قتل خطا میں دیت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #299Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۱): حدود اور قصاص کا بیان

Question

ایک شخص گولیاں چلا رہا تھا غلطی سے کسی کو گولی لگی اور وہ مرگیا، قاتل اقرار کر رہا ہے اب اس پر دیت ہے یا نہیں؟ اور دیت کی مقدار رینڈ یا ڈالر میں کتنی ہے؟ اور اقرار سے ثابت ہونے اور شہادت سے ثابت ہونے میں کوئی فرق ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں یہ قتل خطا ہے اور قتل خطا میں کفارہ اور دیت لازم ہوتی ہے پھر اگر شہادت سے قتل ثابت ہو جائے تو دیت عاقلہ پر ہے، اور اگر صرف قاتل کے اقرار سے ثابت ہو تو دیت قاتل کے مال میں لازم ہو گی، جو تین سال میں ادا کی جائے گی، اور دیت کی مقدار ایک ہزار دینار اور درہم کے اعتبار سے ۰۰۰، ۱۰ ہزار درہم جس کا اندازہ جدید پیمانے میں ٦۱۸، ۳۰ کلو گرام چاندی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:

وخطأ في الفعل وهو أن يرمي غرضاً فيصيب آدمياً وموجب ذلك الكفارة والدية على العاقلة لقوله تعالى: ﴿فتحرير رقبة مؤمنة، ودية مسلمة إلى أهله﴾ وهي على عاقلته في ثلاث سنين، ولا أثم فيه. (الهداية: ٤/ ۵٦۱).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وخطأ في الفعل

وموجب ذلك الكفارة والدية على العاقلة وتحريم الميراث وسواء قتل مسلماً أو ذمياً في وجوب الدية والكفارة ولا مأثم فيه في الوجهين سواء كان خطأ في القصد أو خطأ في الفعل

الخ. (الفتاوى الهندية: ٦/ ۳).
وفي حاشية تبيين الحقائق: إذا أقر بقتل خطأ حيث يقضي عليه بالدية في ماله لأن إقراره حجة على نفسه. (حاشية تبيين الحقائق للشيخ شهاب الدين احمد الشلبي: ٦/ ۱۷۹).

عالمگیری میں ہے:

وكذلك من أقر بقتل خطأ كانت الدية في ماله في ثلاث سنين. (الفتاوى الهندية: ٦/ ۸۷، فصل إذا لم تكن لقاتل الخطأ العاقلة).

ہدایہ میں ہے:

والدية في الخطأ مائة من الإبل أخماساً

قال: ومن العين ألف دينار ومن الورق عشرة آلاف درهم

ولا تثبت الدية إلا من هذه الأنواع الثلاثة. (الهداية: ٤/ ۵۸٤).

جدید مقدار ملاحظہ ہو: (اوزان شرعیہ از مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ: ٦۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.