اسکول یونیفارم کا شرعی حکم:
Question
ہماری اسکول نے یونیفارم (uniform) بنانے کا ارادہ کیا ہے، اس سے متعلق ہمیں کچھ ہدایات چاہیے کہ: کتنا لمبا ہو، اس کی ہیئت کیسی ہو وغیرہ، اس بارے میں چار نقشے پیش خدمت ہیں، کیا یہ سب لباس شریعت کے اصول کے مطابق ہے یا شریعت کے مخالف، اگر اس میں کوئی خلاف شریعت لباس ہو تو تنبیہ فرمائیے؟
پہلا نقشہ: لڑکوں کا یونیفارم ہے، گرمی کے موسم کے لیے ۔ دوسرا نقشہ: یہ بھی لڑکوں کے لیے ہے موسمِ سرما کے لیے ۔ اور کھیلنے کے لیے ۔ تیسرا نقشہ: یہ لڑکیوں کا یونیفارم ہے موسمِ گرما کے لیے ۔ چوتھا نقشہ: یہ بھی لڑکیوں کے لیے ہے موسمِ سرما کے لیے ۔ اور لڑکیوں کے بنیان (ٹی، شرٹ) کے بارے میں بھی رہبری مطلوب ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
شریعتِ مطہرہ نے لباس کے بارے میں کوئی خاص وضع قطع متعین نہیں فرمائی، بلکہ اس بارے میں شریعت کی تعلیمات بڑی معتدل ہیں، ہر علاقہ و ہر خطہ والوں کو ہر موسم میں آب و ہوا کے لحاظ سے مختلف لباس کے انتخاب کی آزادی دے رکھی ہے، البتہ چند بنیادی اصول متعین کر دئیے ہیں، جن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(۱) لباس ساتر ہو لہذا عورتوں کو ایسا لباس پہننا جس میں ان کے اعضائے مستورہ نظر آئیں یا ٹانگیں وغیرہ نظر آئیں جائز نہیں ۔
(۲) مردوں کے لیے خالص ریشم کا کپڑا اور سرخ شوخ رنگ کا کپڑا نہ ہو ۔
(۳) ذی روح کی تصویر والا کپڑا نہ ہو ۔
(٤) ٹخنوں سے نیچے نہ ہو کہ شرعاً اس کی ممانعت ہے ۔
(۵) کفار کے ساتھ مشابہت والا کپڑا نہ ہو پھر مشابہت کے درجات ہیں: مثلاً ایک شخص کوٹ پتلون ٹائی انگریزی بال، ہیٹ پہن لے ۔ تو خالص عیسائی معلوم ہوگا، ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے اور اگر پتلون پہن لی مگر اوپر کرتہ پہن لیا تو اس میں مشابہت ختم ہو گئی ۔ (تشبہ بالکفار سے متعلق مزید تفصیل آگے آ رہی ہے) ۔
(٦) نیچے پتلون اور اوپر شرٹ پہن لیا تو یہ لباس ناجائز تو نہیں، لیکن صلحاء کا لباس نہ ہونے کی وجہ سے خلاف اولی ہے اور اگر اس میں اعضائے مستورہ کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہے تو مزید کراہت پیدا ہو جائے گی ۔
(۷) جس لباس سے فخر و تکبر، شہرت و نمائش، اسراف و تنعم مترشح ہوتا ہو ایسے لباس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے ۔
(۸) مردوں کے لیے زنانہ لباس اور عورتوں کے لیے مردانہ لباس ممنوع ہے ۔
ملاحظہ ہو النتف فی الفتاوی میں ہے:
فأما الألبسة فعلي ثلاثة أوجه: أحدها الحرام والثاني مكروه والثالث المستحب، أما اللباس الحرام فإنه على ثلاثة أوجه: أحدها الحرير، والثاني الديباج، والثالث الميتة
وأما اللباس المكروه فعلي ثلاثة أوجه: أحدها جلود السباع كلها. والثاني لباس الرقاق الذي يبين منه البدن لأنه لباس أهل التكبر والخيلاء والأشر، ومن لا اهتمام له بأمر الآخرة،
والثالث: كل لباس يكون على خلاف السنة يكون لبسه مكروهاً وهو مثل أثواب الكفار وأثواب الفسق والفجور
وإسبال الإزار. (النتف في الفتاوى، ص ۱٦۱، ۱٦۲، بيروت).
تكملة فتح الملهم
میں ہے:
أن اللباس يجب أن يكون ساتراً لعورة الإنسان، فالإسلام يلزم الرجل أن يلبس ما يستر ما بين سرته وركبتيه، ويلزم المرأة أن تستر كل جسدها ما عدا وجهها وكفيها وقدميها
فستر العورة من أعظم مقاصد اللباس، وإن اللباس الذي يخل بهذا المقصد يهمل ما خلق لا جله، فيحرم على الإنسان استعماله، فكل لباس ينكشف معه جزء من عورة الرجل والمرأة، لا تقره الشريعة الإسلامية، مهما كان جميلاً أو موافقاً لدور الأزياء، وكذلك اللباس الرقيق أو اللاصق بالجسم الذي يحكي للناظر شكل حصة من الجسم الذي يجب ستره
وما يقصد به الخيلاء والكبر أو الأشر والبطر أو الرياء، فهو حرام
وأن اللباس الذي يتشبه به الإنسان بأقوام كفرة، لا يجوز لبسه لمسلم إذا قصد بذلك التشبه بهم
وأن لبس الحرير حرام للرجال دون النساء، وكذلك إسبال الإزار إلى الكعبين لا يجوز للرجال ويجوز للنساء. (تكملة فتح الملهم: ٤/۸۸، ۸۹، كتاب اللباس والزينة).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (جدید معاملات کے شرعی احکام: جلدِ سوم، ص
٤٤
۔
۵۰
، دار الاشاعت، کراچی، و کتاب الفتاوی:
٦
/
۹۵
، و تکملۃ فتح الملہم:
٤
/
۸۷
۔
۸۹
، و فتاوی ہندیہ:
۵
/
۳۳۳
) ۔
مذکورہ بالا تفاصیل سے بخوبی واضح ہو چکا کہ کون سا شرعی لباس ہے اور کون سا خلافِ شریعت ہے، تاہم نقشہ نمبر ۳ اور ٤، طالبات کے یونیفارم کے بارے میں ہدایت یہ ہے کہ اسے اور زیادہ لمبا کر دیا جائے تاکہ گھٹنوں کے نیچے تک ہو جائے تو یہ بہتر ہوگا ۔ نیز طالبات کی ٹی شرٹ کے بارے میں ہدایت یہ ہے کہ اگر وہ ایسی چست ہے کہ بدن کی ہیئت ظاہر ہوتی ہے تو یہ ناجائز ہے ۔
طالبات کے لباس کے بارے میں مزید ہدایت یہ ہے کہ ان کے لیے عبایا تجویز کیا جائے جو آج کل بہت عام ہے اور ساتر بدن ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی لباس کہلاتا ہے ۔
(نوٹ: طوالت کی وجہ سے اور ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے نقشوں کو حذف کر دیا گیا ہے ورنہ اصل استفتاء میں نقشے موجود تھے) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.