جوا خانہ (casino) میں حساب کتاب کی ملازمت کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #379Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

میں ایک حساب داں (Accountant) ہوں، مختلف کمپنیاں مجھے اجرت پر بلاتی ہے، اس وقت مجھے ایک جوا کی کمپنی نے حساب کتاب کے لیے بلایا ہے، کیا میں ان کے لیے حساب کتاب کی ملازمت کر سکتا ہوں؟ کیا میرے لیے یہ تنخواہ جائز ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے جوا، قمار کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا اس کا حساب کتاب کرنا اس میں تعاون کرنا ہے اور معصیت میں تعاون ناجائز ہے، بنا بریں ایسی ملازمت سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس کی تنخواہ لینا بھی ناجائز اور گناہ ہے ۔ ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے:
﴿ولا تعاونوا بالإثم والعدوان﴾ [المائدة: ۲]،

نیز حدیث شریف میں سودی حساب کتاب رکھنے والے کو سود کے گناہ میں شریک کیا گیا ہے اسی طرح جوا کا حساب کتاب رکھنے والا بھی جوا کے گناہ میں شریک ہوگا ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:

عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء. (رواه مسلم، رقم: ۱۵۹۸، باب لعن آكل الربا وموكله).

حضرت جابر
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، حساب کتاب رکھنے والے اور ان کے گواہوں پر لعنت فرمائی، اور فرمایا کہ سود کے وبال میں یہ سب برابر کے شریک ہیں ۔
علامہ عبد الرؤوف المناوی رحمه الله نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا ہے:

استحقاق الثلاثة اللعن من حيث أن كلا منهم راض به ومعين عليه. (التيسير بشرح الجامع الصغير: ۲/۵۷۱، ط: الرياض).

امام نووی رحمه الله فرماتے ہیں باطل کی اعانت گناہ اور ناجائز ہے:
قال: هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابيين والشهادة عليهما وفيه تحريم الإعانة على الباطل والله أعلم. (شرح صحيح مسلم: ۱۱/۲٦، ط: بيروت).

کفایت المفتی میں مذکور ہے: جواب: ہاں ! یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ سود لینے والا، دینے والا، گواہ اور کاتب سب گناہ میں شریک ہیں ۔ (کفایت المفتی: ۱۱/۲۰۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
قاموس الفقہ میں مذکور ہے:
جس طرح خود کسی ناجائز اور خلاف شرع کام کرنا درست نہیں اسی طرح ایسے کاموں میں ملازمت اور تعاون بھی درست نہیں اس لیے بینک، انشورنس، شراب خانوں، قحبہ خانوں کی ایسی ملازمت جائز نہیں ہو گی جس میں آدمی سود، قمار، شراب یا قحبہ کے کاروبار کا ذریعہ بنے، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے، سود کا حساب و کتاب لکھے، ہاں چپراسی وغیرہ کی ملازمت کی جا سکتی ہے، کیوں کہ اس کا براہِ راست اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ۔ (قاموس الفقہ: ۱/۵۰۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.