سائنسی تحقیقات سے حدود و قصاص کا حکم:

7 min readFatwa Vol 4 #303Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۱): حدود اور قصاص کا بیان

Question

فورنسک سائنس (
Forensic science
) کا کیا حکم ہے؟ یعنی مثلاً زنا بالجبر یا قتل کے مقدمات کو اس طور پر حل کیا جائے کہ "
DNA
" کو خون یا تھوک یا منی کے ذریعہ نکال آ جائے پھر اس کی تحقیق کر کے ثابت کرے، اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے؟

Answer

فورنسک سائنس (
Forensic science
) کا مختصر تعارف:
فورنسک سائنس (عدالتی سائنس) ایک خاص جماعت کا ایک ضروری رکن ہے، جس کے دوسرے منبر ماہر امراض اور پولیس بھی ہوتے ہیں، اس جماعت کا مقصد موت کی حقیقی وجہ دریافت کرنا ہوتا ہے ۔
اس کی مختلف شاخیں ہیں ۔ ایک شاخ خطا کاروں کے مقدمات کی تحقیق و تفتیش کرتی ہے، اور ایک دوسری جماعت ماہر امراض کی مدد سے بدن کے اجزاء مثلاً ریشے، بال، منی، تھوک، خون، توارثی عنصر وغیرہ کے ذریعہ مجرم کی صحیح دریافت کرتی ہے ۔
انگریزی الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
The forensic scientist is an integral member of a team that also comprises of the forensic pathologist and the police, brought together to investigate the cause of a death thought to have occurred in suspicious circumstances. The forensic scientist assists the pathologist in identification of the body through the determination of blood type, DNA profile, and in the identification of fibres, hairs, semen, and other body substances that may have been deposited by the assailant, as in the case of homicide. Forensic scientists usually work at a specialised institution that deals only with such work. Their evidence is crucial for conviction in cases of homicide.
فورنسک سائنس (
Forensic science
) کا حکم:
جو جرم فورنسک سائنس کے ذریعہ ثابت ہو اور اس پر شرعی گواہ بھی موجود ہو تو شرعی حدود و قصاص جاری ہوں گے، اور اگر شرعی گواہ موجود نہ ہوں بلکہ صرف سائنسی تحقیق کے ذریعہ ثابت ہوں تو محض تحقیق کی بنیاد پر حدود و قصاص جاری نہ ہوں گے ۔ ہاں اس کو بالکل نظر انداز بھی نہیں کیا جائے گا بلکہ قاضی مناسب تعزیر کا مجاز ہو گا ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حدود و قصاص میں شریعت مطہرہ کا منشا و مقصد حتی الامکان حد کو ساقط کرنا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فإن كان له مخرج فخلوا سبيله فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة. (رواه الترمذي: ۱/۲٦۳).

الاشباہ و النظائر میں ہے:

وفي فتح القدير: أجمع فقهاء الأمصار على أن الحدود تدرأ بالشبهات، والحديث المروي في ذلك متفق عليه، وتلقته الأمة بالقبول، والشبهة ما يشبه الثابت وليس بثابت. (الأشباه والنظائر: ۱/۳۳٦، القاعدة السادسة، الحدود تدرأ بالشبهات).

شرح المجلہ میں ہے:

القرينة القاطعة هي الأمارة البالغة حد اليقين مثلاً إذا خرج أحد من دار خالية خائفاً مدهوشاً في يده سكين ملوثة بالدم فدخل في الدار ورؤي فيها شخص مذبوح في ذلك الوقت فلا يشتبه في كونه قاتل ذلك الشخص ولا يلتفت إلى الاحتمالات الوهمية الصرفة كأن يكون الشخص المذكور ربما قتل نفسه، فالقول بأنه ذبحه آخر ثم تسور الحائط أو أنه ذبح نفسه، احتمال بعيد لا يلتفت إليه إذ لم ينشأ عن دليل ـ والقرينة القاطعة هي التي تصير الأمر في حيز المقطوع وفي معين الحكام: قال بعض العلماء على الناظر أن يلحظ الأمارات والعلامات إذا تعارضت فما ترجع منها قضي بجانب الترجيح وهو قوة التهمة ولا خلاف في الحكم بها وفي تبصرة الحكام قال الله تعالى: ﴿تعرفهم بسيماهم﴾ دل على السيما المراد بها حال يظهر على الشخص، والأمارات مأخوذة من الشريعة قال الله تعالى: ﴿وجاءوا على قميصه بدم كذب﴾ قال عبد المنعم بن الفرس: روي أن إخوة يوسف عليه السلام لما أتوا بقميص يوسف عليه السلام إلى أبيهم يعقوب عليه السلام تأمله فلم يجد فيه خرقاً ولا أثر ناب فاستدل بذلك على كذبهم وقال: متي كان الذئب حليماً يأكل يوسف ولا يخرق قميصه. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ۵/۳۹۰، المادة ۱۷٤۱، مكتبة رشيدية).

درر الحکام میں ہے:

القرينة القاطعة هي الأمارة البالغة حد اليقين وبتعبير آخر هي القرينة الواضحة بحيث يصبح الأمر في حيز المقطوع به، والعمل بالقرينة القاطعة يجري في أبواب الفقه المختلفة وأمثلة ذلك على الوجه الآتي:

يجوز في حال ظهور أمارة حبس المتهم بالقتل أو بالجرائم الأخرى. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام لعلى حيدر، ٤/٤۳۲، المادة ۱۷٤۱. وكذا في معين الحكام: ص ۱٦٦، الباب الحادي والخمسون، دار الفكر).

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

قد ذكر بعض الفقهاء أن الشبهة تسقط الحد دون التعزير فالتعزير يثبت مع الشبهات والحقيقة أن الشبهة على قسمين: الأول: ما كان مانعاً من غلبة الظن بأن المتهم قد ارتكب ما لا يحل له فهذا القسم يستوي فيه الحد والتعزير وأن هذا النوع من الشبهة يسقط الحد والتعزير كليهما، والثاني: ــ ما لم يكن مانعاً من ذلك فهذا النوع من الشبهة فهي شبهة فنية تعرض في صدق تعريف ما يوجب الحد وهي الشبهة التي ذكرها الفقهاء باسم الشبهة في المحل والشبهة في الفعل فإن هذه الشبهة تسقط الحد ولا تسقط التعزير. (تكملة فتح الملهم: ۲/۲٦۷).

فتاوی حقانیہ میں ہے:
جدید آلات کو فی زمانہ یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ ذرائع اثباتِ جرم کے لیے کافی حد تک کارآمد بھی ہیں بشرطیکہ دیگر ذرائع و قرائن ان کی تائید کرتے ہوں ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
مقتول کے خون اور قاتل کے جسم پر لگے ہوے خون کا ایک ہونا قتل کے اثبات کا قرینہ ہے پس اگر مقتول اور قاتل کے کپڑوں اور خنجر پر لگا ہوا خون ایک ثابت ہو جائے تو شرعاً یہ شخص مجرم متصور ہو گا، اور دیگر شواہد بھی تائید کرتے ہوں تو قاتل پر حد جاری کی جائے گی، ورنہ قاضی اس پر تعزیر جاری کر سکتا ہے ۔ (فتاوی حقانیہ: ۵/۵۱٦، ۵۱۷)
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.