دانتوں کو تاروں سے باندھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #311Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۳): أحكام التداوي

Question

ایک شخص کے دانتوں کی ظاہری شکل و صورت خراب ہو چکی ہے، اور زیادہ مضبوطی اور جماؤ بھی باقی نہیں رہا، وہ شخص دانتوں کی ظاہری شکل و صورت کو خوبصورت بنانے اور مضبوط کرنے کے لیے دانتوں کو تاروں سے باندھنا اور خول چڑھانا چاہتا ہے، شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ نیز مصنوعی دانتوں کا لگانا کیسا ہے؟

Answer

دانتوں کو تاروں سے باندھنا اور خول چڑھانا بغرض مضبوطیٔ دندان جائز اور درست ہے، ہاں اگر کوئی واقعی ضرورت نہ ہو تو محض زینت کے لیے لگوانے سے بچنا چاہیے۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ولا يشد سنه المتحرك بذهب بل بفضة وجوزهما محمد ويتخذ أنفاً منه لأن الفضة تنتنه. وفي رد المحتار: قوله المتحرك قيد به لما قال الكرخي إذا سقطت ثنية رجل فإن أبا حنيفة رحمه الله يكره أن يعيدها ويشدها بفضة أو ذهب

وخالفه أبو يوسف رحمه الله فقال: لا بأس به

زاد في التاتارخانية قال بِشْرٌ: قال أبو يوسف رحمه الله: سالت أبا حنيفة رحمه الله عن ذلك في مجلس آخر فلم ير بإعادتها باساً قوله وجوزهما محمد رحمه الله أي جوز الذهب والفضة أي جوز الشد بهما

قوله لأن الفضة تنتنه

وأشار إلى الفرق للإمام بين شد السن واتخاذ الأنف فجوز الأنف من الذهب لضرورة نتن الفضة لأن المحرم لا يباح إلا لضرورة

وأصل ذلك ما روي الطحاوي بإسناده إلى عرفجة بن سعد أنه أصيب أنفه يوم الكلاب في الجاهلية فاتخذ أنفاً من ورق فأنتن عليه فأمره النبي ﷺ أن يتخذ أنفاً من ذهب ففعل. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳٦۲، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

قال محمد في الجامع الصغير: ولا يشد الأسنان بالذهب ويشدها بالفضة يريد به إذا تحركت الأسنان وخيف سقوطها فأراد صاحبها أن يشدها، يشدها بالفضة ولا يشدها بالذهب وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله وقال محمد: يشدها بالذهب أيضاً

وذكر الحاكم في المنتقي لو تحركت سن رجل وخاف سقوطها فشدها بالذهب أو بالفضة لم يكن به بأس عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله

(الفتاوى الهندية: ۵/۳۳٦).

کفایت المفتی میں ہے:
دانتوں کی کسی خرابی کی وجہ سے سونے کا خول چڑھوانا جائز ہے اور محض زینت کے لیے چڑھوانا مکروہ ہے الخ۔ (کفایت المفتی: ۹/۱۵۷، دار الاشاعت)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر بغیر خول چڑھائے دانت کا قائم رہنا دشوار ہو تو چاندی کا چڑھا لینا درست ہے، غسل کے وقت اس کو اتارنے سے معذوری ہو تو بغیر اتارے بھی غسل ہو جائے گا، نماز بھی درست ہو جائے گی، سونے کے خول میں اختلاف ہے، احتیاط یہ ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/۸۲، جامعہ فاروقیہ)۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
مصنوعی اعضاء جیسے آنکھ، دانت وغیرہ لگوانے میں کوئی مضائقہ نہیں، خواہ اس کا مقصد علاج ہو یا چہرہ کو بد نمائی سے بچانا، حضرت عرفجہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی مگر اس میں بو پیدا ہو گئی تو آپ ﷺ نے سونے کی ناک بنوانے کی اجازت مرحمت فرمائی، اسی طرح فقہاء نے سونے چاندی کے دانت لگانے یا دانتوں کی بندش میں اس کے تار استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۳۲٦، ط: نعیمیہ دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.