موجود ہ دور میں دیت کس پر لازم ہو گی؟
Question
دیت کس پر لازم ہو گی، جب کہ موجود ہ دور میں عاقلہ کا نظام نہیں ہے اور اکثر جگہوں پر قبائلی نظام بھی مفقود ہے؟
Answer
دیت عاقلہ پر ہے ہاں اگر مجرم اقرار کرے کہ یہ کام میں نے کیا ہے اور عاقلہ نے اس کی تصدیق نہیں کی تو پھر قاتل کے مال میں ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ولا ما لزم بصلح أو اعتراف إلى قوله إلا أن يصدقوه في إقراره أو تقوم حجة وإنما قبلت البينة هنا مع الإقرار مع أنها لا تعتبر معه لا نها تثبت ما ليس بثابت بإقرار المدعي عليه. (الدر المختار مع الشامي: ٦/٦۴۳، كتاب المعاقل، سعيد).
عاقلہ ہونے کا دار و مدار آپس میں تعاون اور تناصر پر ہے، لہذا جن لوگوں کے درمیان باہم تعاون و تناصر ہے، وہ اس کی عاقلہ ہے، لہذا جہاں کوئی قبیلہ ہے اور وہ قبائل منظم ہیں، اور ہر شخص کو معلوم ہے کہ اس کا قبیلہ فلاں ہے، تو وہ اس کی عاقلہ ہے، وہ اس کی دیت ادا کرے، اور اگر قبیلہ نہیں ہے، لیکن منظم برادری ہے تو وہ دیت ادا کرے، اور اگر برادری بھی نہیں ہے تو پھر جیسے آج کل ٹریڈ یونین ہوتی ہے اور ان کے درمیان آپس میں تعاون و تناصر ہوتا ہے تو وہ اس کی عاقلہ ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ بھی مفقود ہے تو پھر بہرحال دیت قاتل کے مال میں ہونی چاہیے ۔ ملاحظہ علامہ شامی فرماتے ہیں:
قلت: وفي زماننا بخوارزم لا يكون إلا في مال الجاني إلا إذا كان من أهل قرية أو محلة يتناصرون لأن العشائر فيها قد وهت ورحمة التناصر من بينهم قد رفعت وبيت المال قد انهدم. (فتاوى الشامي: ٦/٦۴۵، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.