شیلک [ SHELLAC]کھانے کا حکم:

15 min readFatwa Vol 6 #234Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۱): أحكام الأكل والشرب

Question

کیڑے مکوڑوں سے حاصل شدہ رطوبات کا کیا حکم ہے؟
ایک کثیر الاستعمال رطوبت شیلک [
SHELLAC
]ہے، ہماری تحقیق کے مطابق یہ رطوبت خالص کیڑے کی نہیں بلکہ جس درخت پر یہ کیڑا ہوتا ہے اس درخت کے بعض اجزاء بھی اس میں شامل ہوتے ہیں ۔
کیا خالص کیڑے کی رطوبت اور کیڑے کے اجزاء کے ساتھ مخلوط رطوبت میں کوئی فر ق ہوگا یا نہیں؟
شیلک کے متعلق ضروری وضاحت:
شیلک[
SHELLAC
] ایک اجزائے ترکیبی ہے جو (lac) لاکھ نامی کیڑے کا لعاب ہے ۔
لاکھ نامی کیڑا اپنا لعاب درختوں پر بناتا ہے اور یہ لعاب سخت مادہ کی شکل اختیار کر جاتا ہے، اس سخت مادہ کو جب درختوں سے اتارا جاتا ہے تو بعض اوقات لاکھ کے مرے ہوے کیڑے اور اس کے انڈے بھی اس مادہ کے ساتھ چپکے ہوے ہوتے ہیں، پھر اس مادہ کو آگ پر پگھلانے کے بعد اس مواد کو فلٹر کیا جاتا ہے، اور ۹۰ فیصد تک یقین ہوتا ہے کہ اس فلٹر شدہ مواد میں مذکورہ کیڑے کے اجزاء باقی نہیں رہے ہوں گے ۔ البتہ یہ احتمال ہے کہ پگھلانے کی وجہ سے ان مردہ کیڑوں کے جسم کا مادہ بھی اس مواد میں شامل ہو گیا ہو ۔
کیا مذکورہ طریقہ سے حاصل شدہ مواد کا کھانا حلال ہے؟
٭ اس کیڑے کے مؤنث مادے میں ایک قسم کا پانی ہوتا ہے اسے (lace dye) لیس ڈائے کہتے ہیں یہ لیس ڈائے، بھی کھانے کی چیزوں میں بطورِ رنگ استعمال ہوتا ہے، لیکن اس رطوبت سے رنگ بنانے کا خاص طریقہ ہے ۔
اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ جب یہ رطوبت کیڑے سے نکلتی ہے تو اس کے ارد گرد ایک قسم کا غلاف /پردہ ہوتا ہے اسے پیسا جاتا ہے اور چھلنی کے ذریعہ صاف کیا جاتا ہے پھر بڑے بڑے مٹکوں میں رکھ کر بار بار دھویا جاتا ہے، پھر رنگ حاصل کیا جاتا ہے ۔
یہ رنگ کھانے کی مختلف چیزوں میں استعمال ہوتا ہے مثلاً:
(الف) دوائیاں وغیرہ، گولی، کیپسول وغیرہ پر یہ رنگ چڑھاتے ہیں تاکہ کھل نہ جائے ۔
(ب) مٹھائیاں وغیرہ پر یہ رنگ محض زینت کے لیے لگایا جاتا ہے ۔
(ج) پھل: ۔ سیب وغیرہ کو چمکانے کے لیے یہ رنگ استعمال ہوتا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
اب اس رنگ کے استعمال کا، اور اس سے تیار شدہ اشیاء کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
تنبیہ: ایک اندازہ کے مطابق شیلک کی سالانہ کھپت تقریباً پچاس ہزار ٹن ہے ۔ اتنی کثرت سے دواؤں اور غذاؤں میں استعمال ہوتا ہے ۔
کیا کیڑے مکوڑے سے حاصل شدہ اشیاء حلال ہیں یا حرام؟
فی زماننا کیڑے مکوڑوں کو پیس کر اس سے حاصل شدہ رطوبت سے رنگ نکالا جاتا ہے اس رنگ کے استعمال کی اجازت ہو گی یا نہیں؟
٭ کیڑے مکوڑوں سے حاصل شدہ رنگ جو اشیائے خوردنی میں استعمال ہوتا ہے، جس کو کو چینل، کار من کہتے ہیں یہ کثیر الاستعمال ہے، اس کے بنانے کی ترکیب درجِ ذیل ہے:
کیڑے مکوڑوں کو ابلتے ہوے پانی یا تیز دھوپ میں ڈالتے ہیں، پھر انہیں خاص طریقہ پر خشک کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کے جسم کا ۳۰ فیصد حصہ باقی رہ جاتا ہے یہ اس وجہ سے کیا جاتا ہے تاکہ وہ سڑ نہ جائیں، اس طرح سے ایک کلورنگ حاصل کرنے کے لیے ایک لاکھ پچپن ہزار (۱۵۵۰۰۰) کیڑوں کو استعمال کیا جاتا ہے، یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ مختلف طریقوں سے رنگ تیار ہوتے ہیں اب رنگ تیار ہونے کے بعد اس رنگ کے استعمال کا شرعاً کیا حکم ہے؟

Answer

شیلک (
SHELLAC
) کے مذکورہ طریقہ سے حاصل شدہ مواد دواؤں اور غذاؤں میں استعمال کرنا حلال اور جائز ہے ۔ نیز دیگر رطوبات کا استعمال کرنا بھی درجِ ذیل چند وجوہات کی بنا پر جائز ہے ۔
(پہلی وجہ) حشرات الارض اور ان کی رطوبات کی حرمت کی اصل علت استقذار ہے، یعنی گھن محسوس ہونا اور طبائعِ سلیمہ کا ان سے نفرت کرنا ۔ اور اتنی کثیر مقدار کے مادہ میں اتنی قلیل مقدار کیڑوں کا پگھل کر اس مادے میں مل جانا عرفاً مستخبث (گھن) نہیں سمجھا جاتا، جب کہ ان کیڑوں کی حرمت کی دلیل ہی ان کا مستخبث ہونا ہے اور جب حرمت کی دلیل ہی باقی نہیں رہی تو حرمت کا قول بھی شرعاً درست نہ رہا الا یہ کہ کوئی اور علت یعنی نجاست یا ضرر یا نشہ وغیرہ ہو تو الگ مسئلہ ہے لیکن یہاں ندارد ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن سلمان رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: يا سلمان كل طعام وشراب وقعت فيه دابة ليس لها دم فماتت فهو الحلال أكله وشربه ووضوؤه"،

قال أبو أحمد: الأحاديث التي يرويها سعيد الزبيدي عامتها ليست بمحفوظة. (رواه البيهقي في الكبري: ۱/۲۵۳، وضعفه).
ورواه الدارقطني (۱/۳۷) وضعفه. قال الشيخ ابن الهمام رحمه الله في فتح القدير (۱/۸۳، ط: دار الفكر): والحديث مع هذا لا ينزل عن الحسن.
وللمزيد من البحث راجع: (البدر المنير: ۱/٤۵۵، الحديث الرابع، والتلخيص الحبير: ۱/۱٦۳/۱۳، ونصب الراية: ۱/۱۱۵).

مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ جس کھانے یا پینے میں جانور (کیڑے، مکوڑے، مکھی، مچھر وغیرہ جن میں دمِ سائل نہیں ہے) گر کر مر جائے تو اس طعام و مشروب کا کھانا پینا حلال ہے، اب ظاہر بات ہے کہ مرے ہوے جانور کے کچھ اجزاء یقیناً کھانے، پینے میں گھل مل گئے ہوں گے ۔ لیکن چونکہ قلیل ہونے کی وجہ سے مستقذر نہیں ہیں ۔
ملاحظہ ہو امام غزالی رحمہ اللہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:

وما لم يذبح ذبحاً شرعياً أو مات فهو حرام ولا يحل إلا ميتتان: السمك والجراد، وفي معناهما ما يستحيل من الأطعمة كدود التفاح والخل والجبن فإن الاحتراز منهما غير ممكن فأما إذا أفردت وأكلت فحكمها حكم الذباب والخنفساء والعقرب وكل ما ليس له نفس سائلة لا سبب في تحريمها إلا الاستقذار ولو لم يكن لكان لا يكره فإن وجد شخص لا يستقذره لم يلتفت إلى خصوص طبعه فإنه التحق بالخبائث لعموم الاستقذار فيكره أكله كما لو جمع المخاط وشربه كره ذلك وليست الكراهة لنجاستها فإن الصحيح أنها لا تنجس بالموت إذ أمر رسول الله ﷺ بأن يمقل الذباب في الطعام إذا وقع فيه

وربما يكون حاراً ويكون ذلك سبب موته ولو تهر ت نملة أو ذبابة في قدر لم يجب إراقتها إذ المستقذر هو جرمه إذا بقي له جرم ولم ينجس حتى يحرم بالنجاسة وهذا يدل على أن تحريمه للاستقذار. (إحياء علوم الدين: ۲/۹۳، أصناف الحلال، ط: مصطفي الباني الحلبي).

امام غزالی رحمہ اللہ کی عبارت سے بخوبی واضح ہوا کہ حشرات الارض کی حرمت کی علت فقط استقذار ہے ۔
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ رقم طراز ہے:
جاننا چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ میں استعمال کے منع ہونے کی وجہیں چار ہیں: (۱) نجاست جیسے پیشاب پا خانہ وغیرہ میں ۔ (۲) مضر ہونا جیسے سنکھیا میں اور (۳) استخباث یعنی طبیعتِ سلیمہ کا اس سے گھن کرنا جیسے کیڑے مکوڑوں میں اور (٤) نشہ لانا ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۹۸، ط: دار الاشاعت) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
اور جب خبیث اور غیر خبیث مل جاویں تو اگر استخباث باقی رہے تو حرمت کا ورنہ حلت کا حکم ہوگا، جیسے دیگ میں مکھی پڑ جائے کہ اگر مکھی شوربے میں حل نہیں ہو گئی تو اس مکھی کا کھانا جائز نہیں اور اگر وہ گھل مل گئی تو ایک دیگ میں مکھی کا مل جانا عرفاً مستخبث نہیں لہذا وہ شوربا حلال ہے حالانکہ اجزاء مکھی کے اس میں بالیقین موجود ہیں ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۱۰۸، ط: دار الاشاعت) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

العرق إذا تقاطر في العجين فالقليل منه لا يمنع الأكل. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳۹).
البحر الرائق
میں ہے:

وسئل (علي بن أحمد) عن عرق الآدمي ونخامته ودمعه إذا وقع في المرقة أو في الماء هل يأكل المرقة ويشرب الماء قال: نعم، مالم يغلب ويصير مستقذراً طبعاً. (البحر الرائق: ۸/۳۳۹، والفتاوى الهندية: ۵/۳۳۹).

مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اشیائے مستقذرہ کی قلیل مقدار جب کثیر مقدار شوربے یا پانی وغیرہ میں مخلوط ہو جائے تو عام طور پر مستقذر نہیں رہتی بلکہ مغلوب ہو جاتی ہے اس کی وجہ سے اس شوربہ وغیرہ کا کھانا پینا جائز ہوتا ہے ۔
بہشتی زیور میں ہے:
مسئلہ: کیڑوں کے لعاب سے بعض پیدا شدہ چیزیں جن سے استقذار یعنی گھن نہ ہو حلال ہیں جیسے ابریشم، شکر تغال وغیرہ للنص علی حلۃ العسل ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص: ۱۰٤، دار الاشاعت) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
چونکہ حشرات الارض کی حرمت کی اصل علت استخباث ہے اور یہ قلیل مقدار میں پائی جاتی ہے، طعام و شراب کثیر مقدار میں ہو تو یہ علت نہیں پائی جاتی، لہذا بڑی دیگ میں مکھی گر جائے تو اس کا استعمال جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۸/۱۲۹) ۔
مذکورہ بالا عبارات کی روشنی یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ شیٔ مستقذر غیر کے ساتھ مل کر گھل جائے اور جسم باقی نہ رہے اور استقذار بھی محسوس نہ ہو تو اس صورت میں اس کے حلال ہونے کا حکم لگایا جائے گا ۔ ورنہ نہیں ۔
(دوسری وجہ) دوسری وجہ یہ ہے کہ اس مادہ سے کیڑوں کا علیحدہ کرنا انتہائی مشکل ہے بنا بریں عمومِ بلوى کی وجہ سے شیلک ملی ہوئی غذا یا دوا کے استعمال کا حکم لگایا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو
نفع المفتي والسائل
میں ہے:

الاستفسار: هل يحل أكل الدودة التي تكون في التفاح وغيره معه؟
الاستبشار: نعم، لتعسر الاحتراز منه، وأما إذا أفردت وأكلت فحكمها حكم الذباب، كذا في مطالب المؤمنين. (نفع المفتي والسائل، ص ۳۷۹).

لیکن راجح قول کے مطابق روح پھونکے جانے کے بعد کیڑے کا کھانا ناجائز ہے ۔
كما مر تفصيله
۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

سن آدمي طحن في وقر حنطة لا يؤكل ولا يؤكله البهائم بخلاف ما يقشر من جلدة كفه قدر جناح الذباب أو نحوه واختلط بالطعام للضرورة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳۹).
وفي البحر: واستدل مشايخنا أيضاً على أصل المسألة بما عن سلمان رضي الله عنه قال: يا سلمان كل طعام وشراب وقعت فيه دابة ليس لها دم فماتت فهو حلال أكله وشربه ووضوؤه. (البحر الرائق: ۱/۱٦۱، بيروت).

فیض القدیر میں ہے:

وجوز الشافعية أكل دود نحو الفاكهة معها حياً وميتاً إن عسر تمييزه ولا يجب غسل الفم منه وظاهر هذا الحديث أن السوس يطلق عليه اسم الدود وعكسه. (فيض القدير: ۵/۲٤۵).

(تیسری وجہ) شہد کی مکھی پر قیاس کرتے ہوے بھی شیلک کا استعمال جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے، یعنی شہد کا استعمال منصوص ہے اور عموماً چھتہ سے نکالتے وقت شہد کی مکھیوں کی کچھ نہ کچھ ریزش بھی شامل ہوتی ہے جس کو شہد کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، عام طور پر اس کا جدا کرنا مشکل ترین ہوتا ہے ۔
ملاحظہ ہو احکام القرآن میں ہے:

قوله تعالى: ﴿ويخرج من بطونها شراب مختلف ألوانه فيه شفاء للناس﴾ فيه بيان طهارة العسل ومعلوم أنه لا يخلو من النحل الميت وفراخه فيه وحكم الله تعالى مع ذلك بطهارته فأخبر عما فيه من الشفاء للناس. (أحكام القرآن للامام الجصاص رحمه الله: ۳/۲۷۳).

(چوتھی وجہ) حشرات الارض کی حرمت منصوص اور مدلل بدلیل مستقل نہیں ہے، بلکہ بعلتِ استخباث و استقذار حرام کہا گیا ہے ۔ (روح المعانی: ۵/۷٦، و فتاوی الشامی: ٦/۳۰۵، سعید، و المبسوط: ۱۱/۲۵٤، و احکام القرآن للجصاص: ۳/۲۰) ۔
چنانچہ مالکیہ وغیرہ کے نزدیک حلال ہے لہذا مجتہد فیہ مسئلہ میں بوقتِ ضرورت گنجائش ہونی چاہیے ۔ ملاحظہ ہو:
مدونہ میں ہے:

ولقد سئل مالك عن شيء يكون في المغرب يقال له الحلزون يكون في الصحاري يتعلق بالشجر أ يؤكل؟ قال: أراه مثل الجراد ما أخذ منه حياً فسلق أو شوي فلا أدري بأكله بأساً، وما وجد منه ميتا فلا يؤكل. (المدونة: ۱/۵٤۲، ط: دار الكتب العلمية بيروت).
قال في مواهب الجليل: قال مالك رحمه الله: حشرات الأرض مكروهة. (مواهب الجليل: ٤/۳٤۹).
قال في الذخيرة: ولا بأس بأكل خشاش الأرض وهو مما إذا ذكيت ذكاة الجراد وتؤكل الضفادع

(الذخيرة: ٤/۱۰۳، ط: بيروت).
وفي النتف في الفتاوى: وأما حشرات الأرض فإنها محرمة في قول أبي حنيفة رحمه الله وأصحابه ومحللة في قول أبي عبد الله وسائر الناس إلا أنها مكروهة مثل الحية والضب

الخ. (النتف في الفتاوى، ص ۱۵۰، بيروت).
قال في المجموع: مذهب العلماء في حشرات الأرض

مذهبنا أنها حرام وبه قال جمهور العلماء منهم

أبو حنيفة رحمه الله وأحمد رحمه الله وداود رحمه الله وقال مالك رحمه الله: حلال. (المجموع: ۹/۱٦).
وفي المغني لا بن قدامة: من المستخبثات الحشرات كالديدان والجعلان وبنات وردان والخنافس والفار والأوزاغ والحرباء

وبهذا قال أبو حنيفة رحمه الله والشافعي رحمه الله ورخص مالك رحمه الله وابن أبي ليلي رحمه الله والأوزاعي رحمه الله في هذا كله إلا الأوزاغ فإن ابن عبد البر قال هو مجمع على تحريمه وقال مالك: الحية حلال إذا ذكيت واحتجوا بعموم الآية المبيحة. (المغني: ۱۱/ ٦۴).
وللاستزادة انظر: (حاشية الدسوقي: ۱/۸۲، بيروت، والتاج والإكليل: ۱/۱۲۲، والفواكه الدواني: ۱/٤۰۲، دار الفكر).

(پانچویں وجہ) اگر اس میں انقلابِ حقیقت ہو جاتا ہے تو پھر اس کا داخلی استعمال بالکل جائز اور درست ہے، اور انقلابِ حقیقت کی تفصیلات جلاٹین کے مسئلہ کے تحت ملاحظہ فرما لیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.