اعضاء کی پیوند کاری کا شرعی حکم
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے فحول و مفتیانِ ذوی العقول اس مسئلہ میں کہ: اگر کسی شخص کی بنائی ختم ہو رہی ہو یا دونوں گردے فیل ہو رہے ہوں یا کسی اور عضو کی ضرورت ہو تو دوسرے انسان کا عضو اس کو لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
مسئلہ مذکورہ بالا میں علمائے کرام کا اختلاف ہے بعض حضرات بہ چند شرائط اس کے جواز کے قائل ہیں، اور بعض منع فرماتے ہیں ۔ ہر ایک کے دلائل درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
عدمِ جواز والوں کے دلائل: ۔
مانعین کی پہلی دلیل اور اس کا جواب:
اللہ تعالی نے انسان کو معزز و مکرم بنایا ہے انسان کے جسم کو قطع و برید کرنے کی صورت میں اور اس کے اعضاء کے استعمال کرنے کی صورت میں اس کی اہانت کا پہلو مضمر ہے، اور چونکہ حرمت و اعزاز میں زندہ مردہ دونوں کے ساتھ یکساں معاملہ ہے اس لیے زندہ یا مردہ کسی کا عضو استعمال کرنا جائز نہیں ہے ۔
قرآنِ کریم میں ہے:
ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر. (سورة بني إسرائيل، الآية: ۷۰).
حدیث شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ لعن الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة. (صحيح مسلم: ۲/۲۰٤، ط: فيصل).
اس حدیث شریف کے ذیل میں امام نووی رقم طراز ہے:
وقد فصله أصحابنا فقالوا: إن وصلت شعرها بشعر آدمي فهو حرام بلا خلاف سواء كان شعر رجل أو امرأة وسواء شعر المحرم والزوج وغيرهما بلا خلاف لعموم الأحاديث ولأنه يحرم الانتفاع بشعر الآدمي وسائر أجزائه لكرامته بل يدفن شعره وظفره وسائر أجزائه. (الشرح الكامل للامام النووي: ۲/۲۰٤).
دوسری حدیث شریف میں ہے:
عن عائشة أن رسول الله ﷺ قال: كسر عظم الميت ككسره حياً. (رواه أبو داود، رقم: ۳۳۰۷، وابن ماجه، رقم: ۱٦۱٦، وغيرهما).
اسی طرح فقہائے کرام رحمہ اللہ انسانی آ کرام و اعزاز کی وجہ سے انسانی اعضاء سے انتفاع اور اس کی تجارت سے منع کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
لا يجوز بيع شعر الإنسان ولا الانتفاع به لأن الآدمي مكرم لا مبتذل ولا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهاناً مبتذلاً. (الهداية: ۳/۳۹).
شرح السير الكبير
میں ہے:
والآدمي محترم بعد موته على ما كان عليه في حياته فكما لا يجوز التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراماً له فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت قال رسول الله ﷺ: كسر عظم الميت ككسر عظم الحي. (شرح السير الكبير: ۱/۹۰).
وللاستزادة انظر: (بدائع الصنائع: ۵/۳۳۱، سعيد، والعناية مع الهداية: ۱/۸۲، ط: رشيديه، والفتاوى الهندية: ۵/۳۵٤).
مجوزین حضرات نے مذکورہ بالا دلائل کے درجِ ذیل جوابات دیے ہیں:
جدید فقہی مباحث میں مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے تفصیلی بحث فرمائی ہے ۔ کچھ ترمیم و اضافہ کے ساتھ ملاحظہ ہو:
اعضاء کی پیوند کاری کے مسئلہ میں دو باتیں قابل غور ہیں: (۱) ترقی یافتہ موجودہ دور میں اعضاء کی پیوند کاری کا طریقہ اہانتِ انسانی میں داخل ہے یا نہیں؟
(۲) انسانی جان کے تحفظ کے لیے اہانتِ محترم کو گوارا کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
چنانچہ پہلی بات سے متعلق عرض ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے انسان کو مکرم و محترم ضرور قرار دیا ہے، اسی وجہ سے اس کی اہانت کو جائز قرار نہیں دیا، لیکن کتاب و سنت نے تکریم و اہانت کے سلسلہ میں کوئی بے لچک حدود مقرر نہیں کی ہیں، اور اہل علم کی نظر میں یہ امر مخفی نہیں ہے کہ نصوص نے جن امور کو مبہم رکھا ہوا اور قطعی فیصلہ نہ کیا ہو انسانی عرف و عادت ہی سے اس کی توضیح ہوتی ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے مختلف فقہاء کے نقطہ نظر پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:
قال الفقهاء أيضاً كل ما ورد به الشرع مطلقاً ولا ضابط له فيه ولا في اللغة يرجع فيه إلى العرف كالحرز في السرقة.
پھر اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عرف و عادت کی بعض صورتیں زمانہ و علاقہ کی تبدیلی کی وجہ سے بدلتی رہتی ہیں ۔ امام ابو اسحاق شاطبی فرماتے ہیں:
والمتبذلة منها ما يكون متبذلاً في العادة من حسن إلى قبيح وبالعكس مثل كشف الراس فإنه يختلف بحسب البقاع في الواقع فهو لذوي المروءات قبيح في البلاد المشرقية وغير قبيح في البلاد المغربية فالحكم الشرعي يختلف باختلاف ذلك فيكون عند أهل المشرق قادحاً في العدالة وعند أهل المغرب غير قادح. (الموافقات: ۲/٤۸۹، ط: دار بن عفان).
فقہاء نے اجزائے انسانی سے انتفاع کو بے شک منع کیا ہے لیکن یہ ممانعت اس لیے بھی تھی کہ اس زمانہ میں انسانی اعضاء سے انتفاع کو اس کی توہین تصور کیا جاتا تھا اور اس دور میں ایسے طریقے بھی رائج نہیں ہوئے تھے کہ شائستہ طور پر انسانی اجزاء سے انتفاع کیا جا سکے ہمارے زمانے میں اس عمل کو انسان کی توہین نہیں سمجھا جاتا اگر کوئی شخص اپنا عضو کسی اور کو دے دے تو وہ نہ خود اپنی اہانت کا احساس کرتا ہے نہ لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں، بلکہ اس کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور یہ انسانیت نوازی کی دلیل سمجھی جاتی ہے ۔
پس موجودہ زمانہ میں اجزاء انسانی سے انتفاع کے ایسے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جو مستلزم اہانت نہیں ہیں اور نہ عرف میں ان کو اہانت سمجھا جاتا ہے اس لیے اصولی طور پر ان کو درست اور جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
(۲) انسانی تحفظ کے لیے اہانتِ محترم کو گوارا کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں دوسرے فقہی نظائر کو سامنے رکھنے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ انسانی جان کے تحفظ اور بقا کے لیے قابل احترام چیزوں کی اہانت بھی قبول کی جا سکتی ہے ۔
علامہ سمرقندی رحمہ اللہ نے ایک خاص جزئیہ پر بحث کرتے ہوئے جس اصول سے استدلال کیا ہے وہ یہی ہے کہ ایک انسان کی بقا کے لیے دوسرے کی تکریم کے پہلو کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
لو أن حاملاً ماتت في بطنها ولد يضطرب فإن كان غالب الظن أنه ولد حي وهو في مدة يعيش غالباً فإنه يشق بطنها لأن فيه إحياء الآدمي فترك تعظيم الآدمي أهون من مباشرة سبب الموت. (تحفة الفقهاء: ۳/۳٤۵).
محقق ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إبطال حرمة الميت لصيانة حرمة الحي يجوز. (فتح القدير: ۲/۱٤۲، دار الفكر).
یعنی مردہ کی حرمت کا ابطال زندہ کی حرمت کی حفاظت کی خاطر جائز ہے ۔
مزید ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ۲/ ۲۰۳، بيروت، والفتاوى الهندية: ۱/۱۵۷، و ۵/۳٦۰، وبدائع الصنائع: ۵/۱۳۰، سعيد، وتحفة الملوك، ص ۲۳۹، بيروت، ومجمع الأنهر: ۱/۲۷٦، بيروت، والموسوعة الفقهية الكويتية: ۱٦/۱۲۰، والكويت).
ماں کی موت ہو جائے اور آثار بتاتے ہوں کہ جنین زندہ ہے، تو فقہاء نے عورت کے آپریشن کی اجازت دی ہے اور استدلال یہ کیا ہے کہ یہاں تعظیم میت کو ایک زندہ نفس کی بقا کے لیے ترک کیا جا رہا ہے ۔
چنانچہ علامہ ابن نجیم فرماتے ہیں:
لأن ذلك تسبب في إحياء نفس محترمة بترك تعظيم الميت فالإحياء أولي. (البحر الرائق: ۸/۲۰۵، كوئته).
علامہ ابو بکر کاسانی رحمہ اللہ یوں فرماتے ہیں:
لأنا ابتلينا ببليتين فنختار أهونهما وشق بطن الميتة أهون من إهلاك الولد الحي. (بدائع الصنائع: ۵/۱۳۰، سعيد).
یعنی ایک طرف مردہ کی تعظیم و تکریم کا پہلو ہے تو دوسری طرف زندہ کی جان خطرہ میں ہے تو اہون البلیتین کو اختیار کرتے ہوئے زندہ کی جان بچانے کی فکر کی جائے گی ۔ اگر چہ مردہ کے کسی جز کا اتلاف لازم آئے ۔
الموسوعہ میں اس کو جمہور فقہاء کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
ذهب جمهور الفقهاء إلى أن الحامل إذا ماتت وفي بطنها جنين حي يشق بطنها، ويخرج ولدها، لأنه استبقاء حي بإتلاف جزء من ميت. (الموسوعة: ۱٦/۱۲۰، ط: وزارة الاوقاف).
نیز فقہاء نے اسی اصول سے متعلق ایک دوسرے مسئلہ سے بحث کی ہے کہ مضطر کسی مردہ انسان کو اپنی جان بچانے کے لیے کھا سکتا ہے یا نہیں؟
چنانچہ حسن علی شاذلی نے اپنی کتاب
"حكم نقل أعضاء الإنساني في الفقه الإسلامي"
میں اس مسئلہ کو بعنوان
"حكم الانتفاع بميتة الإنسان"
(از ص ۵۰ تا ۵٤) بڑی تفصیل سے واضح کیا ہے اور مذاہبِ اربعہ کی روشنی میں احکام بیان فرمائے ہیں، تفصیل کے لیے اصل کتاب کی مراجعت مفید ہوگی ۔ البتہ مختصر خلاصہ حسبِ ذیل درج ہے:
وإن وجد معصوماً ميتاً لم يبح أكله في قول أصحابنا (أي الحنابلة) وقال الشافعي رحمه الله وبعض الحنفية يباح، وهو أولي، لأن حرمة الحي أعظم،
.
الترجيح: والذي أرجحه هو جواز الانتفاع بأجزاء الآدمي الميت عند الضرورة، سواء كان معصوماً أو غير معصوم، إحياء للنفس الآدمية ومداً لأسباب البقاء لها،
وبخاصة أن النفس الميتة إن لم ينتفع بها تحللت وصارت تراباً
فإنقاذ نفس حية بشيء من نفس ميتة حفاظ على النفس، وإحياء لها، هو هدف مشروع، ومصلحة مقررة شرعاً ومعتد بها فضلاً عن أن رعاية مصلحة الحي في امتداد حياته، أولي من رعاية مصلحة الميت في عدم المساس بجسمه، إذ جسمه إلى تحلل وإلى فناء. (حكم نقل اعضاء الإنساني في الفقه الإسلامي، ص ۵۲ و ۵٤).
مفتی بغداد علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
واستدل بعموم الآية على جواز أكل المضطر ميتة الخنزير والآدمي، خلافاً لمن منع ذلك. (روح المعاني: ۲/٤۲).
علامہ سید احمد طحطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قوله لحم الإنسان، لأن لحم الإنسان حرام لحق الشرع وحق العبد والصيد حرام لحق الشرع لا غير فكان أخف زيلعي، قال في النهر والكلام فيما هو الأولي، حتى لو تناول من لحم الإنسان جاز أبو السعود. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۵۲۸).
(وكذا في فتح المعين لا بي السعود: ۱/۵۳٤، والنهر الفائق لسراج الدين ابن نجيم: ۲/۱٤۲).
مذکورہ بالا عبارات سے پتا چلتا ہے کہ بعض فقہائے احناف نے اجازت دی ہے یہ اس وجہ سے کہ زندہ کی حرمت مردہ سے بڑھ کر ہے ۔
لیکن بعض دوسرے حضرات نے مضطر کے لیے مردوں کا گوشت کاٹ کر کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کی علت کرامتِ بنی آدم ذکر فرمائی ہے ۔ لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو انہیں فقہاء نے بچے کی حیات کے لیے ماں کا شکم چاک کرنے، دوسرے کا مال نگل جانے پر اس کو چاک کرنے، نیز زائد انگلی کاٹنے کی اجازت دی ہے ۔ ان میں سے بعض میں تو کوئی ضرورت بھی نہیں ہے بلکہ تزیین کے قبیل سے ہے ۔ نیز کسی مردہ انسان کے اعضاء کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اس کو گائے کے گوشت کی طرح پکا کر کھانا علامہ شامی رحمہ اللہ کے نزدیک کرامت کے خلاف ہے لیکن کسی مردہ کے کسی عضو کو آپریشن کے ذریعہ احترام اور احتیاط کے ساتھ علیحدہ کر کے دوسری جگہ لگانا یہ کرامت کے خلاف ہونا محل نظر ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ويقدم الميتة على الصيد والصيد على مال الغير ولحم الإنسان، وقيل: والخنزير؛ ولو الميت نبياً لم يحل بحال. وفي رد المحتار: قوله ولحم الإنسان أي لكرامته، ولأن الصيد يحل في غير الحرم أو في غير حالة الإحرام، والآدمي لا يحل بحال. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵٦۲، ۵٦۳، سعيد).
وينظر: (التحرير المختار على رد المحتار: ۲/۱٦۵، سعيد، وتبيين الحقائق: ۲/٦۸، ط: إمدادية، ملتان، والفتاوى الهندية: ۵/۳٦۰، والدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۳۸، سعيد، وبدائع الصنائع: ۵/۱۳۰، سعيد).
حدیث شریف
"لعن الله الواصلة
الخ"
کا جواب:
مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں اجزاء انسانی سے ایسے انتفاع کو منع کیا گیا ہے جو انسان کے لیے ضرورت کا درجہ نہ رکھتا ہو بلکہ محض تزین اور آرائش کے جذبات کی تسکین اس سے مقصود ہو ۔
اسی طرح وہ حدیث
"كسر عظم الميت ككسر عظم الحي"
عام حالات پر محمول ہے جب کہ کوئی انسانی ضرورت اس سے متعلق نہ ہو ۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ اجزاء انسانی سے انتفاع کی حرمت پر کوئی صریح اور غیر محتمل نص موجود نہیں ہے ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱/۲۱۱) ۔
اسی طرح دکتور رفاعی عبید فرماتے ہیں:
أما حديث رسول الله ﷺ "كسر عظمة الميت ككسره حياً" فمعناه أن للميت حرمة وكرامة كحرمة الحي، فلا يتعدى شخص آخر على جسم هذا بكسر عظمه لغير مصلحة، وكذلك بغير إذن من الميت أو ورثته أو الولي فهذا فيه ابتذال ومهانة للميت لغير مصلحة راجحة. وجاء في سبب هذا الحديث أن الحفار الذي كان يحفر القبر أراد كسر عظم إنسان دون أن تكون هناك مصلحة. (البيان في التبرع بعضو من الأعضاء، للشيخ صفوت جودة احمد، ط: مكتبة القاهرة، ص ۳۹).
(۲) مانعین کی دوسری دلیل اور اس کا جواب:
انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں ہے ۔
قال النبي ﷺ
ومن قتل نفسه بشي عذب به في نار جهنم
ويؤخذ منه أن جناية الإنسان على نفسه كجنايته على غيره في الإثم لأن نفسه ليست ملكاً له مطلقاً بل هي لله تعالى فلا يتصرف فيها إلا بما أذن له فيه. (فتح الباري: ۱۱/ ۵۳۹، ط: لاهور).
عن جابر رضي الله عنه أن الطفيل بن عمرو الدوسي رضي الله عنه أتي النبي ﷺ
فلما هاجر النبي ﷺ هاجر إليه الطفيل بن عمرو رضي الله عنه وهاجر معه رجل من قومه فاجتووا المدينة فمرض فجزع فأخذ مشاقص له فقطع بها براجمه فشخبت يداه حتى مات فرآه الطفيل بن عمرو رضي الله عنه في منامه فرآه وهيئته حسنة ورآه مغطياً يديه فقال له: ما صنع بك ربك فقال: غفر لي بهجرتي إلى نبيه ﷺ فقال: ما لي أراك مغطياً يديك قال: قيل لي: لن نصلح منك ما أفسدت
الخ. (رواه مسلم، رقم: ۱۱۳).
فتح الباری کی عبارت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح زندہ انسان کی قطع و برید ناجائز ہے اسی طرح مردہ انسان کی قطع و برید بھی ناجائز ہے نیز انسانی جسم و اعضاء کے ذریعہ تداوی اور علاج بھی ناجائز ہے ۔
الجواب: اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ جسمِ انسانی میں وہ تصرفات جو محض زیب و زینت کے لیے ہوں یا بلا کسی ضرورتِ شدید ہ کے ہوں اور ان میں ہلاکتِ نفس کا قوی اندیشہ ہو تو وہ ناجائز ہیں ۔
جب کہ فقہائے کرام کی بیان کردہ جزئیات سے پتا چلتا ہے کہ بوقتِ ضرورت انسان کے جسم میں تصرف کیا جا سکتا ہے ۔
(۱) جنین کی حیات کے آثار پر حاملہ عورت کا شکم چاک کرنا ۔ جس کی تفصیل گزر چکی ہے ۔
(۲) کوئی شخص کسی کے قیمتی مال کو نگل کر مر گیا تو اس کا شکم چاک کرنے کے بارے میں دو قول ہیں، ابن ہمام رحمہ اللہ نے چاک کرنے والے قول ترجیح دی ہے ۔
ولو بلع مال غيره ومات هل يشق قولان والأولي نعم، فتح. قوله والأولي نعم، لأنه وإن كان حرمة الآدمي أعلي من صيانة المال لكنه أزال احترامه بتعديه كما في الفتح. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۳۸، سعيد، وفتح القدير: ۲/۱٤۲، دار الفكر).
(۳) فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی زائد انگلی یا عضو نکل آئے تو اس کو کاٹ سکتا ہے بشرطیکہ ہلاکت کا خطرہ نہ ہو ۔ ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
إذا أراد الرجل أن يقطع أصبعاً زائدة أو شيئاً آخر قال نصير رحمه الله: إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۰).
بظاہر اس جزئیہ سے محض زینت کے لیے اپنے جسم میں تصرف کا جواز معلوم ہوتا ہے تو ضرورت یا حاجتِ شدید ہ کے وقت تصرف بدرجۂ اولی جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
پھر خود فتح الباری کی عبارت
"فلا يتصرف فيها إلا بما أذن له فيه"
سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصرف ممنوع ہے جس میں فائدہ نہ ہو اور ہلاکت کا اندیشہ ہو ۔
مزید براں مانعین میں سے اکثر حضرات خون دینے کے قائل ہیں، بلکہ اب اس پر قریب قریب اتفاق ہو چکا ہے حالانکہ جزء انسانی سے انتفاع کو مطلقاً "توہین انسانی" باور کیا جائے تو اس کو بھی ناجائز کہنا چاہیے کیوں کہ جزء انسانی ہونے میں دونوں کی حیثیت یکساں ہے ۔ اگر چہ بعض حضرات نے دونوں میں فرق کیا ہے کہ خون دودھ کی طرح ہے لیکن یہ محل نظر ہے، دودھ حلال طیب ہے جب کہ خون ناپاک و نجس ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث: ۲۰٦، ۲۰۷) ۔
اور یہ بات کہ انسان اپنے جسم کا خود مالک نہیں لہذا بالکل تصرف نہیں کر سکتا اس سے متعلق بعض حضرات نے درجِ ذیل جواب دیا ہے ۔
ولا يقال: إن جسد الإنسان ليس ملكاً له، وإنما هو ملك لله تعالى، ومادام الأمر كذلك فلا يصح للإنسان أن يتصرف فيما لا يملكه بالبيع ولا بالتبرع. فالكون كله ملك لله تعالى وليس جسد الإنسان وحده، ومع ذلك فقد أباح الله سبحانه، للناس أن يتصرفوا فيما يملكه عز وجل بالطريقة التي ترضيه، ولا شك أن فضيلة الإيثار ودفع الأذى عن الغير على رأس الفضائل التي يحبها الله عزوجل، ويكافئ أصحابها بما يستحقونه من ثواب جزيل. (البيان في التبرع بعضو من الأعضاء، ص ۳۸، ط: مكتبة القاهرة).
ويستمر المؤيدون فيقولون: إن الذي لا يملكه الإنسان ولا يملك التصرف فيه هو حياته وروحه وليس جسده
لذلك فإنه يحرم عليه الانتحار ولا يجوز له إلقاء نفسه في التهلكة إلا لضرورة قصوى وهدف اسمي مثل الجهاد في سبيل الله والدفاع عن النفس. (نقل الأعضاء الآدمية بين التحليل والتحريم، ص ۸).
إن قضية التبرع مبنية على إسقاط العبد حقه في العضو والحق أعم من الملك فإذا انتفت ملكية الإنسان لبدنه وأعضائه لا نتفي حقه فيها والتبرع بالعضو ليس من قبيل التمليك حتى يشترط الملكية بل من قبيل التنازل عن الحق وهو لا يستلزم الملكية. (رد شبه المجيزين لنقل الأعضاء من الناحيتين الدينية والطبية، ص ۳۵).
حدیث شریف میں ہے:
عن شيبان قال: سمعت الحسن يقول: إن رجلاً ممن كان قبلكم خرجت به قرحة فلما آذته انتزع سهماً من كنانته فنكأ فلم يرقأ الدم حتى مات قال ربكم: قد حرمت عليه الجنة ثم مد يده إلى المسجد فقال: أي والله لقد حدثني بهذا الحديث جندب عن رسول الله ﷺ في هذا المسجد. (رواه مسلم، رقم: ۱۱۳).
قال الإمام النووي رحمه الله: هذا محمول على أنه نكأها استعجالاً للموت أو لغير مصلحة فإنه لوكان على طريق المداواة التي يغلب على الظن نفعها لم يكن حراماً. (الشرح الكامل على صحيح مسلم: ۱/۷۲).
مانعین کی تیسری دلیل اور اس کا جواب:
فقہاء کی عبارات سے پتا چلتا ہے کہ مضطر کے لیے کسی دوسرے زندہ انسان کے عضو کو اس کی اجازت سے کاٹ کر کھانا ناجائز ہے اسی طرح مکرہ کا بھی یہی حکم ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
أما النوع الذي لا يباح ولا يرخص بالإكراه أصلاً فهو قتل المسلم بغير حق سواء كان الإكراه ناقصاً أو تاماً لأن قتل المسلم بغير حق لا يحتمل الإباحة بحال
وكذا قطع عضو من أعضاء ه
ولو أذن له المكره عليه
لا يباح له أن يفعل لأن هذا مما لا يباح بالإباحة ولو فعل فهو آثم. (بدائع الصنائع: ۷/۱۷۷، سعيد).
علامہ سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لأن حرمة الأعضاء كحرمة النفس ألا تري أن المضطر كما لا يباح له قتل الإنسان ليأكل من لحمه لا يباح له قطع عضو من أعضاء ه. (المبسوط: ۲٤/۸۸، دار الفكر).
عالمگیری میں ہے:
مضطر لم يجد ميتة وخاف الهلاك فقال له رجل اقطع يدي وكلها أو قال اقطع مني قطعة وكلها لا يسعه أن يفعل ذلك ولا يصح أمره به كما لا يسع للمضطر أن يقطع قطعة من نفسه فيأكل كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳۸).
مذکورہ عباراتِ فقہیہ کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مضطر کے لیے دوسرے کے عضو کو لینا ناجائز ہے ۔
الجواب: مولانا خالد سیف اللہ صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: لیکن ضروری ہے کہ فقہاء کی اس طرح کی تعبیر کو ہم اس زمانہ میں موجودہ زمانہ کی تحقیق اور انکشاف کے تناظر میں دیکھیں پیوند کاری کے طریقے میں ہلاکت یا ضررِ شدید کا اندیشہ نہیں اور کسی کے جسم سے گوشت کاٹ کر کھانے میں ہلاکت یا ضررِ شدید کا قوی اندیشہ ہے نیز اپنے اعضاء سے خود انتفاع درست ہے لیکن بعض فقہاء نے مضطر کے لیے خود اپنے جسم کے کسی حصے سے گوشت کھانے کو بھی منع کیا ہے، جیسا کہ ہندیہ کی عبارت سے واضح ہے ۔
ابن قدامہ نے اس کی علت پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے:
ولنا أن أكله من نفسه ربما قتله فيكون قاتلاً نفسه ولا يتيقن حصول البقاء بأكله. (المغني: ۱۱/۷۹، دار الفكر).
مستفاد از (جدید فقہی تحقیقات: ۵/۲۱۰) ۔
صاحب محیط نے بھی اس کی علت کو ذیل کے الفاظ میں واضح کیا ہے:
وفي فتاوى أبي الليث: رجل مضطر لا يجد ميتة خاف الهلاك، فقال له رجل: اقطع يدي وكلها، أو اقطع مني قطعة وكلها لا يسعه ذلك؛ لأنه ربما يؤدي إلى إتلافه. (المحيط البرهاني: ٦/۱۲۷، رشيديه).
(٤) مانعین کی چوتھی دلیل اور اس کا جواب:
انسانی اعضاء مال ہی نہیں کہ اس کا ہبہ یا اس کی وصیت کرنا جائز اور درست ہو ۔
ملاحظہ ہو صاحبِ بدائع الصنائع فرماتے ہیںـ:
ومنها أن يكون مالاً متقوماً فلا يجوز هبة ما ليس بمال أصلاً كالحر
(بدائع الصنائع: ٦/۱۱۹، سعيد).
اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ انسانی اعضاء کا مال نہ ہونا یہ مطلق نہیں بلکہ بعض جگہوں میں شریعت نے اس کو مال تسلیم کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ولأبي حنيفة رحمه الله أن الأطراف يسلك بها مسلك الأموال فيجري فيها البذل بخلاف الأنفس. (الهداية: ۳/۱۵۸).
بدائع الصنائع میں ہے:
ولو قال: اقطع يدي فقطع لا شيء عليه بالإجماع لأن الأطراف يسلك بها مسلك الأموال وعصمة الأموال تثبت حقاً له فكانت محتملة للسقوط بالإباحة والإذن كما لو قال: أتلف ما لي فأتلفه. (بدائع الصنائع: ۷/۲۳٦، سعيد).
مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں:
شریعت نے بعض مواقع پر انسانی وجود اور انسانی اعضاء کو متقوم (قابل قیمت) مانا ہے اور یہ اس وقت ہے جب کوئی انسان ہلاک کر دیا جائے یا اس کا کوئی عضو تلف کر دیا جائے اس کو اصطلاح شرع میں دیت کہتے ہیں اس پر بھی اتفاق ہے کہ آزاد انسان کے پورے وجود کی خرید و فروخت نہیں ہو سکتی انسانی جسم کے مختلف اجزاء میں بال اور دودھ یہی دو چیزیں تھیں جن سے گذشتہ زمانہ میں انتفاع کیا جاتا تھا، بال جس کا عموماً آرائش اور زیبائش کے لیے کیا جاتا تھا فقہاء نے اس کی خرید و فروخت کو بھی منع کیا ہے علامہ شامی رحمہ اللہ نے بالوں کی طرح ناخنوں کی خرید و فروخت کو بھی منع کیا ہے ۔
وكذا بيع ما انفصل عن الآدمي كشعر وظفر لأنه جزء الآدمي ولذا وجب دفنه.
لیکن دودھ کی خرید و فروخت میں فقہاء کے اندر اختلاف ہے ۔
مذہب احناف:
لم يجز بيع لبن المرأة لأنه جزء الآدمي وهو بجميع أجزاءه مكرم عن الابتذال بالبيع (البحر الرائق: ٦/۸۷، كوئته).
مذہبِ شافعیہ:
بيع لبن الآدميات جائز عندنا لا كراهة فيه. (المجموع: ۹/۲۵٤، دار الفكر).
مذہبِ مالکیہ:
فروع:
ويجوز بيع لبن الآدميات لأنه طاهر منتفع به، وأجازه أيضاً الشافعي رحمه الله وابن حنبل رحمه الله ومنعه أبو حنيفة رحمه الله. (مواهب الجليل بشرح مختصر الخليل: ٦/٦٦).
مذہبِ حنابلہ:
فأما بيع لبن الآدميات فقال أحمد: أكرهه واختلف أصحابنا في جوازه فظاهر كلام الخرقي جوازه لقوله "وكل ما فيه منفعة" وهذا قول بن حامد والشافعي وذهب جماعة من أصحابنا إلى تحريم بيعه وهو مذهب أبي حنيفة رحمه الله ومالك رحمه الله
والأول أصح لأنه لبن طاهر منتفع به فجاز بيعه كلبن الشاة ولأنه يجوز أخذ العوض عنه في إجارة الظئر فأشبه المنافع
وسائر أجزاء الآدمي يجوز بيعها فإنه يجوز بيع العبد والأمة
وحرم بيع العضو المقطوع لأنه لا نفع فيه. (المغني: ٤/۳۲۹).
ان عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر فقہاء کے نزدیک عضو انسان کسی حد تک مال شمار ہوتا ہے علاوہ ازیں احناف کے نزدیک اگر چہ مال نہیں لیکن یہاں مسئلہ اضطرار یا حاجتِ شدید ہ کا ہے لہذا اضطرار یا حاجتِ شدید ہ کے وقت "
الضرورات تبيح المحظورات"
کے تحت بہ چند شرائط کسی کو اپنا عضو دینا جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
يقول فضيلة الشيخ منصور الرفاعي عبيد: يجوز أن يتبرع إنسان حي بجزء من جسده لا يترتب على اقتطاعه ضرر به متى كان ذلك في صالح الشخص المنقول إليه وبيده، خاصة إذا ما أشار بذلك طبيب، وبحيث لا يؤثر العضو الذي يتبرع به المسلم إلى عجزه أو تشويهه لما جاء في فقه الزيدية والشافعية أنهما يجيزان أن يقطع الإنسان الحي جزء اً من نفسه ليأكله عند الضرورة بشرط ألا يجد مباحاً ولا محرماً آخر يأكله ويدفع به مخمصته، وأن يكون الضرر الناشئ من قطع جزئه أقل من الضرر الناشئ من تركه الأكل. (البيان في التبرع بعضو من الأعضاء، ص: ۳۹).
ويقول صفوت جودة أحمد: حكم التبرع بعضو من الأعضاء:
ويري جمهور الفقهاء أن التبرع بعضو أن بجزء من إنسان حي لا نسان آخر مثله جائز بشروط من أهمها: أن يصرح الطبيب أو الأطباء الثقاة بأن نقل هذا العضو من شخص إلى آخر لا يترتب عليه ضرر بليغ بالشخص المتبرع، وإنما يترتب عليه حياة الشخص المتبرع له، أو إنقاذه من مرض عُضال.
وهذا هو الرأي الراجح، لأن التبرع قلما يصدر عن الإنسان إلا في أشد حالات الضرورة وقلما يكون إلا لشخص عزيز على هذا الإنسان المتبرع، ولأن المتبرع ما فعل ذلك إلا بقصد تقديم منفعة عظيمة لغيره مبتغياً بها وجه الله تعالى. (البيان في التبرع بعضو من الأعضاء، ص: ۳۸).
اعضاء کی خرید و فروخت کے بارے میں مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں:
احناف کے نزدیک بدرجۂ مجبوری ایسے اعضاء کو خرید کرنا جائز ہو گا جیسا کہ فقہاء نے بوقتِ ضرورت رشوت دینے یا سودی قرض حاصل کرنے کی اجازت دی ہے لیکن شوافع اور حنابلہ کے نزدیک ایسے اعضاء کی خ
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.