گرم طعام یا مشروب استعمال کرنے کا حکم:
Question
بہت گرم کھانا یا مشروب کا کیا حکم ہے؟ اگر مکروہ ہے تو گرم چائے پینے کا کیا حکم ہے؟
Answer
بعض احادیث اور کتبِ فقہ سے گرم کھانے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ تیز گرم کھانا کھایا جائے کہ ہاتھ، منہ وغیرہ جلے اور تکلیف ہو، لیکن ہلکا گرم کھانا جائز اور درست ہے، خصوصاً وہ اشیاء جن کی لذت ہی گرم ہونے میں ہے مثلاً چائے، کافی، پلاؤ، نہاری وغیرہ تو ان اشیاء کو ہلکا سا گرم استعمال کرنا بلا کراہت جائز اور درست ہے۔
ملاحظہ ہو درجِ ذیل روایات سے تیز گرم کھانے کی ممانعت مترشح ہوتی ہے۔
عن خولة بنت قيس وكانت تحت حمزة بن عبد المطلب قالت: دخل على رسول الله ﷺ فجعلت له خريزة فقدمتها إليه فوضع يده فيها فوجد حرها فقبضها فقال: يا خولة لا نصبر على حر ولا برد يا خولة إن الله أعطاني الكوثر وهو نهر في الجنة وما خلق أحب إلى من يرده من قومك يا خولة رب متخوض في مال الله ومال رسوله فيما اشتهت نفسه له النار يوم القيامة. رواه الطبراني في الكبير (۵۸۸) وفي رواية له عنها
قالت: فقربت له عصيدة في تور فلما وضع يده فيها احترقت فقال: حس ثم قال: إن ابن آدم إن أصابه حر قال: حس وإن أصابه برد قال: حس. (رقم: ۵۸۹).
قال الهيثمي: رواه كله الطبراني بإسنادين ورجال أحدهما رجال الصحيح. (مجمع الزوائد: ۵/ ۲۰، ط: دار الفكر).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي ﷺ أتي بصحفة تفور فأسرع يده ثم رفع يده فقال: إن الله عز وجل لم يطعمنا ناراً. رواه الطبراني في الصغير والأوسط (۷۰۱۲) وفيه عبد الله بن يزيد البكري ضعفه أبو حاتم وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۵/ ۲۰، ط: دار الفكر).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أبردوا بالطعام فإن الطعام الحار غير ذي بركة. (رواه الطبراني في الأوسط، رقم: ٦۲۰۹).
وإسناده ضعيف لضعف عبد الله بن يزيد البكري. وأخرجه الحاكم في المستدرك (٤/ ۱۱۸) عن جابر رضي الله عنه.
وللمزيد راجع: (كشف الخفاء: ۲/ ۳٦۸، وتخريج الإحياء للعراقي: ۱/ ٦٤۵، ط: الرياض).
فیض القدیر میں ہے:
قوله "أبردوا بالطعام
فيكره استعمال الحار لخلوه عن البركة ومخالفته للسنة بل إذا غلب على ظنه ضرره حرم. (فيض القدير، رقم: ٥۰).
ہلکا گرم کھانے کے جواز کی روایت ملاحظہ ہو:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أتي رسول الله ﷺ يوماً بطعام سخن، فأكل، فلما فرغ قال: "الحمد لله ما دخل بطني طعام سخن منذ كذا وكذا. (رواه ابن ماجه، ص ۳۰٦).
وفي الزوائد: إسناده حسن وسويد مختلف فيه.
ابن ماجہ کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے گرم کھانا تناول فرمایا اور اس کو نعمت فرمایا۔
دوسری روایت میں ہے کہ چند صحابہ نے گرم کھانا تناول فرمایا۔ ملاحظہ ہو:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: بينا أنا وأبو طلحة الأنصاري رضي الله عنه وأبي بن كعب رضي الله عنه أتينا بطعام سخن فأكلناه
الخ. (شرح معاني الآثار: ۱/ ٦۹).
فتاوی الشامی میں ہے:
ومن السنة أن لا يأكل من وسط القصعة
ولا يأكل الطعام حاراً ولا يشمه. (فتاوى الشامي: ٦/ ۳٤۰، سعيد). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/ ۳۳۷، والمحيط البرهاني: ٦/ ۸۹، الفصل الثاني عشر في الكراهية في الأكل).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
گرم کھانا جو برداشت نہ ہو سکے اس سے منع کیا گیا ہے، اور جو برداشت ہو سکے اس سے منع نہیں کیا گیا، ورنہ روٹی، سالن، چائے سبھی گرم کھائی جاتی ہیں اور ٹھنڈا کرنے سے اس کی لذت اور خاصیت میں فرق آ جاتا ہے یہی حال چائے کا ہے، ٹھنڈا کرنے کے بعد وہ چائے نہیں رہے گی، بلکہ شربت بن جائے گی، شروح حدیث سے یہی تفصیل مستفاد ہوتی ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۸/ ۹۰، جامعہ فاروقیہ)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
کچھ گرم ہو تو مکروہ نہیں، ہاں زیادہ گرم ہو تو مکروہ ہے، مگر جو چیز ایسی ہو کہ سرد ہو جانے سے اس کا فائدہ یا ذائقہ ختم ہو جائے تو مکروہ نہیں ہے، جیسے چائے، کافی وغیرہ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/ ٤٦۸، ط: دیوبند)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حدیث میں
"أبردوا بالطعام"
اس سے معلوم ہوا کہ بہت گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی اس لیے خلافِ اولی ہے مگر ناجائز نہیں کہہ سکتے اور چائے یا اور ایسی چیزیں جن سے مقصود ہی گرمی حاصل کرنا ہے اس سے مستثنی ہیں، بلکہ در حقیقت اس حدیث کے مفہوم میں داخل ہی نہیں۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، جلدِ دوم، ص ۸۰۷)۔
شمائل کبری میں ہے:
حضرت صہیب
رضي الله عنه
نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے گرم کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ مناسب ہو جائے (یعنی کھانے کے لائق ہو جائے)۔ (کنز العمال ۱۹/ ۱۸۸)۔
حضرت جویریہ رضي اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ (گرم) کھانے کو پسند نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ اس سے بھاپ نکل جائے۔ یعنی ایسا گرم کھانا جس سے بھاپ نکل رہی ہو۔ (جمع الفوائد، مجمع: ۵/ ۲۲)۔
ایسا تیز گرم کھانا جس سے بھاپ نکل رہی ہو اور ہاتھ اور منہ کے جلنے یا تکلیف کا اندیشہ ہو کھانا ممنوع ہے پھر یہ کہ ایسے کھانے میں لذت بھی نہیں حاصل ہوتی، کیوں کہ منہ جلنے کی وجہ سے انسان جلد نگلنا چاہے گا۔
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضي اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کھانا ٹھنڈا ہونے دو اس میں برکت زائد ہوتی ہے۔ (کنز العمال: ۱۹/ ۱۷)۔
حضرت اسماء رضي اللہ عنہ کے پاس جب (گرم) ثرید لایا جاتا تو اسے ڈھانک رکھنے کا حکم دیتیں، تو اسے ڈھک دیا جاتا، یہاں تک کہ اس کی بھاپ ختم ہو جاتی اور یہ کہتیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ یہ (ٹھنڈا کر کے) کھانا بڑی برکت کا باعث ہے۔ (مشکوۃ ص ۳٦۸)۔
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ گرم کھانا نہیں کھانا چاہیے، گرم آ جائے تو اسے ٹھنڈا ہونے دینا چاہیے۔ گرم سے مراد وہ گرم ہے جو منہ اور ہاتھ کو تکلیف دے اسی وجہ سے آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے آگ نہیں کھلائی، اس سے تیز گرم کا مفہوم واضح ہے۔ البتہ چائے اس ممانعت سے مستثنی ہے کیوں کہ اس کا گرم ہی پینا نافع ہے۔
ابن ماجہ شریف کی روایت سے معلوم ہوا کہ معتدل گرم کھانا ممنوع نہیں چنانچہ جو کھانے گرم ہی لذیذ ہوتے ہیں مثلاً پلاؤ، نہاری وغیرہ ان کو معتدل گرم کھانا خلافِ سنت نہ ہوگا۔ (شمائل کبری: ۱/ ٤٤۔ ٤۵)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.