جنین کے سر میں پانی کی وجہ سے اسقاط کا حکم:
Question
ایک عورت کے پیٹ میں حمل ہے اس پر چھ ماہ گزر چکے ڈاکٹر کہتا ہے کہ بچے کے سر میں پانی ہے اس کا اسقاط کرانا چاہیے، ماں کو کوئی تکلیف نہیں ہے، شرعاً اسقاط کی اجازت ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ نفخ روح کے بعد جنین کا اسقاط باجماع حرام ہے، مزید براں ماں کو فی الحال کوئی تکلیف نہیں ہے، لہذا محض ڈاکٹر کے کہنے پر اسقاط جائز نہیں ہوگا۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا: إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوماً بالحديث. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷٤، سعيد).
جدید فقہی مباحث میں ہے:
اسقاطِ حمل کے مسئلہ پر غور کرنے کے لیے ہمیں اس کے دو مرحلوں پر غور کرنا چاہیے: ایک صورت یہ ہے حمل میں جان پیدا ہو چکی ہے، حدیث کے مطابق استقرارِ حمل کے چار ماہ یعنی ۱۲۰ دن بعد روح پیدا ہوتی ہے، غالباً علم الجنین" کے جدید ماہرین بھی اس کی تائید کرتے ہیں، روح پیدا ہونے کے بعد اسقاطِ حمل بالاجماع حرام ہے، احمد علیش مالکی فرماتے ہیں:
والتسبب في إسقاطه بعد نفخ الروح فيه محرم إجماعاً وهو من قتل النفس. (فتح العلي المالك: ۱/۳۹۹).
اور فتاوی شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ میں ہے:
إسقاط الحمل حرام بإجماع المسلمين وهو من الوأد الذي قال تعالى فيه: ﴿وإذا الموؤدة سئلت بأي ذنب قتلت﴾. (٤/۳۱۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.