بوقتِ جماعت صفوف کے درمیان سے گزرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #132Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

نماز باجماعت کے وقت امام کے سامنے سترہ موجود ہے، جو کہ مقتدیوں کی طرف سے کافی ہے، لیکن کیا مقتدیوں کی صفوف کے درمیان سے بلاکراہت گزرنا جائز ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

نماز باجماعت میں امام کا سترہ مقتدیوں کی طرف سے کافی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صفوں کے درمیان سے بلاکراہت گزرنا جائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مقتدیوں کی صفوں کے سامنے سے گزر جائے تو اس پر گناہ نہیں، کیوں کہ امام کے سامنے سترہ موجود ہے، ہاں صفوں کے درمیان سے بلا عذر گزرنے والا گنہگار اور مستحق وعید ہوگا ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے:

عن بسر بن سعيد أن زيد بن خالد أرسله إلى أبي جهيم يسأله ماذا سمع من رسول الله ﷺ في المار بين يدي المصلي، فقال أبو جهيم: قال رسول الله ﷺ: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيراً له من أن يمر بين يديه. (رواه البخاري: ۱/۱۰۸/۵۱۰، باب إثم المار بين يدي المصلي).
قال العلامة العيني رحمه الله: والمرور بين يدي المصلي مكروه، إذا كان إماماً أو منفرداً أو مصلياً إلى سترة، وأشد منه أن يدخل المار بين السترة وبينه، وأما المأموم فلا يضره من مر بين يديه، كما أن الإمام أو المنفرد لا يضر واحد منهما ما مر من وراء سترته، لأن سترة الإمام سترة لمن خلفه. (عمدة القاري: ۲/۷۰، ط: دار الفكر).
وقال في الدر المختار: كفت سترة الإمام للكل، وفي رد المحتار: قوله للكل أي للمقتدين به كلهم، وعليه فلو مر مار في قبلة الصف في المسجد الصغير لم يكره إذا كان للإمام سترة. (فتاوى الشامي: ٤/۱۳۱، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها).

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہے پس جب امام کے آگے سترہ ہو تو اگر کوئی مقتدیوں کی صف کے سامنے سے گزرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۲۷٦، سترہ کے مسائل) ۔
مظاہر حق میں مذکور ہے:
باجماعت نماز کی صورت میں امام کا سترہ تمام مقتدیوں کی طرف سے کافی ہے، یعنی اگر امام کے آگے سترہ ہے تو مقتدیوں کے سامنے سے گزرنے میں کچھ گناہ نہیں خواہ ان کے آگے کوئی آڑ ہو یا نہ ہو لیکن سترہ کے ورے سے گزرنا جائز نہیں ۔ (مظاہر حق: ۱/٦٤۵، باب السترۃ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.