سیٹ پر بیٹھ کر سونے سے نقضِ وضو کا حکم ـ:
Question
اگر کوئی شخص گاڑی یا ہوائی جہاز کی سیٹ پر بیٹھ کر سو گیا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
Answer
اگر کوئی آدمی دیوار یا کسی دوسری چیز سے ٹیک لگا کر سو جائے تو دو صورتیں ہیں ۔
اگر اس کی سرین زمیں پر جمی ہوئی ہو تو اس میں احناف کے یہاں دو قول ہیں ۔
(۱) ایک قول یہ ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، صاحبِ قدوری، صاحبِ ہدایہ اور امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس قول کو اختیار کیا ہیں ۔
(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا یہ ظاہر الروایہ ہے اور اکثر حضرات نے اس قو ل کو لیا ہے چنانچہ شامی، عالمگیری، البحر الرائق، بدائع الصنائع دیگر کتب میں اس قول کو اختیار کیا گیا ہے ۔
عالمگیری میں ہے:
ولو نام مستنداً إلى ما لو أزيل عنه لسقط إن كانت مقعدته زائلة عن الأرض نقض بالإجماع وإن كانت غير زائلة فالصحيح أنه لا ينقض هكذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲).
نیز
شامي: ۱/۱٤۱، وبدائع الصنائع: ۱/۳۱، والبحر الرائق: ۱/۳۸
پر یہ مسئلہ بالتفصیل مذکور ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر سونے والے کی سرین سیٹ پر جمی ہوئی ہو تو ظاہر الروایہ کے مطابق اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا یہ قول زیادہ صحیح ہے ۔ اور اگر سرین زمیں سے ہٹی ہوئی ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.