صف کی ایک جانب میں راستہ چھوڑنے کا حکم:
Question
نماز کے فوراً بعد لوگوں کے نکلنے کے لیے آسانی کی خاطر ہماری مسجد میں صف کی ایک جانب میں راستہ چھوڑ دیا جاتا ہے، یعنی صف دیوار تک مکمل نہیں ہوتی، اس کی وجہ سے کوئی گناہ ہوگا، یا نہیں؟ یا کوئی کراہت پیدا ہو گی یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
مسجد میں صف کی ترتیب ایک دیوار سے دوسری دیوار تک ہوتی ہے لیکن کسی عذر کی وجہ سے صف مصنوعی راستہ تک روک دی جائے تو بھی بلاکراہت درست ہے، جیسے مسجد میں منبر، تپائیاں اور ستون وغیرہ کی وجہ سے جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔ اور یہ جگہ نماز سے مستثنی ہوتی ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:
لأنه صف في حق كل فريق وإن لم يكن طويلاً وتخلل الأسطوانة بين الصف كتخلل متاع موضوع أو كفرجة بين رجلين وذلك لا يمنع صحة الاقتداء ولا يوجب الكراهة. (المبسوط: ۲/٦۲، ط: بيروت، لبنان).
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
يكون الصف ما يلي الإمام في داخلها وما اتصل به من طرفيها خارجاً عنها من أول الجدار إلى آخره فلا ينقطع الصف ببنائها (المقصورة) كما لا ينقطع بالمنبر الذي هو داخلها فيما يظهر وصرح به الشافعية. (فتاوى الشامي: ۱/۵٦۹، سعيد).
امداد المفتین میں مذکور ہے:
في رد المحتار: فلا ينقطع الصف ببنائها (المقصورة) كما لا ينقطع بالمنبر الذي هو داخلها فيما يظهر حرج صرح به الشامية، (شامي: ۱/۵۳۲)، وفي الدر المختار بعد ذلك ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكاناً كره كقيامه في صف خلف صف. (الدر المختار: ۱: ۵۳۳)
عبارت نمبر ۱ سے معلوم ہوا کہ منبر کے دائیں بائیں صف بنائی جاوے، تو منبر کی وجہ سے صف کو منقطع نہ قرار دیا جاوے گا اور کوئی کراہت نہ ہو گی اور عبارت نمبر ۲ سے معلوم ہوا کہ ضرورت اور تنگی سے انقطاعِ صف کی رعایت بھی ساقط ہو جاتی ہے کراہت نہیں رہتی۔ (امداد المفتین: ۲/ ۲۹۲، ط: دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
اگر منبر صف کے درمیان آ جائے کہ کچھ مقتدی صف کی ایک جانب ہوں اور کچھ دوسری جانب ہوں تو اس کی وجہ سے صف میں خلل نہیں آتا، صف درست ہو جائے گی، مبسوط سرخسی میں ایسا ہی مذکور ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/ ۵۳۰، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.