صف کے درمیان حالت سجدہ میں بازوؤں کو کھولنے کا حکم:
Question
سجدہ کی حالت میں بازوؤں کو کھولنا مسنون ہے تو کیا صف کے درمیان بھی کھولنا چاہیے؟
Answer
صف کے درمیان اگر جگہ تنگ ہے اور ایذاء کا اندیشہ ہے تو بازوؤں کو کھول کر نہیں رکھنا چاہیے اور اگر تکلیف کا اندیشہ نہیں ہے اور صف کے درمیان وسعت ہے تو کھول کر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
(ويظهر عضديه) في غير زحمة (ويباعد بطنه عن فخذيه) ليظهر كل عضو بنفسه، بخلاف الصفوف فإن المقصود اتحادهم حتى كأنهم جسد واحد. وفي الشامي: (قوله في غير زحمة) جعله قيداً لا ظهار العضدين فقط تبعاً للمجتبى، قال: في البحر أخذاً من الحلية وهذا أولى مما في الهداية والكافي والزيلعي من أنه إذا كان في الصف لا يجافي بطنه عن فخذيه لأن الإيذاء لا يحصل من مجرد المحاذاة، وإنما يحصل من إظهار العضدين. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٥۰۳، سعيد)
آپ کے مسائل میں ہے:
جماعت میں زیادہ کہنیاں نہیں پھیلانی چاہئیں جس سے دوسروں کو تکلیف ہو ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۲/۱۹٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.