مرد کے لیے عورتوں کا علاج کرنے کا حکم:
Question
مسلمان عورت مرد ڈاکٹر سے علاج کرا سکتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح مسلمہ طبیبہ مردوں کا علاج کر سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مرد و زن کے مسائل علیحدہ علیحدہ ہیں، اور تقریباً ہر جگہ طبیب و طبیبہ دونوں بہ آسانی میسر ہو جاتے ہیں، لہذا اپنے مخصوص معالجات میں مرد مرد ڈاکٹر کی طرف اور عورت عورت ڈاکٹرنی کی طرف رجوع کرے کیوں کہ نظر الجنس الی الجنس اخف ہے، بایں وجہ ولادت سے متعلق معالجات میں عورت عورت ڈاکٹرنی ہی کے پاس معائنہ کرائیں بلا وجہ مرد کے پاس جانے کی اجازت نہیں، ہاں بوقتِ ضرورت و مجبوری طبیب کے لیے عورت کا علاج کرنا نیز عورت کے لیے مرد کا علاج کرنا جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
امرأة أصابتها قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه لا يحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها فإن لم يجدوا امرأة تداويها ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳۰). (وكذا في فتاوى الشامي: ٦/۳۷۱، سعيد، والاختيار: ٤/۱۵٤، والموسوعة الفقهية الكويتية: ۷/۷۷).
البحر الرائق
میں ہے:
والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف، وينبغي للطبيب أن يعلم امرأة إن أمكن وإن لم يكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوجع ثم ينظر ويغض بصره عن غير ذلك الموضع إن استطاع لأن ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها. (البحر الرائق: ۸/۲۱۸، ط: بيروت).
(وكذا في المبسوط للامام السرخسي: ۱۰/۲٦۹، والمبسوط للامام محمد: ۳/٦۷، ط: إدارة القرآن، وبدائع الصنائع: ۵/۱۲٤، سعيد، والدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۷۰. ۳۷۱، سعيد، واللباب في شرح الكتاب: ۱/٤۱۱، دار الكتاب العربي).
آپ کے مسائل میں مرقوم ہے:
بیمار کی تیمار داری تو بہت اچھی بات ہے لیکن نا محرم مردوں سے بے حجابی اس سے بڑھ کر وبال ہے عورتوں کے ذمہ خواتین کی تیمار داری کا کام ہونا چاہیے ہونا چاہیے، مردوں کی تیمار داری کی خدمت عورتوں کے ذمہ صحیح نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/٦٦) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
مردوں کی مرہم پٹی اور تیمار داری کے لیے مردوں کو مقرر کیا جائے، نا محرم عورتوں سے یہ خدمت لینا جائز نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۷۹) ۔
ایک اور جگہ مرقوم ہے:
٭ طبیب کے لیے عورت کا علاج ضرورت کی بنا پر جائز ہے ۔
٭ اگر کوئی معالج عورت مل سکے تو اس سے علاج کرانا ضروری ہے ۔
٭ اگر کوئی عورت نہ مل سکے تو مرد کو چاہیے کہ اعضائے مستورہ خصوصاً شرمگاہ کا علاج کسی عورت کو بتا دے خود علاج نہ کرے ۔
٭ اور اگر کسی عورت کو بتانا بھی ممکن نہ ہو، اور مریضہ عورت کی ہلاکت یا ناقابل برداشت تکلیف کا اندیشہ ہو تو لازم ہے کہ تکلیف کی جگہ کے علاوہ تمام بدن ڈھک دیا جائے، اور معالج کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو زخم کے علاوہ باقی بدن سے غض بصر کرے، یعنی نظر بچائے رکھے ۔
٭ بچہ جنائی کا کام خاص عورتوں کا کام ہے، اگر معاملہ عورتوں کے قابو سے باہر ہو (مثلاً آپریشن کی ضرورت ہو اور آپریشن کرنے والی کوئی لیڈی ڈاکٹر بھی موجود نہ ہو) تو شرائط مندرجہ بالا کے ساتھ مرد علاج کر سکتا ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۵٤) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص ۱۵۱ ۔ ۱۵۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.