غلط عقائد والے کے یہاں ملازمت کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 8 #251Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

مجھے ایک بریلوی مدرسہ میں ملازمت مل رہی ہے، وہاں ان کے اپنے اساتذہ مختلف کتابیں پڑھاتے ہیں، مجھے پڑھانا نہیں ہے، صرف مدرسہ کا نظم و نسق وغیرہ کی ذمہ داری ہے، دفتر میں بیٹھ کر یہ امور انجام دینا ہے، تو کیا میں ایسی ملازمت اختیار کر سکتا ہوں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ آپ اصلاح کی نیت سے ملازمت کر سکتے ہو، ہاں ان کی بدعات کی تائید نہ کریں، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے کافر بادشاہ کی ملازمت فرمائی تھی،
﴿اجعلني على خزائن الأرض﴾ [يوسف:
۵۵
]
مجھے زمین کے خزانوں کا وزیر بنا دیجیے، خصوصاً ان کے بچوں پر اگر محنت کر لی جائے اور بحیثیت نگران اُن سے دین کی بات چیت کر لی جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.