مردوں کی صف اور بچوں کی صف کے درمیان خلا چھوڑنے کا حکم:
Question
بعض مساجد میں دو تین صفوں کو چھوڑ کر بچوں کو کھڑا کر دیا جاتا ہے تاکہ آنے والے مرد اگلی صفوں میں کھڑے ہو سکیں، کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ یا بچے مردوں کی صف کے متصل دوسری صف میں کھڑے ہو جائیں پھر آنے والے مرد ان کے ساتھ یا ان کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ۔
Answer
عام طور پر مسجد میں مردوں کی جتنی صفیں ہوتی ہیں اتنی صفوں کے پیچھے بچوں کی صف بنا دی جائے اس کے بعد اگر بالغ لوگ آ جائیں اور آگے جگہ نہ ہو تو پیچھے کھڑے ہو جائیں ۔
امداد الفتاح میں ہے:
وإذا اجتمع الرجال وغيرهم يصف الرجال خلف الإمام لقوله ﷺ ليلني منكم أولو الأحلام والنهي
ثم يصف الصبيان لقول أبي مالك الأشعري رضي الله عنه أن النبي ﷺ صلي وقام الرجال وأقام الصبيان خلف ذلك وأقام النساء خلف ذلك وإن لم يكن جمع من الصبيان يقوم الصبي بين الرجال. (ذكره الزيلعي في نصب الراية: ۲/۳٦. وأخرجه بنحوه الطبراني في معجمه الكبير: ۳٤۱٦. وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: ۱/۱۲۹). (إمداد الفتاح مع الحاشية: ص 349، ترتيب صفوف الصلاة. وهكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۸۹، الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم. والشامي: ۱/٥۷۱ باب الإمامة، سعيد)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اگر لڑکوں کے آگے کو جا کر یا صف کو چیر کر بالغوں کی جماعت میں مل س کے تو چلا جاوے اور بالغوں کی جماعت میں شریک ہو جاوے اور اگر کچھ ممکن نہ ہو اور لڑکوں کی ہی جماعت میں کھڑا ہو جاوے تب بھی نماز صحیح ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
۳/۳۳۹)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
جب اگلی صف میں جگہ ہو تو اس کو پُر کرنے کے لیے لڑکوں کی صف کے سامنے سے گزرنا پڑے تو اس میں حرج نہیں جائز ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱/۱۹
٤)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
بچوں کی صف جب بڑی ہو اور کوئی بالغ آدمی آ کر بالغین کی صف میں کھڑ ا ہونا چاہیے تو بچوں کے سامنے سے گذر کر آگے بڑھ جائے ۔ بچوں کی صف میں کھڑا نہ ہو ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/
٤۹۰
باب تسویۃ الصفوف) ۔ واللہ
گ
اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.