من السبابة في الطعام أكثر من الإبهام لطول السبابة على الإبهام ويحتمل أن يكون البدء بالوسطي لكونها أول ما ينزل في الطعام لطولها. (عمدة القاري: ۱٤/٤۵۳، باب لعق الأصابع، ط: دار الحديث، ملتان).
روي الطبراني في الأوسط (۱٦٤۹) بسنده عن محمد بن كعب بن عجرة عن أبيه قال: رأيت رسول الله ﷺ يأكل بأصابعه ثلاث بالإبهام والتي تليها والوسطي ثم رأيته يلعق أصابعه الثلاث قبل أن يمسحها ويلعق الوسطي، ثم التي تليها ثم الإبهام.
حضرت کعب بن عجرہ
رضي الله عنه
سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے آپ ﷺ کو تین انگلیوں انگوٹھے، شہادت اور بیچ کی انگلی سے کھانا تناول فرماتے ہوے دیکھا، پھر میں نے ان تینوں کو چاٹتے ہوے دیکھا اس طور پر کہ پہلے بیچ والی کو پھر اس کے بعد والی شہادت کی انگلی کو پھر انگوٹھے کو چاٹا ۔
قال الهيثمي في "المجمع" (۵/۲۸، دار الفكر): رواه الطبراني في الأوسط وفيه الحسين بن إبراهيم الأذني ومحمد بن كعب بن عجرة ولم أعرفهما وبقية رجاله ثقات.
البحر الرائق
میں ہے:
ومن السنة لحس القصعة وأن يلعق أصابعه قبل أن يمسحها بالمنديل وتركه من أثر العجم والجبابرة. (البحر الرائق: ۸/۲۰۹).
(وكذا في رد المحتار: ٦/۳٤۰، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۳۳۷، والمحيط البرهاني: ۵/۲۰٤، والنتف في الفتاوى، ص ۲٤۳).
اسوۂ رسول اکرم میں ہے:
بعض روایات میں ہے کہ پہلے بیچ کی انگلی چاٹتے تھے اس کے بعد شہادت کی انگلی اس کے بعد انگوٹھا ۔ (خصائص نبوی) ۔ (اسوۂ رسول اکرم، ص
۱۱٦
) ۔
انگلیاں چاٹنے کا طبی فائدہ:
سنتِ نبوی اور جدید سائنس میں ہے:
انگلیوں کا چاٹنا بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ رطوبت ہاضم انگلیوں پر لگی رہتی ہے کچھ تو کھانے کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے اور باقی انگلیوں پر لگی ہوئی کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے سے منہ میں چلی جاتی ہے ۔
اگر انگلیوں کو چاٹا جائے تو آنکھوں، دماغ اور معدے پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے ۔
ایک فزیشن نے بتایا کہ میری تحقیق ہے کہ کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا واقعتاً دل کے امراض، معدے کے امراض اور دماغی امراض کے لیے مفید اور بطور علاج ہے تجربہ شرط ہے ۔ (سنتِ نبوی اور جدید سائنس:
۱
/
۱۱۲
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.