سویا سوس (چٹنی) کھانے کا حکم:

11 min readFatwa Vol 6 #231Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۱): أحكام الأكل والشرب

Question

مندرجہ ذیل طریقہ پر بنا ہوا سویا سوس حلال ہوگا یا نہیں؟ یاد رہے کہ یہ چٹنی وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے ۔
سویا سوس کے مکونات [ ingredients ]:
(۱) گیہوں ۔ (۲) نمک ۔ (۳) پانی ۔ (٤) سویا کی پھلی ۔
بنانے کا طریقہ: ۔
(۱) سویا کی پھلی کو پہلے پانی میں بھگویا جاتا ہے اور پھر تیز درجہ حرارت (ٹمپریچر) پر بھاپ دیا جاتا ہے ۔
(۲) گیہوں کو تیز ٹمپریچر پر بھونا جاتا ہے پھر اس کو پیسا جاتا ہے ۔
(۳) نمک کو پانی میں پگلایا جاتا ہے ۔
(٤) بھانپ دیا ہوا سویا بن اور گیہوں کو ملایا جاتا ہے اور تین دن تک چھوڑ دیا جاتا ہے، تاکہ سویا سوس کی بنیاد بنے، اس بنیاد کو شویو کوجی [ shoyu koji]کہا جاتا ہے ۔
(۵) اس بنیاد کو پھر نمک والے پانی کے ساتھ ملایا جاتا ہے، اس ملاوٹ کو مورومی [ moromi] کہا جاتا ہے ۔
(٦) مورومی[ moromi]کو چند ماہ تک چھوڑ دیا جاتا ہے، تاکہ وہ خود بخود جوش مارنے لگے جس کی وجہ سے ایک نرم جسم دار چیز وجود میں آئے ۔
اس وقت جب کہ مورومی[ moromi]خود بخود جوش مار کر شراب میں تبدیل ہو جاتا ہے پھر اس نرم جسم دار چیز کا حصہ بن جاتا ہے اور اخیر میں (فلٹر وغیرہ کے بعد ) سویا سوس میں تین فیصد تک پایا جا سکتا ہے ۔
(۷) جوش مارنے کے بعد اس نرم چیز پر دباؤ (پریشر) ڈالا جاتا ہے اور کپڑوں کی تہہ میں چھنا (فلٹر کیا ) جاتا ہے تاکہ یہ نرم جسم دار چیز الگ ہو جائے اور صرف سیال سویا سوس باقی رہے ۔
(۸) اس سیال سویا سوس کو پھر ۱۲۰ ڈگری آگ پر جوش دیا جاتا ہے تاکہ اس میں سے جراثیم وغیرہ ختم ہو جائے اور پھر اس کو بوٹل میں محفوظ کیا جاتا ہے ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا سوس حلال ہوگا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ آخر میں جو سویا سوس بنتا ہے اس میں تین فیصد شراب ہے لیکن یہ شراب سویا کی پھلی اور گیہوں کے ملانے سے وجود میں آئی ہے، اس لیے امام صاحب رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اس کے کھانے کی گنجائش ہو گی، اس لیے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک اشربہ اربعہ کے علاوہ سے بنی ہوئی شراب استعمال کرنا جائز ہے، جب تک مسکر نہ ہو متاخرین علماء نے عمومِ بلوی کی وجہ سے اسی قول پر فتوی دیا ہے ۔
مولانا فتح محمد صاحب رحمہ اللہ نے عطر ہدایہ میں ہے لکھا ہے کہ یہ دلیل کہ اکثر انگریزی دوائیں شراب سے مرکب ہوتی ہے کافی نہیں اس لیے کہ شراب وہی ہے جو ٹرب اور سرور کے لیے موضوع ہو نہ وہ کہ زہر کی طرح مہلک ہو میری تحقیق میں جو تیز جوہر انگریزی دوا میں ملایا جاتا ہے اور وہ اپنی اصطلاح میں اسے شراب کہتے ہیں ہرگز شراب نہیں ہو سکتا اس لیے کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ دوسرے اشربہ کی طرح پینے کی چیز نہیں ہے اگر استعمال ہو تو مثل زہر کے مہلک ہے پس ایسی شیٔ خمر کے حکم میں نہیں ہے رہا یہ امر کہ اس کے چند قطرے پانی وغیرہ میں ملا کر پینے سے سکر پیدا ہوتا ہے قبل از ترکیب موجبِ حرمت نہیں مثل ایسے شیروں کے جو ادنی ترکیب سے شراب بن سکتے ہیں نہ یہ حرام ہیں نہ نجس ۔ (عطر ہدایہ، ص
۹٦
، ط: مکتبہ عصریہ) ۔
بظاہر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی اس لیے کہ عام طور پر جو دوا میں ڈالا جاتا ہے اس کو ایتھائیل الکحل کہا جاتا ہے اور اس کا دوسرا نام ایثہنل ہے اور عام طور پر جب الکحل بولا جاتا ہے تو یہی مراد ہوتا ہے اور دوائیوں میں اس کا استعمال گھولنے کے لیے ہوتا ہے اور یہ ہی وہ چیز ہے جو شراب وغیرہ میں نشہ پیدا کرتی ہے ۔
ایتھنل [ ethanol] کی تعریف لغت میں درجِ ذیل الفاظ میں کی جاتی ہے:

A COLORLESS VOLATILE FLAMMABLE LIQUID C2 H5 OH THAT IS THE INTOXICATING AGENT IN FERMENTED AND DISTILLED LIQUOURS (AS BEER WINE WHISKY) CALLED ALSO ETHYL ALCOHOL.
(Websters High School Dictionary)

خلاصہ یہ ہے کہ ایتھنل ایک بے رنگ سیال چیز ہے جس میں جلنے کی صلاحیت ہے اور جلدی بخارات بن کر اڑ جاتی ہے اور شراب میں نشہ پیدا کرتی ہے ۔
انکاٹاانسائیکلوپیڈیامیں ہے:

ETHYL ALCOHOL OR ETHANOL C2 H5 OH, IS A CLEAR COLORLESS LIQUID, WITH A BURNING TASTE AND CHARACTERISTIC AGREEABLE ODOUR. (Microsoft Encarata 2008)

اس تعریف میں ایک زائد چیز یہ ہے کہ جس طرح ایثھنل میں جلنے کی صلاحیت ہے اسی طرح اس کے مزہ میں بھی جلن ہے ۔
جو ایتھنل پینے کے لیے بنایا جاتا ہے اس کو چاول یا جو وغیرہ خمیر[ yeast]کے ساتھ ملایا جاتا ہے تاکہ جوش پیدا ہو[fermentation]جس سے پھر ایتھنل پیدا ہوتا ہے البتہ اس کی مقدار بہت ہی کم بنتی ہے اس میں ایتھنل کی مقدار ۷ سے ۱۲ فیصد بنتی ہے ۔
کمرشل ایتھنل میں ۹۵ فیصد ایتھنل ہوتا ہے اس کو بنانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اوپر مذکور شیٔ کو خاص طور پر گرم اور ٹھنڈا کیا جاتا ہے [ distillation]تاکہ دوسری چیزیں علیحدہ ہو جائے جس کی وجہ سے ۹۵ فیصد ایتھنل اور ۵ فیصد پانی ہوتا ہے اس کے بعد پانی کو بھی الگ کر دیا جاتا ہے تاکہ ۱۰۰ فیصد ایتھنل ہو جائے ۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ۱۰۰ فیصد ایتھنل پیا نہیں جا سکتا اس میں انسانی آنتوں کے ہلاک ہو جانے کا خطرہ ہے اور اس بات کا بھی قوی اندیشہ ہے کہ پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دے ۔
اسی طرح ۱۰۰ فیصد نہ ہو بلکہ جتنی زیادہ مقدار شراب میں ہو گی اتنا زیادہ نقصان ہوگا ۔
بعض سائنس داں نے لکھا ہے کہ الکحل کو تھوڑا استعمال کرنا فائدہ مند ہے اور صحت کے لیے بھی مفید ہے حتی کہ دل کی بیماری [coronary heart disease]سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے ۔ البتہ زیادہ مقدار میں دیر تک استعمال کرنے سے بہت ساری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن میں سے جگر کا نقصان، دل کے عضلہ کا نقصان، اسی طرح موت واقع ہونے کا بھی اندیشہ ہے ۔
مذکورہ بالا تحقیق سے واضح ہوا کہ خالص ۱۰۰ فیصد ایتھنل جسم کے لیے مضر ہے اور اس کو پیا بھی نہیں جا سکتا ۔
البتہ شراب وغیرہ میں جو سکر ہوتا ہے وہ بعینہٖ اسی ایتھنل کا اثر ہوتا ہے بلا کسی چیز کے ملائے جیسا کہ اس کی تعریف سے پتا چلتا ہے، سکر پیدا کرنے کے لیے اس کوکسی چیز سے ترکیب دینے کی ضرورت نہیں ہے، لہذا اس کو شیروں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس میں ترکیب سے پہلے ہی سکر کی صلاحیت ہے، ہاں دواؤں اور بعض مشروبات میں الکحل استعمال ہوتا ہے وہ بہت قلیل مقدار میں ہوتا ہے اس وجہ سے نشہ آور نہیں ہوتا اور امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے استعمال کی گنجائش ہے ۔ متاخرین علماء نے بھی اسی پر فتوی دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:

وأما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله.
وبهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (
Alcohols
) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير منا لأدوية والعطور والمركبات الأخرى، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، وإن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله، ولا يحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لا نها إنما تستعمل مركبة مع المواد الأخرى، ولا يحكم بنجاستها أخذاً بقول أبي حنيفة رحمه الله.
وإن معظم الكحول التي تستعمل اليوم في الأدوية والعطور وغيرها لا تتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغيره، كما ذكرنا في باب بيع الخمر من كتاب البيوع، وحينئذٍ هناك فسحة في الأخذ بقول أبي حنيفة رحمه الله عند عموم البلوي. والله أعلم. (تكملة فتح الملهم: ۳/٦۰۸، ط: دار العلوم كراتشي).

احسن الفتاوی میں ہے:
اسپرٹ اگر انگور کشمش یا کھجور سے حاصل کی گئی ہو تو بالاتفاق نجس ہے اور ان کے سوا کسی دوسری چیز سے بنائی گئی ہو تو شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک پاک اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نجس ہے، تحقیق سے معلوم ہوا کہ آج کل اسپرٹ اور الکحل کے لیے انگور اور کھجور استعمال نہیں کی جاتی لہذا شیخین رحمہ اللہ کے قول کے مطابق پاک ہے، حضراتِ فقہاء رحمہ اللہ نے اگر چہ فسادِ زمان کی حکمت کی بنا پر امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو مفتی بہ قرار دیا ہے مگر آج کل ضرورتِ تداوی و عمومِ بلوی کی رعایت کے پیش نظر شیخین رحمہ اللہ کے قول پر طہارت کا فتوی دیا جاتا ہے ویسے بھی اصول فتوی کے لحاظ سے قولِ شیخین رحمہ اللہ کو ترجیح ہوتی ہے الا لعارض ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۹۵) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (نظام الفتاوی: ۱/۳۵۳، و بہشتی زیور: ۹/۷۷٦، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.