چار ماہ سے زیادہ بیوی کو چھوڑنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 8 #272Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

حیاۃ الصحابہ میں مذکور حضرت عمر رضی الله عنه کے ایک واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو بیوی چھوڑ کر ٤ یا ٦ مہینے سے زیادہ اللہ تعالی کے راستہ میں نہیں نکلنا چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ شادی شدہ علماء ایک سال کی جماعت میں جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح غیر شادی شدہ علماء کے لیے ایک سال کی جماعت میں جانے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ شادی شدہ علماء جو سال کی جماعت میں جاتے ہیں وہ اپنے گھر والوں کی اجازت سے جاتے ہیں اور یہ جانا اس طرح ہے جیسے دوسرے ممالک میں ملازمت کے لیے لوگ آپس کی رضامندی اور اجازت سے جاتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ملاحظہ کیجیے: مصنف عبد الرزاق میں ہے:
عبد الرزاق عن ابن جريج قال: أخبرني من أصدق أن عمر رضي الله عنه وهو يطوف سمع امرأة وهي تقول:
تطاول هذا الليل وأخضل جانبه
خ
وأرقني إذ لا خليل ألاعبه
فلولا حذار الله لا شيء مثله
خ
لزعزع من هذا السرير جوانبه
فقال عمر رضي الله عنه: فما لك قالت: أغربت زوجي منذ أربعة أشهر وقد اشتقت إليه، فقال: أردت سوء ا ً، قالت: معاذ الله، قال: فأملكي نفسك، فإنما هو البريد إليه فبعث إليه ثم دخل حفصة فقال: إني سائلك عن أمر قد أهمني فأفرجيه عنه، كم تشتاق المرأة إلى زوجها فخفضت رأسها فاستحيت فقال: إن الله لا يستحيي من الحق فأشارت ثلاثة أشهر وإلا فأربعة فكتب عمر رضي الله عنه ألا تحبس الجيوش فوق أربعة أشهر. (مصنف عبد الرزاق، رقم: ۱۲۵۹۳، باب حق المرأة على زوجها وفي كم تشتاق).

اس روایت کی سند میں ایک راوی مجہول ہے، لیکن دوسری روایت ٹھیک ہے۔ ملاحظہ ہو:
عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر رضي الله عنه قال: خرج عمر بن الخطاب رضي الله عنه من الليل فسمع امرأة تقول:

فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه لحفصة بنت عمر: كم أكثر ما تصبر المرأة عن زوجها؟ فقالت: ستة أو أربعة أشهر، فقال عمر رضي الله عنه: لا أحبس الجيش أكثر من هذا. (السنن الكبرى للبيهقي ۹/۲۹، باب الامام لا يجمر بالغزي).

علماء نے اس واقعہ کی دو توجیہات بیان کی ہیں: (۱) حضرت عمر
رضي الله عنه
نے کسی فوجی کو رہنے پر مجبور کرنے سے منع فرمایا تھا، اور یہ حدِ فاصل مقرر کر دی تھی، یعنی چار مہینے کے بعد شوہر کو باہر رہنے پر مجبور نہ کیا جائے ہاں آپس کی رضامندی سے باہر رہے تو کوئی حرج نہیں۔
(۲) یہ واقعہ مبنی بر احتیاط ہے اور ہر شخص کے حالات کے اعتبار سے معاملہ کیا جائے گا، جیسا کہ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمه الله نے فرمایا کہ ہر شخص کے حالات مختلف ہوتے ہیں، ہر شخص کو اپنے حالات لکھ کر مشورہ کرنا چاہیے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۲۰٤
)۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں: اگر صاحب حق خود معاف کر دے، یا اس کے حق کا معاوضہ دے کر اللہ تعالی معاف کرا دیں تو ان بلا فیس وکیلوں کے پاس کیا حجت رہے گی؟ اور یہ بھی کہ یہ حق تلفی ان کو دین ہی کے کام میں کیوں یاد آتی ہے؟ لوگ بیویوں کو چھوڑ کر دنیا کا کوڑا جمع کرنے کے لیے کئی کئی سال کافر ملکوں میں گزار آتے ہیں، اس وقت کسی کو حق تلفی کا فلسفہ کیوں یاد نہیں آتا۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۱۹۱
)۔
محمود الفتاوی میں مرقوم ہے:
دین کا سیکھنا، سکھانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے، دین سیکھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عربی مدارس میں داخلہ لے کر باقاعدہ پورا نصاب پڑھ کر اساتذہ کی خدمت میں رہ کر علم حاصل کرے، اور جس کے پاس اتنا وقت نہیں یا اتنی مالی وسعت نہیں یا عمر زائد ہو چکی ہے یا دیگر اعذار ہیں، اس کے لیے دین سیکھنے کی ایک صورت تبلیغی جماعت میں نکلنا بھی ہے، جس طرح پہلی صورت میں ایک سال یا نو سال یا کم و بیش وقت کے لیے آدمی کا گھر سے نکلنا جائز و درست اور اسلاف و اکابر کے متواتر عمل سے ثابت ہے اسی طرح دوسری صورت میں بھی درست و جائز ہے۔ (محمود الفتاوی:
۵
/
۷۱
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.