حمل بالزنا کے اسقاط کا حکم:
Question
ایک غیر شادی شدہ لڑکی نے غلطی سے کسی لڑکے سے زنا کیا اور حمل ٹھہر گیا، اور اس حمل پر پانچ ماہ گزر چکے، اب عار سے بچنے کے لیے حمل کا اسقاط کرانا چاہتی ہے کیا اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء کے ہاں چار ماہ سے قبل حمل کا اسقاط مختلف فیہ ہے لیکن فقہ اکیڈمی کے اجلاس میں صحیح قول کے مطابق ناجائز کہا گیا ہے اور چار ماہ بعد تو بالاجماع حرام اور ناجائز ہے ۔ اس میں ولد الزنا اور غیر ولد الزنا کا فرق نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا: إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوماً بالحديث. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷٤، سعيد).
جدید فقہی مباحث میں ہے:
اگر حمل بالزنا بالرضا کے نتیجہ میں ہو (تو مطلقاً) یا (اور زنا بالجبر ہو) اس حمل پر ٤ ماہ گزر چکے ہوں تو ان حالتوں میں اسقاط کی اجازت نہیں ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱/۳۷۳، ط: ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.