ملازمت میں کوٹ، پتلون پہنا لازم ہو تو ایسی ملازمت کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #440Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک آدمی اسکول میں ٹیچر ہے، پڑھانے کی ملازمت کے لیے اس کو امتحان دینا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ کوٹ پتلون اور ٹائی پہننی ہو گی، جب کہ وہ شخص ہمیشہ کرتہ پہنتا ہے، اب شریعت میں ایسی ملازمت کا کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

تلاش بسیار کے باوجود کوئی مناسب ملازمت نہ ملتی ہو اور ایسی ملازمت کا اختیار کرنا کسی خاص مصلحت کی وجہ سے ضروری ہو تو ایسے لباس میں ملازمت کرنے کی گنجائش ہے، البتہ وضع قطع کو ذرا مختلف بنا دے، مثلاً شرٹ اتنا لمبا ہو کہ سرین چھپ جائے اور پتلون نما شلوار ٹخنوں سے اوپر ہو اور ٹائی بالکل نہیں پہننی چاہیے ۔
لیکن اگر دوسری جگہ ملازمت دستیاب ہو تو پھر صلحاء اور اہل صلاح و تقوی کا لباس مستحب اور سنت سے زیادہ قریب ہے ۔ ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:

إن الإسلام دين تشمل أحكامه جميع شعب الحياة، فإنه لم يدع باب اللباس هملاً، بل وضع له مبادي وأحكاماً لا يجوز لمسلم أن يخالفها، وقد يزعم الإنسان المعاصر أن اللباس والزينة من الأمور العادية البسيطة التي تخضع للتقاليد الرائجة في كل عصر ومصر ولا علاقة لها بأحكام الحلال والحرام، فإنها ليست من الأمور الجذرية التي تقوم على أساسها الحياة، ولكن هذا الزعم إنما نشأ من قلة التدبر

ولكن الإسلام لا يسلك في شأن من شؤون الحياة إلا طريقاً يتفق مع الفطرة السليمة، ويتجارب مع مقتضيات الطبيعة وربما أن الإنسان جبل على حب التنوع في أنواع اللباس والطعام، فإن الإسلام لم يقصره على نوع دون نوع، ولم يقرر للإنسان نوعاً خاصاً، أو هيئة خاصة من اللباس، ولا أسلوباً خاصاً للمعيشة وإنما وضع مجموعة من المبادي والقواعد الأساسية يجب على المسلم أن يتحفظ بها في أمر لباسه، ثم تركه حراً في اختيار ما يراه من أنواع الملابس، وليس هناك ما يمنع التطور في أنواع اللباس، ما دام الإنسان يتحفظ بهذه المبادي، ويفي بشروطها الواجبة.
فمن مقدمة هذه المبادئ (
۱
) أن اللباس يجب أن يكون ساتراً لعورة الإنسان

وستر العورة من أعظم مقاصد اللباس، وأن اللباس الذي يخل بهذا المقصد يهمل ما خلق اللباس لا جله، فيحرم على الإنسان استعماله

وكذلك اللباس الرقيق أو اللاصق بالجسم الذي يحكي للناظر شكل حصة من الجسم الذي يجب ستره، فهو في حكم ما سبق في الحرمة وعدم الجواز.
(
۲
) أن اللباس إنما يقصد به الستر والتجمل

وأما ما يقصد به الخيلاء والكبر أو الأشر والبطر أو الرياء، فهو حرام.
(
۳
) أن اللباس الذي يتشبه به الإنسان بأقوام كفرة، لا يجوز لبسه لمسلم إذا قصد بذلك التشبه بهم.
(
٤
) أن لبس الحرير حرام للرجال دون النساء، وكذلك إسبال الإزار إلى الكعبين لا يجوز للرجال ويجوز للنساء.
(
۵
) الثوب المصبوغ بلون مطرب يحصل به الفخر والمرآة، فنهي رسول الله ﷺ عن المعصفر والمزعفر.

ولا اختلاف بين قوله ﷺ: إن البذاذة من الإيمان

وبين قوله ﷺ: إن الله يحب أن يري أثر نعمته على عبده

لأن هناك شيئين مختلفين في الحقيقة، قد يشتبهان بادي الرأي، أحدهما مطلوب والآخر مذموم، فالمطلوب ترك الشح، ويختلف باختلاف طبقات الناس، فالذي هو في الملوك شح ربما يكون إسرافاً في حق الفقير، وترك عادات البدو واللاحقين بالبهائم واختيار النظافة ومحاسن العادات، والمذموم الإمعان في التكلف والمرآة والتفاخر بالثياب، وكسر قلوب الفقراء، ونحو ذلك وفي ألفاظ الحديث إشارات إلى هذه المعاني كما لا يخفى على المتأمل. (تكملة فتح الملهم: ٤/۸۷. ۸۹).

مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
انگریزی بال، ہیٹ، کوٹ پتلون میں سے ہر چیز تشبہ کے لیے کافی ہے مگر تشبہ کا حکم اسی صورت میں ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اسے دیکھ کر اس شبہ میں پڑ جائے کہ یہ شخص اس قوم کا فرد ہے، مثلاً ہیٹ لگانے والے کو کرسٹان سمجھا جائے ۔ تو جو چیزیں کہ غیر لوگوں میں بھی عام طور پر استعمال ہونے لگی ہوں مثلاً بوٹ، پتلون، کوٹ تو ان میں تشبہ کی جہت کمزور اور خفیف رہ جاتی ہے ۔ (کفایت المفتی: ۹/۱٦٤، دار الاشاعت) ۔
کوٹ، پتلون سے متعلق حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله فرماتے ہیں:
اب اس میں اتنا تشدد نہیں، اتنا ضرور ہے کہ ان اطراف میں یہ صلحاء کا لباس نہیں، اس سے بچنا چاہیے، کراہت کا درجہ ہے ۔
تعلیق میں مرقوم ہے:
آج کل پینٹ شرٹ (کوٹ پتلون) اور انگریزی بال کا گر چہ مسلمانوں میں عام رواج ہو گیا ہے، مگر اس کے باوجود اسے انگریزی لباس ہی سمجھا جاتا ہے ۔ الغرض تشبہ بالکفار نہ بھی ہو تشبہ بالفساق میں تو کوئی شبہ نہیں، لہذا ایسے لباس سے احتراز ضروری ہے ۔ پتلون کے متعلق یہ تفصیل اس وقت ہے جب اس سے واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر نہ آتا ہو، اگر پتلون اتنی چست اور تنگ ہو کہ اس سے اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو، جیسا کہ آج کل ایسی پتلون کا کثرت سے رواج ہو گیا ہے، تو اس کو پہننا اور لوگوں کو دکھانا اور دیکھنا سب ناجائز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ مع التعلیقات: ۱۹/۲۸۰، جامعہ فاروقیہ) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
جس علاقہ میں یہ کفار و فساق کا شعار ہو، وہاں اس سے پرہیز کیا جائے اور جہاں شعار نہ ہو، سبھی استعمال کرتے ہوں وہاں کا یہ حکم نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۲۸۱، جامعہ فاروقیہ) ۔
(مزید ملاحظہ ہو : فتاوی دار العلوم زکریا: ۷/۱۲۰ ۔ ۱۲۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.