مصلی کے سامنے سے گذرنے میں مسجدِ کبیر اور صغیر کا فرق:
Question
کیا فقہاء کے نزدیک ایسی روایت ہے جس میں مسجدِ صغیر و کبیر اور صحراء میں مصلی کے سامنے سے گذرنے کی ممانعت صرف محلِ سجود تک محدود ہو؟
Answer
فقہاء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ صحراء یا مسجدِ کبیر میں نماز پڑھ رہا ہے تو مصلی کے سامنے سے گذرنے کی ممانعت صرف موضعِ سجود تک محدود ہے، اور موضعِ سجود کے متعلق اصح قول یہ ہے کہ مصلی کی نگاہ گذرنے والے پر نہ پڑے، اور چھوٹی مسجد میں (جس پر مسجدِ کبیر کی تعریف صادق نہ آتی ہو) مصلی کے آگے سے گزرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
إلا أن المار آثم لقوله عليه السلام: "لو علم الماربين يدي المصلي ماذا عليه من الوزر لوقف أربعين" وإنما يأثم إذا مر في موضع سجوده على ما قيل. (هداية: ۱/۱۳۸)
بنایہ میں ہے:
قوله على ما قيل: وهو اختيار شمس الأئمة السرخسي رحمه الله وشيخ الإسلام رحمه الله وقاضيخان رحمه الله، وقال فخر الإسلام رحمه الله: إذا صلى رامياً بصره إلى موضع سجوده ولا يقع عليه بصره لا يكره، ومنهم من قال مقدار صفين أو ثلاثة، ومنهم من قدره بثلاثة أذرع ومنهم من قدر بخمسة أذرع ومنهم من قدر بأربعين ذراعاً، وقال التمرتاشي رحمه الله: والأصح إن كان بحال لو صلى صلاة خاشع بصره ولا يقع على المار فلا يكره نحو أن يكون منتهي بصره في قيامه إلى موضع سجوده وفي ركوعه إلى صدور قدميه وفي سجوده إلى أرنبة أنفه وفي قعوده إلى حجره وفي السلام إلى منكبه وهذا كله إذا كان في الصحراء وفي الجامع الذي له حكم الصحراء وأما في المسجد فالحد هو المسجد إلا أن يكون بينه وبين المار أسطوانة وغيرها
(البناية في شرح الهداية: ۱/۷۸۸)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
نماز پڑھنے والے کی سجدہ کی جگہ میں سے کسی کا گزرنا مکروہ تحریمی اور سخت گناہ ہے اگر چہ اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی اصح یہ ہے کہ میدان اور بہت بڑی مسجد میں جو میدان کے حکم میں ہے نماز ی کے قدموں سے سجدہ کی جگہ تک میں گزرنا مکروہ تحریمی ہے اور گذرنے والا گنہگار ہے اس کے بعد سے نہیں اور بعض مشائخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھنے میں قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ پر نظر جمائے ہوے ہو تو جتنی دور تک اس کی نگاہ پھیلے اتنی دور تک گزرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس کے بعد یعنی جب گذرنے والے پر اس کی نگاہ پھیل کر نہ پڑے تو مکروہ نہیں یہی صحیح ہے اور یہ موضعِ سجود کی وضاحت ہے کیوں کہ تقریبا موضعِ سجود کا اطلاق اس پر ہوتا ہے اس لیے یہی مرجح ہے ۔ (عمدۃ الفقہ حصہ دوم کتاب الصلاۃ: ۲۷٤، سترہ کے مسائل، مجددیہ)
مسجدِ کبیر کی تعریف: در مختار میں ہے:
ويمنع من الاقتداء طريق تجري فيه عجلة أو نهر تجري فيه السفن أو خلاء في الصحراء أو في مسجد كبير جداً كمسجد القدس
قال الشامي: ثم رأيت في حاشية المدني عن جواهر الفتاوى أن قاضيخان سئل عن ذلك فقال: اختلفوا فيه فقدره بعضهم بستين ذراعاً وبعضهم قال: إن كانت أربعين ذراعاً فهي كبيرة وإلا فصغيرة هذا هو المختار. (الشامي: ۱/٥۸٥، سعيد)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اور چھوٹی مسجدوں میں جو قول مختار کی بناء پر چالیس گز شرعی کی مقدار سے کم ہوں اگر نماز ی کے آگے سترہ یا کوئی حائل نہ ہو تو قبلہ کی دیوار تک نماز ی کے آگے سے گزرنا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے کیوں کہ یہ مکان واحد کے حکم میں ہیں ۔ (عمدۃ الفقہ حصہ دوم کتاب الصلاۃ: ۲۷٤، سترہ کے مسائل، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.