امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہے:

3 min readFatwa Vol 2 #241Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۷): فیما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا

Question

ایک جماعت خانے میں آنے کا راستہ پہلی صف کے کنارے سے ہے اور نماز شروع ہونے کے بعد بھی مصلی آتے ہیں اور اکثر مقتدیوں کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے لیکن امام کے سامنے دیوار ہے تو یہ امام کا سترہ ہے لیکن مقتدیوں کا سترہ نہیں ہے تو امام کے سامنے والی دیوار تمام مقتدیوں کے لیے بطور سترہ کافی ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہے لہذا کسی اور سترہ کی ضرورت نہیں البتہ نماز با جماعت ختم ہونے کے بعد اگر مصلی سنتیں پڑھتے ہوں تو ان کے سامنے سے گزرنا ممنوع ہوگا، نیز مسبوق امام کی نماز کے بعد فوت شدہ نماز پڑھے تو اس کے لیے بھی سترہ کی ضرورت نہیں ہے ۔
امداد الفتاح میں ہے:

وسترة الإمام سترة لمن خلفه، لأن النبي ﷺ صلى بالأبطح إلى عنزة ركزت له ولم يكن للقوم سترة. ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد: ۲/۸٤ وأخرجه البخاري في باب الصلاة إلى العنزة ومسلم في باب سترة المصلي. (إمداد الفتاح: ٤۰۰، فصل في اتخاذ السترة)

شامی میں ہے:

(وكفت سترة الإمام للكل أي للمقتدين به كلهم و عليه فلو مر مار في قبلة الصف في المسجد الصغير لم يكره إذا كان للإمام سترة، وظاهره الاكتفاء بها ولو بعد فراغ إمامه، وإلا فما فائدته؟ وقد يقال: فائدته التنبيه على أنه كالمدرك لا يطلب منه نصب سترة قبل الدخول في الصلاة وإن كان يلزم أن يصير منفرداً بلا سترة بعد سلام إمامه، لأن العبرة لوقت الشروع وهو وقته كان مستتراً بسترة إمامه تأمل. (شامي: ۱/٦۳۸، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، سعيد)

ہدایہ میں ہے:

وسترة الإمام سترة للقوم لأنه عليه السلام صلي ببطحاء مكة إلى عنزة ولم يكن للقوم سترة. (هداية: ۱/۱۳۹، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها)

عمدۃ الفقہ میں ہے:
امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہے پس جب امام کے آگے سترہ ہو تو اگر کوئی مقتدیوں کی صف کے سامنے سے گذرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے اور یہی حکم مسبوق کے لیے بھی ہے کیوں کہ اعتبار نماز شروع کرنے کے وقت کا ہے اور اس وقت امام کا سترہ اس کے لیے کا فی تھا پس اب بھی وہی کافی رہے گا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۲۷٦، سترہ کے مسائل، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.