اپنا ہاتھ بطورِ سترہ استعمال کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #243Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۷): فیما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا

Question

مصلی کے سامنے سے گزرنے والا شخص اگر اپنا ہاتھ بطورِ سترہ لٹکا دے اور گذر جائے تو کیا حکم ہے؟ کیا گزرنے والے کا ہاتھ سترہ بن سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

سترہ کا مطلب یہ ہے کہ گزرنے والے کے بدن کے علاوہ کوئی اور چیز مصلی اور گزرنے والے کے درمیان حائل ہو، لہذا بصورتِ مسئولہ گزرنے والے کا ہاتھ سترہ نہیں بن سکتا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

وإنما يأثم إذا مر

ويحاذي أعضاء المار أعضاء ه لوكان يصلي على الدكان. (الهداية: ۱/۱۳۸، وكذا في رد المحتار: ۱/٦۳٥، سعيد).

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:

ولا يكون بينهما حائل

أي بين المصلي والمار يعني الإثم إذا لم يكن بينهما ما يحول كالأسطوانة والجدار وأما إذا كان بينهما حائل فلا يأثم المار. (البناية في شرح الهداية: ۱/۷۸۸، فيصل آباد).

درج کردہ عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ گزرنے والے کا عضو سترہ نہیں بن سکتا ہے، کیوں کہ سترہ کے لیے حائل کا لفظ ہے یعنی سترہ وہ ہے جو مصلی اور گزرنے والے کے درمیان حائل ہوتا ہے، پھر یہ بھی یا در ہے کہ گزرنے کی ممانعت گزرنے والے کے ہر ہر عضو پر عائد ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو: شافعی فقہ کی کتاب میں ہے:

قال ويحرم المرور بينه وبينها

والمراد أنه يحرم على العامد العالم المكلف المعتقد لحرمة المرور، ولو ببعض بدنه كيده. (تحفة الحبيب على شرح الخطيب: ۲/۲٦٥).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.