رشاد خلیفہ اور اس کی جماعت کے عقائدِ کفریہ:

9 min readFatwa Vol 8 #278Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

امریکہ میں ایک جماعت ہے اس کا نام "United submitters international" ہے، اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس کے کیا عقائد ہیں؟ کیا اس جماعت کے ماننے والے مسلمان ہیں؟ کیا ان کے ساتھ رشتہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ امریکہ میں رشاد خلیفہ (۱۹۳۵ ء۔ ۱۹۹۰ ء) کے نام سے ایک مصری آدمی نے نبوت کا دعوی کیا تھا، اور اس نے ایک جماعت تیار کی تھی جو اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے تھے، بلکہ (فرماں بردار) کہتے تھے، یہ لوگ حدیث کے منکر ہیں، امریکہ کے شہر Arizona (اریزونا) میں ان لوگوں کی ایک مسجد ہے، وہیں سے رشاد خلیفہ نے اپنا کام شروع کیا تھا۔ اس جماعت کے درجِ ذیل چند عقائد ہیں:
رشاد خلیفہ کو "عہد نامہ میں خدا کا رسول" کہا جاتا ہے جس کو قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں کی تصحیح کے لیے بھیجا گیا۔
آپ ﷺ کی وفات کے بعد قرآن بگاڑ دیا گیا۔
رشاد خلیفہ نے قرآنِ کریم کا ترجمہ لکھا ہے جو ۱٤۰۰ سال میں سب سے خالص قرآن ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
آپ ﷺ نے قرآنِ کریم کو اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔
احادیث اور سنن یہ سب شیطانی بدعت ہے۔
اگر چالیس سال کی عمر سے پہلے کسی کا انتقال ہو جائے تو وہ جنتی ہے۔
خنزیر کی چربی کھانا جائز ہے۔
معراج روحانی تھی نہ کہ جسمانی۔
نمبر ۱۹ قرآن کا محور ہے اور یہی قرآن کی صحت پر دال ہے۔
سورۂ توبہ کی آیتیں:
لقد جاء كم رسول من أنفسكم الخ.
اور
فإن تولو فقل حسبي الله الخ.
موضوع ہیں۔ اس لیے رشاد نے اپنے مستند قرآن سے ان دونوں کو نکال دیا۔
مسلمان جو بھی کرتا ہے وہ غلط ہے۔
شہادت، تشہد، اذان، وضو اور حج کے وقت یا دیگر عبادتوں میں آپ ﷺ کا مبارک نام لینا بت پرستی کی طرح ہے۔
۲۲۸۰ ؁ء میں دنیا ختم ہو جائے گی۔
آدم علیہ السلام جنت میں تھے اس وقت انسان اور جنات سب نے مل کر اللہ تعالی سے بغاوت کی، اس لیے ان کو دنیا میں بھیج دیا گیا تاکہ ان کو اپنے کرتوت کی سزا مل جائے، کیوں کہ جنت میں وہ شیطان کے ساتھ تھے۔
جنت میں شیطان نے اللہ تعالی کے اقتدار کو چیلینج کیا تھا اسی وجہ سے جنت میں فساد ہوا۔
دنیا میں نبی محمد ﷺ کا مشن صرف قرآن پہنچانا تھا، تشریح کرنا نہیں تھا، تشریح کے لیے بعد میں رشاد خلیفہ کو بھیجا گیا۔
یا جوج ماجوج کی قوم ۲۲۷۱؁ ء میں نکلے گی۔
حدیث تاریخ کا ماخذ ہے، لیکن اس کو دینی تعلیم کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے۔
اللہ تعالی نے شیطان کو اس وسیع زمین میں عارضی الہ بنایا۔
نبی عیسی کی وفات ہو گئی اور وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔
کثرتِ ازدواج صرف اس وقت جائز ہے جب رشاد خلیفہ کی دی ہوئی تین شرائط پائی جائے۔
اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں۔
قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت ایک گھڑی ہوئی بات ہے۔
چوری کی سزا میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، مسروقہ چیز کی قیمت دے دینا کافی ہے۔
قاتل کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، فدیہ دے دینا کافی ہے۔
زانی کو رجم نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف ۱۰۰ کوڑے لگائے جائیں گے۔
حضرت علی رضی الله عنہ قرآن بگاڑنے والے کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے، یہ ایک وجہ ہے جو حضرت حسین
رضي الله عنه
کی شہادت کا سبب بنی۔
ادنی جنت دو ہیں، اور اعلی جنت بھی دو ہیں، ایک مؤمنین کے لیے اور ایک جنات کے لیے۔
جہنم اب موجود نہیں ہے، بلکہ اس کو قیامت کے دن بنایا جائے گا۔
اللہ سبحانہ و تعالی نے جو قرآن میں جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے اس سے اللہ تعالی، فرشتے، نبی محمد، اور رشاد خلیفہ مراد لیا ہے۔
جنت اور جہنم کے علاوہ بھی ایک ایسی جگہ ہے جو نہ جنت ہے اور نہ جہنم۔
قرآن کے مطابق مذہبِ اسلام میں تین انبیاء ہیں: ابراہیم علیہ السلام، محمد ﷺ، اور رشاد خلیفہ۔
رشاد خلیفہ ۱۹۷۱؁ ء کے حج کے ایام میں معراج میں گیا تھا اور تمام انبیاء سے ملاقات ہوئی۔
جو رشاد خلیفہ کی نبوت کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
سود لینا جائز ہے جب کہ وہ بہت زیادہ نہ لے۔
عورت کے لیے پر دہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
(ماخوذ از انٹرنیٹ ویب سائٹ:
islamicreed.wordpress.com
)۔
رشاد خلیفہ کی جماعت کا حکم:
اگر اس جماعت کے یہی عقائد ہیں جو مذکور ہوئے، تو پھر رشاد خلیفہ اور اس کے ماننے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، ایسے عقائد رکھنے والے اسلام سے خارج ہیں۔ احادیث میں ایسے لوگوں کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں روایت ہے:

عن ثوبان رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:

وأنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبي وأناْ خاتم النبيين لا نبي بعدي. (رواه أحمد في مسنده: ۵/ ۲۷۸).
قال ابن كثير رحمه الله: وقد أخبر الله تبارك وتعالى في كتابه ورسوله ﷺ في السنة المتواترة عنه أنه لا نبي بعدي، ليعلموا أن كل من ادعي هذا المقام فهو كذاب وأفاك، دجال، ضال، مضل. (تفسير ابن كثير: ۳/۵٤۳).
ومن ادعي النبوة، أو صدق من ادعاه، فقد ارتد؛ لأن مسيلمة لما ادعي النبوة فصدقه قومه صاروا بذلك مرتدين. وكذلك طليحة الأسدي ومصدقوه، وقال النبي ﷺ: لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون كلهم يزعم أنه رسول الله. (المغني لابن قدامة: ۱۰/۱۰۳، كتاب المرتد، فصل: حكم من ادعي النبوة، ط: دار الفكر بيروت).
ودعوي النبوة بعد نبينا صلي الله عليه وسلم كفر بالإجماع. (شرح الفقه الأكبر، ص ۱٦٤، ط: قديمي كتب خانه).
والأصل أن من اعتقد الحرام حلالاً فإن كان حراماً لغيره كمال الغير لا يكفر وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعياً كفر، وإلا فلا. (رد المحتار: ٤/۲۲۳، سعيد).
ولا يجوز للمرتد أن يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة أصلية وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع أحد. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۸۲).
المجمع الفقه الإسلامي
کا فیصلہ: چوتھا فیصلہ رشاد خلیفہ کا کفر:
اجلاس میں رشاد خلیفہ امام مسجد توسان امریکہ سے متعلق فائل پر غور کیا گیا جس میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے نام اس کا خطاب بھی ہے، اور دیگر اس کے دعوے، تصرفات اور شائع شدہ چیزوں کا ذکر ہے، تحقیق کے بعد اجلاس کے سامنے یہ ثابت ہو گیا کہ رشاد نامی شخص نے بالکل جھوٹے دعوے کیے ہیں جن میں سے بعض دعوے یہ ہیں:
اول: قرآنِ کریم کی بعض آیات کا انکار۔
دوم: سنتِ نبوی شریف کا انکار۔
سوم: مسلمانوں کی نماز کے بارے میں مشرکین کی نماز ہونے کا دعوی۔
چہارم: رسالت کا دعوی۔
مذکورہ بالا دعووں میں سے ہر ایک دعوی اپنی جگہ پر اسلام سے خارج اور کافر قرار دیتا ہے، یہ تمام امور اسلام کے بنیادی امور ہیں، لہذا المجمع طے کرتا ہے کہ رشاد خلیفہ نے جو کچھ دعوی کیا ہے اس کی بنیاد پر وہ مرتد ہو چکا ہے، وہ اسلام سے خارج اور کافر ہے، مسلمان اس سے چوکنا اور اس کی خباثت سے ہوشیار رہیں، اس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں، اس شخص کے پیچھے نماز باطل ہو گی، اور اس مرتد کے جھوٹے دعوے قادیانیوں اور بہائیوں جیسے دوسرے مرتدین ہی کے دعووں کا تسلسل ہے، جن کی تردید اور انکار پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور مسلم علماء ان کی تردید میں تفصیل کے ساتھ جو جوابات لکھتے رہے ہیں وہی اس مجرم مرتد کے جھوٹے دعووں کی تردید کے لیے کافی ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "
يريدون أن يطفئوا نور الله بأفواههم ويأبي الله إلا أن يتم نوره ولو كره الكافرون" [التوبة: ۳۲]
اس فیصلے پر مجلس المجمع الفقہی کے رئیس، نائب رئیس اور ۱۵ ممبران حضرات کے دستخط ثبت ہیں۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ترتیب از قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہ اللہ، ص
224-225
، ادارۃ القران و العلوم الاسلامیہ، کراچی)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.