بچے کو مردوں کی صف میں کنارے پر کھڑا رکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #176Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

بچوں کی صف مردوں کے پیچھے ہونی چاہیے لیکن اگر صرف ایک بچہ ہو تو کیا وہ مردوں کی صف میں کنارے پر کھڑا ہو سکتا ہے؟

Answer

اصل تو یہ ہے کہ بچے مردوں کی صفوں کے پیچھے ہوں، لیکن زیادہ شرارت کرتے ہوں تو ایک ایک دو دو کو صفوں کے کنارے کھڑا کر سکتے ہیں، بعض فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے، لہٰذا اگر ایک ہو تو اس کو مردوں کی صف میں کنارے پر کھڑا کرنا بدرجۂ اولیٰ جائز ہے ۔
در مختار میں ہے:

(ثم الصبيان) ظاهره تعددهم فلو واحداً دخل الصف، وفي الشامي: (قوله: فلو واحداً دخل الصف) ذكره في البحر بحثاً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٥۷۱، باب الإمامة، سعيد)

تقریراتِ رافعی میں ہے:

(قوله ذكره في البحر بحثاً) قال الرحمتي: ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال لأن المعهود منهم إذا اجتمع صبيان فأكثر تبطل صلاتهم بعضهم ببعض وربما تعدي ضررهم إلى إفساد صلاة الرجال انتهى، سندي. (التقريراتِ الرافعي: ۷۳، سعيد)

نیز حدیث میں ہے: "
ليلني منكم أو لو الأحلام والنهي"
اس سے پتا چلتا ہے کہ امام کے قریب بالغ اور عقلمند کھڑے ہوں گے، تو ایک بچہ کنارے پر کھڑا ہوگا نہ کہ بیچ میں امام کے قریب ۔
امداد الفتاح میں ہے:

ثم يصف الصبيان لقول أبي مالك الأشعري رضي الله عنه أن النبي ﷺ صلى وقام الرجال يلونه وأقام الصبيان خلف ذلك وأقام النساء خلف ذلك وإن لم يكن جمع من الصبيان يقوم الصبي بين الرجال. ذكره الزيلعي في نصب الراية: (۲/۳
٦
) وأخرجه بنحوه الطبراني في معجمه الكبير: (
٦
/۳
٤
) وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: (۱/۱۲۹). (إمداد الفتاح مع الحاشية: فصل في بيان الأحق بالإمامة وفي بيان ترتيب الصفوف: ۳٤۹، بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.