"آراء المتخصصين والمفتين في تحقيق جلاتين" - جلاٹین کا شرعی حکم ماہر اطباء کی تحقیقات کی روشنی میں
Question
جلاٹین کی فیکٹری میں جلاٹین مختلف کھالوں سے بنائی جاتی ہے، جن میں تقریباً ۹۰/ ۹۵ فیصد ان حیوانات کی کھالیں ہوتی ہیں، جو شرعی طریقے پر ذبح نہیں کیے جاتے، اور ان کے تمام اجزاء غیر ماکول ہوتے ہیں، انہیں حیوانات کی کھالوں کو مختلف جگہوں پر مختلف مشینوں میں صاف کیا جاتا ہے، ان کے بال اتارے جاتے ہیں، ان کو چونے کے پانی میں رکھا جاتا ہے تاآنکہ وہ چمڑا بالکل صاف ہو جاتا ہے، پھر اس کو لوہے کے بڑے بڑے ٹینکوں میں ڈال کر پگھلایا جاتا ہے، پھر اس کو جما کر دھاگوں کی طرح اور پھر شکر کی طرح بنایا جاتا ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کیا اس قسم کی جلاٹین کو غذاؤں میں استعمال کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
Answer
مسئلہ مذکورہ بالا کا مدار انقلابِ عین اور تبدیل ماہیت پر ہے، اگر کھالوں اور ہڈیوں کو مراحل سے گزارتے وقت تبدیل ماہیت کا تحقق ہو جاتا ہے تو اس کا کھانا اور غذاؤں میں استعمال کرنا جائز ہوگا، ورنہ نہیں ۔ کیوں کہ شریعت نے جن اشیاء کو حرام قرار دیا تھا اگر ان کی حقیقت اور ماہیت تبدیل ہو جائے تو سابق حکم باقی نہیں رہتا ہے ۔ کسی چیز کے وہ خصوصی اور بنیادی اوصاف جن سے اس چیز کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے، وہی اس چیز کی حقیقت اور ماہیت ہیں ۔
اور جلاٹین میں تبدیل ماہیت سے متعلق معاصرین اطباء کا اختلاف ہے ۔ اکثر حضرات نے تحقیقات کے ذریعہ ثابت کر دیا کہ جلاٹین میں ان جانوروں کی کھالوں اور ہڈیوں کی حقیقت باقی نہیں رہتی ہے جن کے کولاجن سے جلاٹین بنائی جاتی ہے، بلکہ وہ ایک نئی چیز میں تبدیل ہو جاتی ہے، اس لیے اس کے استعمال کی گنجائش ہو گی ۔
مگر بعض اطباء کی تحقیق یہ ہے کہ جلاٹین میں انقلابِ عین نہیں پایا جاتا ۔ بنا بریں اختلاف کے پیش نظر اس قسم کے جلاٹین کے استعمال سے بچنا اولی اور احوط ہے ۔
انقلابِ عین اور تبدیل ماہیت کی حقیقت:
انقلابِ حقیقت کا مطلب فقہاء کے نزدیک یہ ہے کہ کسی چیز کا پہلا مفہوم اور مصداق یا تو بالکل فنا ہو کر دوسرے مفہوم اور حقیقت میں بدل جائے، یا اس کے مفہوم اور حقیقت کے بعض اجزاء اور مخصوص آثار فنا ہو جائے،
ملاحظہ ہو محقق ابن ہمام رحمہ اللہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
لأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة، وتنتفي الحقيقة بانتفاء بعض أجزاء مفهومها فكيف بالكل؟ فإن الملح غير العظم واللحم، فإذا صار ملحاً ترتب حكم الملح. ونظيره في الشرع: النطفة نجسة وتصير علقة وهي نجسة، وتصير مضغة فتطهر، والعصير طاهر فيصير خمراً فينجس، فتصير خلاً فيطهر، فعرفنا أن استحالة العين تستتبع زوال الوصف المترتب عليها. وعلي قول محمد رحمه الله فرعوا الحكم بطهارة صابون صنع من زيت نجس. (فتح القدير: ۱/۲۰۰، دار الفكر).
قال ابن رشد: إنه قد علم من ضرورة الشرع أن الأحكام المختلفة إنما هي لذوات المختلفة، وأن الخمر غير ذات الخل، والخل بإجماع حلال، فإذا انتقلت ذات خمر إلى ذات الخل، وجب أن يكون حلالاً كيفما انتقل. (بداية المجتهد: ۱/۳٤۹، كتاب الأطعمة).
البحر الرائق
میں ہے:
السابع: انقلاب العين فإن كان في الخمر فلا خلاف في الطهارة وإن كان في غيره كالخنزير والميتة تقع في المملحة فتصير ملحاً يؤكل، والسرقين والعذرة تحترق فتصير رماداً تطهر عند محمد رحمه الله خلافاً لابي يوسف وضم إلى محمد رحمه الله أبا حنيفة رحمه الله في المحيط وكثير من المشايخ اختاروا قول محمد رحمه الله وفي الخلاصة وعليه الفتوى، وفي فتح القدير: أنه المختار لأن الشرع رتب وصف النجاسة
وفي المجتبى جعل الدهن النجس في صابون يفتي بطهارته لأنه تغير والتغيير يطهر عند محمد رحمه الله ويفتي به للبلوى. (البحر الرائق: ۱/۲۲۷، كوئته).
نفع المفتي والسائل
میں ہے:
المطهر الثامن، انقلاب العين: فالخمر إذا صار خلاً يطهر؛ لأنه شيء آخر. والخنزير والحمار وقع في المملحة صار ملحاً يطهر، كما في الهداية، هذا عندهما، وعند أبي يوسف رحمه الله: لا يطهر، كذا قال العيني رحمه الله عن الذخيرة، وفي رسائل الأركان: أما انقلاب العين فتطهر الخمر اتفاقاً بالتخليل، وفي غيرها خلاف، والفتوى على قول محمد رحمه الله انتهي، مختصراً، وفي خزانة الروايات عن التاتارخانية عن الظهيرية: العذرات إذا دفنت في موضع حتى صارت تراباً، قيل: تطهر. انتهي. (نفع المفتي والسائل، ص ۱٤۳، دار ابن حزم).
وفي إعانة الطالبين قال: المسك دم استحال طيباً، والعلقة والمضغة أصلهما وهو المني، دم مستحيل، واللبن أصله دم. قلت: فدم الغزال الذي يخرج منه الطيب تغير إلى غير ما طبع الدم، فطبع الدم السيولة والرقة، كما تغير المسك إلى غير وصف الدم، فالدم لونه أحمر ورائحته غير رائحة المسك، وكذلك الطعم مختلف، ومثل هذا يقال في العلقة والمضغة، وفي اللبن، اهـ.
وكذلك قال أهل التفسير: قال ابن كثير في قوله تعالى: ﴿فانظر إلى طعامك وشرابك لم يتسنه﴾ [البقرة: ۲۵۹]، قال: فوجده طعامه لم يتغير منه شيء: لا العصير استحال، ولا التين حمض ولا انتن، اهـ.
وكذلك قال أهل الحديث، فقد قال ابن حجر رحمه الله في فتح الباري: تقريره أن اللبن خالط الفرث والدم، ثم استحال فخرج خالصاً طاهراً، اهـ. قلت: يشير إلى قول الله تعالى: ﴿نسقيكم مما في بطونه من بين فرث ودم لبناً خالصاً سائغاً للشاربين﴾ [النحل: ٦٦].
يبين أن طبع اللبن غير طبع الفرث، وغير طبع الدم سواء من حيث الرقة والسيولة أو من حيث الرائحة والطعم وغيرهما. ومن هنا عرفنا أن التعريف المختار للاستحالة اصطلاحاً هو: تغير الشيء من طبعه ووصفه إلى طبع آخر ووصف آخر. (مأخوذ من مجلة المجمع الفقهي الإسلامي، ص ۱۸۹. ۱۹۰، الاستحالة وأحكامها في الفقهي الإسلامي).
مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
الخمائر والجلاتين المتخذة من الخنزير: إن كان العنصر المستخلص من الخنزير تستحيل ماهيته بعملة كيمياوية، بحيث تنقلب حقيقته تماماً، زالت حرمته ونجاسته، وإن لم تنقلب حقيقته بقي على حرمته ونجاسته، لأن انقلاب الحقيقة مؤثر في زوال الطهارة والحرمة عند الحنفية. (بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ۱/۳٤۱، مكتبة دار العلوم كراتشي).
للمزيد من البحث راجع: (بدائع الصنائع: ۱/۸۵، سعيد، ومجلة المجمع الفقهي الإسلامي، ص ۱۸۹. ۱۹۰، الاستحالة وأحكامها في الفقهي الإسلامي، والموسوعة الفقهية: ۱۰/۲۷۸، والفقه الإسلامي وأدلته: ۱/۱۰۰، دار الفكر، وجديد فقهي تحقيقات، از اسلامك فقه اكيڈمي انڈيا مرتبه: حضرت مولانا قاضي مجاهد الإسلام قاسمي رحمه الله، ط: كتب خانه نعيميه، ديوبند).
انقلابِ حقیقت سے متعلق حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تحریر چشم کشا ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
انقلابِ حقیقت سے مراد یہ ہے کہ وہ شے فی نفسہٖ اپنی حقیقت چھوڑ کر کسی دوسری حقیقت میں متبدل ہو جائے جیسے شراب سرکہ ہو جائے یا خون مشک بن جائے یا نطفہ گوشت کا لوتھڑا وغیرہ وغیرہ کہ ان صورتوں میں شراب نے فی نفسہٖ اپنی حقیقتِ خمریہ اور خون نے اپنی حقیقتِ دمویہ اور نطفہ نے اپنی حقیقتِ منویہ چھوڑ دی اور دوسری حقیقتوں میں متبدل ہو گئے حقیقت بدل جانے کا حکم اسی وقت دیا جا سکتا ہے کہ حقیقتِ اولی منقلہ کے آثارِ مختصہ اس میں باقی نہ رہیں جیسا کہ امثلہ مذکورہ میں پایا جاتا ہے کہ سرکہ بن جانے کے بعد شراب کے آثارِ مختصہ بالکل زائل ہو جاتے ہیں ۔
بعض آثار کا زائل ہو جانا یا بوجہ قلت آثار کا محسوس نہ ہونا موجبِ انقلاب نہیں جیسا کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر آٹے میں کچھ شراب ملا کر گوندھ لیا جائے اور روٹی پکا لی جائے تو وہ روٹی ناپاک ہے یا گھڑے دو گھڑے پانی میں تولہ دو تولہ شراب یا پیشاب ملا دیا جائے تو وہ پانی ناپاک ہے حالانکہ روٹی یا پانی میں اس قلیل المقدار شراب کا کوئی اثر محسوس نہ ہوگا لیکن چونکہ شراب نے ان صورتوں میں فی نفسہٖ اپنی حقیقت نہیں چھوڑی ہے اس لیے ناپاکی کا حکم باقی ہے اور محسوس نہ ہونا بوجہ قلت اجزاء کے ہے چونکہ شراب کے اجزاء کم اور آٹے کے زیادہ اس لیے وہ روٹی میں محسوس نہیں پس یہ اختلاط ہے نہ کہ انقلاب ۔
اسی طرح حقیقتِ منقلبہ کی بعض کیفیات غیر مختصہ کا باقی رہنا مانع انقلاب نہیں جیسے شراب کے سرکہ بن جانے کے بعد بھی اس کی رقت باقی رہتی ہے یا صابون میں قدرے دسومت روغن نجس کی باقی رہتی ہے کیوں کہ رقت حقیقتِ خمریہ کے ساتھ اور دسومت حقیقتِ دہنیہ کے ساتھ مختص نہیں ہے، پس انقلابِ عین کی وجہ سے تبدل احکام کا حکم کرتے وقت بہت غور و احتیاط سے کام لینا ضروری ہے کیوں کہ بسا اوقات انقلاب و اختلاط میں اشتباہ پیش آ جاتا ہے اور انقلاب کو اختلاط یا اختلاط کو انقلاب سمجھ لیا جاتا ہے ۔ واللہ الموفق ۔ (کفایت المفتی: ۲/۳۳۳، ط: دار الاشاعت، کراچی) ۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ رقم طراز ہے:
تبدیل ماہیت کا بیان: تبدیل ماہیت سے احکام بھی بدل جاتے ہیں مثلاً انگور کا پانی پاک ہے لیکن جب کہ وہ ایک دوسری یعنی شراب بن گیا تو وہ نجس ہو گیا اور شراب جب پھر دوسری چیز بن گئی، یعنی سرکہ ہو گئی تو پاک ہو گئی ۔ تبدیل ماہیت کے یہ معنی ہیں کہ ایک چیز سے ایسی دوسری چیز بن جائے جس کا حکم شیٔ اول کے بالکل خلاف ہے، مثلاً ناپاک چیز ایک ایسی چیز کی طرف مستحیل ہو گئی کہ وہ چیز پاک ہے تو وہ ناپاک چیز پاک ہو گئی جیسے کھاد ناپاک ہے مگر جب مٹی ہو گیا تو مٹی ایک پاک چیز ہے تو وہ پاک ہو گیا، یا انڈا پاک ہے مگر خون بن گیا اور خون ایک ناپاک چیز ہے تو انڈا ناپاک ہو گیا اور جب اس خون کا مضغہ گوشت بن گیا تو گوشت پاک چیز ہے پھر پاک ہو گیا، اور اگر انقلاب ایسی چیز کی طرف ہوا جس کا حکم ویسا ہی ہے جیسا اس کا قبل انقلاب کے تھا تو وہ ہی حکم رہے گا پاک تھی تو پاک ناپاک تھی تو ناپاک مثلاً پاک ہڈی جل کر راکھ ہو گئی تو انقلاب تو ہوا مگر حکم وہی رہا کیوں کہ راکھ بھی پاک ہے، اور اگر نطفہ خون بن گیا تو انقلاب تو ہوا مگر ناپاک کا ناپاک کی طرف اور حکم بدستور رہا، ہاں جب مضغہ گوشت بن گیا تو پاک ہو گیا کیونکہ مضغہ گوشت پاک ہے اور اگر انقلاب ہی ناتمام ہوا تو یعنی دوسری چیز مغائر شیٔ اول کے نہیں بن گئی صرف ایک گنا تبدیلی ہو گئی تو احکام نہ بدلیں گے جیسے ناپاک گیہوں کی روٹی پکا لی کہ بجائے گیہوں کی صورت کے روٹی کی صورت پیدا ہو گئی لیکن یہ دوسری چیز بن جانا نہیں سمجھا جاتا ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۷۸۲، ط: دار الاشاعت) ۔
لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ نے انقلابِ حقیقت سے اشیاء کی طہارت کو عمومِ بلوى کے ساتھ خاص کر دیا ہے، یعنی جس چیز میں ابتلائے عام ہو گی وہاں تو طہارت کا حکم لگایا جائے گا لیکن جس چیز میں عام ابتلا نہ ہو تو وہاں طہارت کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔ ملاحظہ فرمائیے:
قد ذكر هذه المسألة العلامة قاسم في فتاواه، وذكر الأدلة على ذلك بما لا مزيد عليه، وحقق ودقق كما هو دأبه رحمه الله تعالى، فليراجع.
ثم هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختارها اكثر المشايخ خلافاً لابي يوسف رحمه الله كما شرح المنية والفتح وغيرهما. وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتي بطهارته لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد رحمه الله، ويفتي به للبلوى،
وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابوناً يكون طاهراً لتبدل الحقيقة.
ثم اعلم أن العلة عند محمد رحمه الله هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتي به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة
(رد المحتار: ۱/۳۱٦، باب الأنجاس، سعيد).
وقال في موضع آخر: وظاهره أن العلة الضرورة، وصريح الدرر وغيرها أن العلة هي انقلاب العين، لكن قدمنا عن المجتبى أن العلة هذه وأن الفتوى على هذا القول للبلوى، فمفاده أن عموم البلوى علة اختيار القول بالطهارة المعللة بانقلاب العين فتدبر. (رد المحتار: ۱/۳۲٦، باب الأنجاس، سعيد).
جلاٹین کے استعمال میں عمومِ بلوى کی وضاحت:
موجودہ دور میں جلاٹین کا استعمال کثرت سے ہو رہا ہے اور بے حد عام ہر کس و نا کس اس سے دوچار ہوتا ہے ہر ایک کو اس کے متعلق حلت و حرمت کا مسئلہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس کا استعمال کس طرح عام ہے اس کے متعلق انسائیکلوپیڈیا آف برطانیکا کہتا ہے: جلاٹین کا استعمال جیلی والے گوشت، سوپ ٹافیاں وغیرہ بنانے کے لیے شکل دیے ہوے میٹھے کھانوں مثلاً جیلی اور اس طرح کے دیگر کھانے اور جھاگ دار غذاؤں مثلاً آئس کریم اور پانی کے ساتھ مختلف قسم کے روغن اور چکنائیوں کا مکسچر بنانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔
اس کے متعلق دیگر واقفین اور ماہرین کے بیانات یہ ہیں:
ساؤتھ افریقہ کی ایک مسلم تنظیم "ساؤتھ افریقن نیشنل حلال اتھارٹی" نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ مختلف مٹھائیوں اور دودھ سے بنی اشیاء میں اس کا بہت استعمال ہوتا ہے ۔ دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ سر اور چہرہ میں لگائی جانے والی مختلف قسم کی کریم میں اور آرائشی مصنوعات میں جلاٹین کا استعمال ہوتا ہے ۔ دواؤں کی طرف آئیے، تو چھ سو سے زائد ایسی دوائیں ہیں جن میں جلاٹین کا استعمال ہوتا ہے ان دواؤں میں کیپسول اور کھانسی دور کرنے والی دوائیں زیادہ ہیں ۔ ان کے علاوہ جلاٹین کا استعمال فوٹوگرافی کی فلم، کاغذ، رنگوں اور لیتھوگرافی (پتھریادھات سے چھپائی) کے لیے بھی کیا جاتا ہے ۔ انٹرنیٹ کی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ جلاٹین کی بے شمار خصوصیات ہیں، جیسے جیلی بنانا، کسی شئی کو گاڑھا کرنا اور اس کو جمانا، فلم بنانے کے لیے اس کی شکل پذیری میں معاون ہونا، اور اشیاء کو گاڑھا کرنا، کے باعث درجِ ذیل صنعتوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے:
غذا (مٹھائیوں اور دودھ سے بننے والی اشیاء، گوشت کی مصنوعات وغیرہ)
دواؤں کی صنعت ۔
فوٹوگرافی ۔
بے شمار تکنیکی استعمالات ۔
میڈیکل میں جلاٹین عام طور پر کیپسول بنانے میں استعمال ہوتی ہے اس سے نرم اور سخت دونوں قسم کے کیپسول بنائے جاتے ہیں ان کے علاوہ یہ پیسٹ سرکہ، کافی، کے بنانے میں بھی استعمال ہوتی ہے نیز مصنوعی جوس میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔ (ڈاکٹر اصغر علی جامعہ ہمدرد نئی دہلی کی پیش کردہ تحقیق) ۔
ایک اور وضاحت یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق سخت قسم کے کیپسول عام طور پر ہڈی اور خنزیر کے گوشت کی پر ت سے بنائے جاتے ہیں، کیوں کہ خنزیر کے گوشت سے بنی جلاٹین کیپسول میں شفافیت اور لچک پیدا کرتی ہے یہ تو جلاٹین کے استعمال کی عمومیت ہوئی، ظاہر ہے کہ شاید ہی کوئی بچ جائے جسے جلاٹین کسی نہ کسی طور پر استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے ورنہ ہر ایک کا سابقہ پڑتا ہے یا پڑ سکتا ہے ۔ (جدید فقہی تحقیقات، ص، از
۱۸۲
تا
۱۸۳
) ۔
ماہر اطباء کی تحقیق کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے:
(۱) ڈاکٹر محمد اسلم پرویز:
کولاجن کا تعلق پروٹین کے خاندان سے ہے، اور پروٹین کی قسموں میں سے بھی ریشے کی پروٹین جو ہمارے پٹھوں میں پائی جاتی ہے، تمام ریڑھ دار جانور کے جسم میں موجود کل پروٹین کا ثلت کولاجن ہوتا ہے، جانوروں کے جسم سے زیادہ مقدار اسی پروٹین کی پائی جاتی ہے اس کے ریشے لیس دار ہوتے ہیں، یہ پانی میں نہیں گھلتے ہیں اور ناقابل ہضم ہوتے ہیں، دیگر پروٹین کی طرح یہ بھی ایمنوایسیڈس سے بناہے، ایمنوایسیڈس میں سے دو جس کا نام گلائسین اور ایلینین ہے ان کی جتنی مقدار کولاجن میں پائی جاتی ہے کسی اور پروٹین میں نہیں پائی جاتی، کولاجن میں پر ولین نامی ایمینوایسیڈکی مقدار بھی زیادہ ہے، کولاجن میں ایک ایمینوایسیڈ جس کا نام ہائڈروکسی پر ولین ہے صرف کولاجن میں پایا جاتا ہے ایمینوایسیڈ صرف کولاجن اور الاسٹین نامی دوسرے ریشے دار پروٹین میں پایا جاتا ہے ہائڈروکسی پر ولین کی وجہ سے ان میں سختی سی ہوتی ہے کولاجن میں جو ایمینوایسیڈ پائی جاتی ہے اس میں غذائیت بہت کم ہوتی ہے کولاجن کو تحلیل کر کے جلاٹین بنایا جاتا ہے اس تحلیل کو ہائیڈرولائسِ س کہتے ہیں یعنی تحلیل کا وہ خاص عمل جس میں پانی کا استعمال کیا جاتا ہے، کیوں کہ لائسس کا مطلب ہے توڑنا اور ہائیڈرو کا مطلب ہے پانی، یعنی پانی کی مدد سے کسی چیز کو تحلیل کرنا جلاٹین کی ظاہری ساخت، شکل، رنگت، ذائقہ، بو ہر چیز کولاجن سے مختلف ہوتی ہے، کیوں کہ کیمیائی عمل سے گزرنے کے بعد اور تحلیل ہونے کے بعد ایک نئی چیز وجود میں آتی ہے، جلاٹین ایک الگ قسم کا کیمیائی مادہ اور پروٹین ہے جو کولاجن سے مختلف ہے، ایک سائنسی حقیقت ہے کہ جلاٹین کا مادہ اور جلاٹین بالکل الگ چیز ہے، کولاجن میں پائے جانے والا کوئی بھی مخصوص مادہ جلاٹین میں نہیں ۔
(۲) ڈاکٹر عمر افضل: ۔
ان کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ کیمیائی عمل سے گزرنے کے بعد تحلیل ہو کر فقط ایک سیال مادہ باقی رہتا ہے جو ٹھنڈا ہونے پر جمایا جا سکتا ہے ۔ تیار شدہ جلاٹین میں نہ تو کسی جانور کی کھال یا اس کا اثر باقی رہتا ہے ۔
(۳) ڈاکٹر اصغر علی: ۔
جلاٹین بنانے کے تین طریقے ہیں: (الف) سوکھی ہڈی یا کھال کو صاف کرنے کے بعد اس کو 5%Hcl (ایک طرح کے تیزاب) میں دس سے پندرہ دن رکھا جاتا ہے تو ایک کیمیکل کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر اس کیمیکل کو چار، پانچ گھنٹےLime 10% چونے میں رکھا جاتا ہے اس کے بعد چونے سے نکال کر اس کو گرم پانی میں ڈالتے ہیں پھر خشک کر کے اس کی نمی کو اڑانے کے بعد پیس کر اس کا جلاٹین بناتے ہیں ۔
(ب) بچھڑے کی کھال کو دھوکر 10%Limeچونے میں چھ سے بارہ گھنٹے تک رکھتے ہیں پھر چونے سے نکال کر اس کو گرم پانی میں ڈال کر دیتے ہیں، پھر مندرجہ بالا پہلے طریقہ کے مطابق جلاٹین بنا لیتے ہیں ۔
(ج) خنزیر کی کھال کو صاف کر کے دھوکر 1-5%Hclتیزاب میں دس سے تیس گھنٹے تک رہنے دیتے ہیں پھر مندرجہ بالا طریقہ سے جلاٹین حاصل کرتے ہیں ۔ (ملخص از جدید فقہی تحقیقات، ازص
۷۱
تا
۹۵
) ۔
ہمیں ایک اور طبیب کی تحقیق موصول ہوئی جو عدمِ تبدیل حقیقت کے قائل ہیں ۔
(٤) جناب ڈاکٹر محمد انصار حسین صاحب: ۔
(جو کہ کھال کی ٹکنالوجی کے شعبہ سے متعلق ہیں) ان کی تحقیق کا خلاصہ حسبِ ذیل درج ہے:
(۱) کھال کے تین پر ت (تہہ) ہوتے ہیں، پہلی پر ت میں بال اور مسامات ہوتے ہیں اور یہ پر ت پوری کھال کا ایک فیصد ہوتی ہے ۔
دوسری پر ت کھال کی موٹائی کا ۹۸ فیصد ہوتی ہے، اسی پر ت میں ایک خاص چیز ہوتی ہے جسے کولاجن کہتے ہیں ۔
تیسری پر ت گوشت کی ہوتی ہے، اس میں رگیں، نسیں اور پٹھے بھی ہوتے ہیں یہ پر ت بھی کھال کا ایک فیصد ہوتی ہے ۔
(۲) کولاجن ہی جلاٹین ہے ۔ (۳) جلاٹین بنانے کے عمل میں تیزاب کا استعمال، چونے کے پانی میں رکھنا، ابالنا، گرم کرنا، اور تبخر کا عمل، یہ سب صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ مجموعی کھال میں کولاجن کے ساتھ جو غیر کولاجن والے اجزاء ہیں یعنی خون، چربی اور ریشے وغیرہ دور کیے جائیں اور خالص کولاجن حاصل کیا جائے، یہی خالص اور شفاف کولاجن کو جلاٹین کا نام دیا جاتا ہے ۔
(٤) جلاٹین بنانے کا عمل ایک کیمیائی عمل ہے لیکن اس عمل کا اثر کولاجن سے متصل اشیاء پر ہوتا ہے اور انہیں زائل کیا جاتا ہے، نفس کولاجن پر اس کیمیائی تبدیلی کا اثر نہیں ہوتا ۔ الخ ۔ (ملخص از مقالہ: کولاجن جلاٹین اور تبدیل ماہیت) ۔
اطباء کی تحقیقات پر معاصر علمائے کرام کی آراء:
(۱) مولانا خالد سیف اللہ صاحب: بظاہر یہ صورت قلبِ ماہیت کی محسوس ہوتی ہے، اور تخلیل خمر پر اس کو قیاس کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ نہ صرف اس کے اوصاف بلکہ شکل و صورت میں بھی تبدیلی آ چکی ہے ۔
(۲) مولانا محمد عبید اللہ اسعدی صاحب: چمڑا یا ہڈی اگر خنزیر کا ہو تو محض پیسنے سے استعمال درست نہیں، دوسرے جانور کی ہڈی یا مدبوغ چمڑے کا استعمال درست ہے اگر جلاٹین میں چمڑے سے کشید کی کوئی شکل ہو تو دباغت کے بعد درست ہو سکتی ہے اور اگر جلاٹین یوں بنایا جائے کہ ہڈی سوکھ جائے یا چمڑے کی دباغت کے بعد پھر ان کو گلا کر دوسری شکل میں کر دیا جائے تو یہ قلبِ ماہیت ہے، نیز گلا کر دوسری شکل میں کرنے میں دباغت یا سوکھنے کی قید بھی نہ ہو گی ۔
(۳) مولانا اختر امام عادل: جلاٹین کا معاملہ بھی سوال نامہ کے مطابق قلبِ ماہیت کا معلوم ہوتا ہے ۔
(٤) مفتی جمیل احمد نذیری: جلاٹین بنانے کے طریقے جو ماہرین کی تحریروں سے معلوم ہوے ان میں سے کسی بھی طریقہ پر انقلابِ ماہیت کی تعریف صادق نہیں آتی عدمِ انقلابِ ماہیت کے باوجود جلاٹین کی بعض صورتیں جائز ہیں:
(الف) خنزیر کے علاوہ جانور کی خشک ہڈی کا جلاٹین جائز ہے ۔ خواہ مذبوح ہویا مردار ۔
(ب) مذبوح جانور کی تر ہڈی اور کھال کا جلاٹین جائز ہے ۔
(ج) ماکول اللحم کی آنت کا جلاٹین استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
(۵) مولانا ارشاد الحق اعظمی: اگر جلاٹین نجس چیز سے بنا ہو تو اس میں دو پہلو ہیں: نمبر (الف) جلاٹین اصلاً چپچپہ اور چکنا مادہ ہے جو زندگی کی علامت اور نجاست کا محل ہے اور مخصوص عمل سے اس کو محفوظ کیا گیا اس پہلو کو مدِ نظر رکھتے ہوے نجس اشیاء سے بنا ہوا جلاٹین ناجائز ہے ۔
(ب) جلاٹین کی پوزیشن اس غلاظت سے زیادہ واضح ہے جو مٹی اور پانی میں پڑ کر کیچڑ بن جائے اس پر علماء نے پاکی کا حکم لگایا ہے اس لیے یہ پاکی کے احتمال سے خالی نہیں، پھر ابتلائے عام بھی ہے اس لیے استعمال کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔
(٦) مولانا محمد مصطفی عبد القدوس ندوی: صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ صورت قلبِ ماہیت کے تحت آئے گی، کیوں کہ گلانے کے بعد چمڑا اوہڈی کی حقیقت ختم ہو جاتی ہے، اس لیے قلبِ ماہیت کے اسباب میں سے احراق بھی ہے ۔
(۷) مولانا ابو العاص وحیدی: یقیناً جلاٹین کا جو عمل ہے وہ قلبِ ماہیت کے تحت آئے گا ۔
(۸) مولانا محمد ارشاد القاسمی: جلاٹین بنانے کے تین طریقے سوال میں مذکور ہیں، یہ فقہی اصول اور جزئیات اور تعریفِ انقلاب میں پائے جانے کی وجہ سے انقلابِ ماہیت میں داخل ہیں اور ضرورتِ عامہ اور عمومِ بلوی کے پیش نظر اس کی نوعیت شکل، بو، مزہ، حالت اور کیفیت بدل جانے کی وجہ سے جائز ہے ۔
(۹) مولانا محمد مصطفی قاسمی: سوال نامہ میں جلاٹین کی جیسی تصویر کشی کی گئی ہے اگر واقعہ میں ایسا ہی ہو تو بلاشبہ یہ انقلابِ عین اور قلبِ ماہیت کے تحت آئے گا، اور اس کی بیع اور اکل و شرب جائز ہوگا ۔
(۱۰) مولانا محمد برہان الدین سنبھلی: اس فن کے بعض ماہرین نے راقم کو جنوبی افریقہ میں جلاٹین بنانے کی فیکٹری کا مشاہدہ کرایا کہ اس طریقہ سے اس کی حقیقت بدل جاتی ہے، لیکن وہاں کے بعض علماء کا یہ کہنا ہے کہ حقیقت نہیں بدلتی ۔
(۱۱) مولانا زبیر احمد قاسمی: جلاٹین کی جو وضاحت اور تصویر کشی کی گئی اس کو قلبِ ماہیت اور تحولِ عین کے تحت مانا جا سکتا ہے ۔
(۱۲) ڈاکٹر مولانا سلطان احمد اصلاحی: جلاٹین (ڈاکٹر اصغر علی صاحب کے مواد کی روشنی میں ) استحالہ یا قلبِ ماہیت کی انتہائی ترقی یافتہ صورت ہے ۔
(۱۳) مولانا اعجاز احمد قاسمی: جلاٹین کی جو صورت سوال نامہ میں بیان کی گئی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ مردار کے چمڑے ہاہڈی کو عملِ تدبیغ، تطبیخ، تشمیس، گلانے کی تدبیر نیز کیمیاوی عمل وغیرہ کے ذریعہ شئی کی حقیقت بالکل بدل جاتی ہے ۔
(۱٤) مولانا خورشید احمد اعظمی: جلاٹین کے بارے میں جو صورت بیان کی گئی ہے اس سے بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حقیقت و ماہیت بدل جاتی ہے ۔
مذکورہ حضرات کے علاوہ دیگر بعض علماء کے نزدیک جلاٹین میں تبدیلِ ماہیت نہیں ہوتی ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید فقہی تحقیقات) ۔
(۱۵) مفتی تقی صاحب کے تفصیلی فتوے کا خلاصہ یہ ہے ان کے نزدیک ہڈی کے جلاٹین کو انفحہ پر قیاس کرتے ہوے اس کا استعمال درست ہے، البتہ کھال کے جلاٹین میں تبدیلِ ماہیت ہوتی ہے یا نہیں؟ تردد ہے ۔ (از فتوی مفتی تقی صاحب، ۱٤، شوال ۱٤۱۷ھ) ۔
(۱٦) مفتی اشرف صاحب مفتی جامعہ محمودیہ اسپرنگ کی تحقیق یہ ہے کہ اس میں تبدیل ماہیت ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ ان کے ایک تفصیلی فتوے کا خلاصہ حسبِ ذیل درج کیا جاتا ہے:
بقولِ ماہرین کولاجن سے جلاٹین بننے میں طبعی و کیمیائی تبدیلی وجود میں آتی ہے اور جلاٹین ایک نیا مرکب بنتا ہے جو کہ اپنی اصل یعنی کولاجن سے بالکل جدا ہوتا ہے ۔
بی ۔ ٹیبس دوائی کی کمپنی کی
"الشفاء الطبي"
کی رپورٹ کے مطابق کھال اور جلاٹین اپنی اپنی طبعی و کیمیائی خصوصیات اور ظاہری شکل میں بالکل ایک جیسے نہیں ہیں، جلاٹین اور کولاجن دونوں مختلف ہیں ۔
غذائی مواد تیار کرنے والے ماہرین کے مطابق کولاجن سے جلاٹین بننے کے عمل میں پوری طرح تبدیل ماہیت ہو جاتی ہے ۔ اس لیے احقر کا رجحان اس طرف ہے کہ جلاٹین طاہر اور حلال ہے، کیوں کہ تبدیل ماہیت کے ساتھ عمومِ بلوی بھی ہے ۔
اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:
اسلامک فقہ اکیڈمی کا چودہواں فقہی سمینار مؤرخہ ۲۰ ۔ ۲۲/جون ۲۰۰٤٤ء کو ہندوستان کے علمی اور تاریخی شہر حیدر آباد کی مشہور دینی درسگاہ دار العلوم سبیل السلام میں منعقد ہوا، اس سمینار میں پورے ملک سے تقریباً ڈھائی سو علماء، اربابِ افتاء، میڈیکل سائنس اور فارما و ادویہ سازی کے ماہرین شریک ہوئے، جس میں کشمیر سے لے کر کیر الہ تک اور مشرقی ہندوستان سے لے کر وسطی ہندوستان تک ہر علاقہ کے مندوب موجود تھے، ہندوستان کے علاوہ کویت، سعودی عرب، ایران اور نیپال سے بھی اصحاب نظر علماء نے شرکت فرمائی ۔ اس پس منظر میں جو قرار دادیں منظور ہوئیں وہ اس طرح ہیں:
۱ ۔ جلاٹین ایک نامیاتی (organic) مرکب ہے، جو ایک قسم کا پروٹین ہے، یہ جانوروں کی کھال اور ہڈیوں میں موجود ایک دیگر قسم کے پروٹین کولاجن (collagen) سے ک
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.