گریبان میں بٹن کھولنے کا حکم:
Question
گریبان میں بٹن کھولنا بہتر ہے یا بند کرنا، اگر بند کرنا بہتر ہو تو حضرت معاویہ بن قرہ رحمه الله کیوں بٹن کھلے رکھتے تھے، جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتے تھے؟
Answer
حضرت نبی پاک ﷺ کی عادتِ شریفہ بیشتر اوقات اپنے گریبان میں بٹن لگانے کی تھی، ہاں گا ہے گا ہے کھلا رکھنا بھی ثابت ہے، اسی حالت میں حضرت معاویہ بن قرہ رحمه الله کے والد نے آپ ﷺ کو دیکھا تو آپ نے سمجھا کہ یہی عادتِ مستمرہ ہے اس لیے عشق نبی و حبِ نبی میں بٹن کھلا رکھنا شروع کیا۔ روایات ملاحظہ فرمائیے:
عن معاوية بن قرة رحمه الله قال: حدثني أبي قال: أتيت رسول الله ﷺ في رهط من مزينة فبايعناه وإن قميصه لمطلق الأزرار قال: فبايعته ثم أدخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم، قال عروة: فما رأيت معاوية رحمه الله ولا ابنه قط إلا مطلقي أزرارهما في شتاء ولا حر ولا يزرران أزرارهما أبداً. (رواه أبو داود، رقم: ٤۰۸٤).
وأخرجه أيضاً البيهقي في شعب الإيمان، (رقم: ۵۸۲۷)، وأبو الشيخ في أخلاق النبي ﷺ، (رقم: ۲٤۰)، والترمذي في الشمائل، (رقم: ۵۸)، وابن ماجه في سننه (رقم: ۳۵۷۸).
بذل المجهود
میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمه الله فرماتے ہیں:
فيه تمثيل الصحابة والتابعين، فمن بعدهم من السلف الصالح باتباع السنة والمداومة عليها مهما استطاعوا، جعلنا الله تعالى من أهل الاتباع وجنبنا الابتداع.
وكتب مولانا محمد يحيى المرحوم من تقرير شيخه: قوله: فما رأيت معاوية، إلى آخره، وهذا وإن كان اختياراً لما هو خلاف الأولي خصوصاً في الصلوات، لكنهما أحبا أن يكونا على ما رأيا النبي ﷺ، وإن كان إطلاقه أزراره إذ ذاك لعارض، ولم يكن هذا من عامة أحواله ﷺ، وذلك لما فيه من قلة المبالاة بأمر الصلاة، إلا أن الكراهة لعلها لا تبقي في حق معاوية رحمه الله وابنه لكون الباعث لهما حب النبي ﷺ واتباعه فيما رأياه من الكيفية. (بذل المجهود في حل سنن أبي داود: ۱۲/ ۱۰۹، دار البشائر الإسلامية).
شرح رياض الصالحين
میں ہے:
فظن معاوية رحمه الله أن هذا من السنة، وهو ليس من السنن المطلقة، لكن من السنة إذا كان فيه تخفيف على البدن، لان كل ما يخفف عن البدن فهو خير
لأنه لوكان من السنة لكان وضع الأزرار عبثاً لا فائدة منه؛ والدين الإسلامي ليس فيه شيء عبث، فكله جد. (شرح رياض الصالحين للشيخ العثيمين: ۲/۱۰۹۱).
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال: کرتہ کی گھنڈی یا بٹن کھلا رکھنا جس سے سینہ بھی کھلا رہے سنت ہے یا نہیں؟
الجواب: درست ہے احیاناً رسول اللہ ﷺ نے کھلے رکھے ہیں۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۲٦
)۔
شمائل کبری میں ہے:
حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک کرتا بنوایا تھا جو تکمہ دار گھنڈی والا تھا۔ (جمع، ص
۱۱۱
) فائدہ: یعنی کرتے کے گریبان میں گھنڈی (بٹن) لگوائی تھی۔
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گھنڈی لگاؤ خواہ کانٹے سے ہی سہی۔ (احمد، کنز العمال:
۱۹
/
۲۱۹
) فائدہ: یعنی سینہ کو بٹن لگا کر مستور رکھو، آپ ﷺ کے کرتے کا گریبان دونوں حال میں ہوتا، کبھی لگا ہوا کبھی کھلا ہوا۔
زید بن اسلم رحمه الله نے ذکر کیا ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
کا تکمہ کھلا ہوا دیکھا، میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی پاک ﷺ کو اسی طرح (کھلا بٹن) نماز پڑھتے دیکھا ہے (بزار)۔
معاویہ بن قرہ رحمه الله نے اپنے والد سے بیان کیا ہے کہ قبیلہ مزنیہ کے لوگوں کے ساتھ میں نے بیعت کی تو آپ کے کرتے کے بٹن کو کھلا ہوا دیکھا، محدث بیہقی رحمه الله نے لکھا ہے کہ اس کے راوی عروہ رحمه الله نے کہا کہ میں نے معاویہ رحمه الله کو ہمیشہ گھنڈی نہ لگی قمیص میں پایا، خواہ گرمی ہو یا جاڑا۔ (آدابِ بیہقی، ص
۳۵۲
)۔
یہ محبت اور کمالِ اتباع کی بات تھی کہ جیسا آپ ﷺ کو دیکھا اسی حال میں اپنے آپ کو رکھنا پسند کیا اور جاڑے کی تکلیف کی از راہِ محبت پر واہ نہ کی۔ (شمائلِ کبری:
۱
/
۱۵۸
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.