حضرت آدم عليہ السلام کی جنت کی تحقیق:
Question
زمیں پر اترنے سے پہلے حضرت آدم عليہ السلام کون سی جنت میں تھے؟ جنتِ ارضی یا سماوی کو ن سا قول صحیح ہے اور حافظ ابن قیم کی اس مسئلہ میں کیا رائے ہے؟
Answer
حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ نے معارف القرآن
(۱/۱۲۸، ۲۸۹، مكتبة المعارف)
پر تحریر فرمایا ہے:
حضرت آدم عليہ السلام اور حواء کو جس جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا اس سے وہی جنت جنت الخلد مراد ہے جس کا قیامت کے بعد متقین سے وعدہ ہے جیسا کہ قرآن کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ حضرت آدم عليہ السلام
کے قصہ سے پیشتر آیت:
﴿وبشر الذين آمنوا وعملوا الصالحات أن لهم جنات تجري من تحتها الأنهار﴾
میں اسی جنت الخلد کا ذکر ہو چکا ہے اس کے بعد حضرت آدم عليہ السلام
اور حواء کو
﴿يا آدم اسكن أنت وزوجك الجنة﴾
کا حکم ہوا اور
"الجنة"
کو معرف باللام ذکر فرمایا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس مقام پر "
الجنة"
سے معہود اور معروف جنت مراد ہے جس کا سابق میں ذکر ہو چکا ہے، پھر اس کے بعد حضرت آدم عليہ السلام کے ہبوط کا ذکر فرمایا اور ہبوط کے معنی اوپر سے نیچے اترنے کے ہیں بعد ازاں یہ فرمایا
﴿ولكم في الأرض مستقر ومتاع إلى حين﴾
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم عليہ السلام کو ابتداء میں جس جگہ رہنے کا حکم دیا گیا تھا وہ زمیں کے علاوہ کوئی اور جگہ تھی ورنہ اگر پہلے ہی سے زمیں پر تھے تو پھر اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ تم زمیں پر اترو اور وہاں جا کر ٹھہرو ۔
صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ بن یمان رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ اول حضرت آدم عليہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور یہ عرض کریں گے:
"يا أبانا استفتح لنا الجنة فيقول: وهل أخرجكم من الجنة إلا خطيئة أبيكم". (رواه مسلم: ۱/۱۱۲، باب إثبات الشفاعة، فيصل).
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم عليہ السلام اسی جنت سے نکالے گئے تھے کہ جس جنت کا دروازہ مومنین کھلوانا چاہتے ہیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "
احتج آدم وموسى عند ربهما فحج آدم موسى قال موسى: أنت آدم الذي خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وأسجد لك ملائكته وأسكنك في جنته ثم أهبطت الناس بخطيئتك إلى الأرض" الخ. (رواه مسلم: ۲/۳۳۵، باب حجاج آدم وموسى عليهما السلام، ط: فيصل، والبخاري: ۱/٤۸٤، باب وفاة موسى عليه السلام، ط: فيصل).
یہ حدیث بھی اسی کی تائید کرتی ہے کہ
﴿يا آدم اسكن أنت وزوجك الجنة﴾
میں "
الجنة"
سے وہی جنت مراد ہے جو آسمان پر ہے، حاشا جنت سے زمیں کا کوئی باغ مراد نہیں ہے جیسا کہ بعض کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ آدم کو جس جنت میں رہنے کا حکم دیا گیا تھا وہ دنیا ہی کے باغوں میں سے کوئی گھنا اور گنجان باغ تھا یہ بالکل غلط ہے پس جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آیت میں جنت سے کوئی دنیاوی باغ مراد ہے جہاں حضرت آدم عليہ السلام و حواء آرام سے رہتے تھے اس باغ میں شیطان نے جا کر حضرت آدم عليہ السلام و حواء کو دھوکا دیا یہ قول بالکل غلط ہے اور ذرہ برابر قابل التفات نہیں رہا، انتہی ۔
قال الله تعالى: ﴿فلا يخرجنكما من الجنة فتشقى، إن لك ألا تجوع فيها ولا تعرى، وأنك لا تظمأ فيها ولا تضحى﴾ (سورة طه: ۱۱٦).
ترجمہ: سو نکلوا نہ دے تم کو بہشت سے پھر تم پڑ جاؤ تکلیف میں تجھ کو یہ ملا ہے کہ نہ بھوکا ہو تو اس میں اور نہ ننگا اور یہ کہ نہ پیاس جھیلے تو اس میں اور نہ دھوپ ۔
اس آیت میں حضرت آدم عليہ السلام کی جنت کی جو صفات بیان کی گئیں وہ صرف جنتِ سماوی کی صفات ہو سکتی ہیں نہ کہ جنتِ ارضی کی اور اس آیت میں آدم عليہ السلام کی جنت کا ذکر ہو رہا ہے ۔
"حادي الأرواح إلى بلاد الأفراح" (ص٦٤. ٦۵)
پر حافظ ابن قیم نے "ان لوگوں کے دلائل ذکر کرتے ہوے جو جنت سماوی کے قائل ہیں" فرمایا:
قالوا: ومما يدل على أن جنة آدم هي جنة المأوى ما روي هوذة بن خليفة عن عوف عن قسامة بن زهير عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: "إن الله تعالى لما أخرج آدم من الجنة زوده من ثمار الجنة وعلمه صنعة كل شيء فثماركم هذه من ثمار الجنة غير أن هذه تتغير وتلك لا تتغير"
قالوا: وقد ضمن الله سبحانه وتعالى له أن تاب إليه وأناب أن يعيده إليها كما روى المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنه في قوله تعالى: ﴿فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه﴾ قال: (يا رب ألم تسكني جنتك؟ قال: بلي، قال: أي رب ألم تسبق رحمتك غضبك قال: بلي، قال: أرأيت إن تبت وأصلحت أراجعي أنت إلى الجنة؟ قال: بلي، قال: فهو قوله تعالى: ﴿فتلقى آدم من ربه كلمٰت فتاب عليه﴾ وله طرق عن ابن عباس وفي بعضها: "كان آدم قال لربه إذ عصاه: رب إن أناْ تبت وأصلحت فقال له ربه: إني راجعك إلى الجنة".
درج کردہ عبارات سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم عليہ السلام زمیں پر اترنے سے پہلے جنتِ سماوی میں تھے نہ کہ جنتِ ارضی میں، یہی جمہور کا قول ہے ۔
البتہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ اس مسئلہ میں جنتِ ارضی والے قول کی طرف مائل ہے کیوں کہ
"حادي الأرواح إلى بلاد الأفراح"
میں لکھا ہے:
وقال آخرون: هي جنة غيرها جعلها الله له وأسكنه إياها ليست جنة الخلد، وهذا قول تكثر الدلائل الشاهدة له والموجبة للقول به الخ. (حادي الأرواح إلى بلاد الأفراح، ص: ۵۷، الباب الثاني، ط: دار الفكر).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.