امام نے رکوع میں نیت کی تو مقتدیوں کے سجدہ کا حکم:
Question
اگر رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت کر لی اور مقتدیوں نے نہیں کی تو مقتدیوں کا سجدہ ادا ہوگا یا نہیں؟
Answer
اس مسئلہ میں اگر چہ اختلاف ہے لیکن قرین قیاس یہ ہے کہ اما م کی نیت مقتدی کی طرف سے کافی ہو نا چاہیے جیسے مسافر امام سفر والی نماز یا مقیم اقامت والی نماز کی نیت کر لے تو مقتدیوں کے لیے کافی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب امام نے رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت کر لی تو مقتدیوں کی طرف سے کافی ہو گی اور تمام کا سجدہ ادا ہو جائے گا، لیکن افضل طریقہ یہ ہے کہ جہری نماز میں مستقل سجدہ کر کے ادا کرنا چاہیے تاکہ جاہل عوام پر کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو ۔ ملاحظہ ہو منحۃ الخالق میں ہے:
(قوله وفي القنية ولو نواها في الركوع الخ) قال في النهر وينبغي حمله على الجهرية، قلت: لعل وجهه والله أعلم ما يأتي عن القنية أيضاً أن الركوع أولي في صلاة المخافتة وعلله في التتارخانية بقوله لئلا يلتبس الأمر على القوم فإنه يفيد أنه لا يلزم القوم نيتها في الركوع لأنه لا علم لهم بتلاوته وإلا لم يحصل عليهم التباس بخلاف الجهرية. (منحة الخالق على هامش البحر الرائق: ۲ /۱۲۳، باب سجود التلاوة)
مراقی الفلاح میں ہے:
ويجزئ عنها أي عن سجدة التلاوة ركوع الصلاة إن نواها أي نوى أداء ها فيه نص عليه محمد رحمه الله لأن معني التعظيم فيهما واحد وينبغي ذلك للإمام مع كثرة القوم أو حال المخافتة حتى لا يؤدي إلى التخليط وفي الطحطاوي: قوله وينبغي ذلك للإمام أن يجعلها في ركوع الصلاة إن كانت سرية. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي: ص ٤۸٦، باب سجود التلاوة، قديمي. والشامي: ۲/۱۱۲، باب سجود التلاوة. والفتاوى الهندية: ۱/۱۳٤)
احسن الفتاوی میں ہے:
راجح یہ ہے کہ رکوع میں امام کی نیت مقتدی کی طرف سے بھی کافی ہے ۔ (
احسن الفتاوى: ٤/٥۹. وكفايت المفتي: ۳/٤۱٥، دار الاشاعت).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.