چار زانو بیٹھ کر سونے سے نقضِ وضو کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #259Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۲) نواقض وضو اور غسل کا بیان

Question

اگر کوئی شخص خطبۂ جمعہ کے دوران چار زانو بیٹھے ہوے ایک ہاتھ پر ٹیک لگا کر سو گیا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

Answer

اگر سونے والے کی سرین زمیں پر جمی ہوئی ہے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ولو نام مستنداً إلى ما لو أزيل عنه لسقط إن كانت مقعدته زائلة عن الأرض نقض بالإجماع وإن كانت غير زائلة فالصحيح أنه لا ينقض هكذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲).
وفي العناية: والمروي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه لا ينقض وضوءه على كل حال لأن مقعده مستقر على الأرض فيأمن من خروج شيء منه. (العناية على هامش فتح القدير: ۱/٤۸، دار الفكر).

مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: (۲/۲۲ ۔ ۲۳) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.