نوافل میں رکوع و سجود کی تسبیحات کی مقدار:

3 min readFatwa Vol 9 #53Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص نے اپنے بیان میں یہ کہا کہ رکوع و سجود کی تسبیحات تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ کی مقدار یہ ان فرائض کے لیے ہیں جو جماعت کے ساتھ پڑھے جائیں اور مسافر کے لیے ہیں، عام حالات میں گیا رہ مرتبہ پڑھنی چاہیے، کیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟ افیدونا ماجورین ۔

Answer

علماء نے لکھا ہے کہ رکوع و سجود کی تسبیحات کی کم سے کم مقدار تین مرتبہ ہے اور تین مرتبہ سے زیادہ پڑھنا بہتر ہے، ہاں امام کو پانچ مرتبہ سے زیادہ نہیں پڑھنا چاہیے تاکہ مقتدیوں پر مشقت نہ ہو، اور منفرد کے لیے تین مرتبہ سے زیادہ بہتر ہے، اور مسافر کے لیے تین مرتبہ کافی ہے عجلت کی وجہ سے، لیکن اگر کوئی غیر مسافر تین مرتبہ پر اکتفاء کر دے تب بھی بلاکراہت اس کی نماز درست ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ويقول سبحان ربي العظيم ثلاثاً وذلك أدناه، لقوله عليه الصلاة والسلام: إذا ركع أحدكم فليقل في ركوعه سبحان ربي العظيم ثلاثاً وذلك أدناه، أي أدنى كمال الجمع. (الهداية: ۱/۱۰٦، ط: المصباح).

دوسری جگہ مذکور ہے:

ويستحب أن يزيد على الثلاث في الركوع والسجود بعد أن يختم بالوتر لأنه عليه الصلاة والسلام كان يختم بالوتر، وإن كان إماماً لا يزيد على وجه يمل القوم حتى لا يؤدي إلى التنفير. (الهداية: ۱/۱۱۰، ط: المصباح).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۷۵، وشرح منية المصلي، ص ۳۱٦، باب صفة الصلاة، سهيل اكيڈمي).
وفي الخلاصة: ولو زاد على الثلاث فذلك أفضل بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ولكن إن كان إماماً لا يطول وقال سفيان الثوري: ينبغي أن يقول خمساً حتى يتمكن القوم أن يقولوا ثلاثاً. (خلاصة الفتاوى: ۱/۵٤، رشيديه).

امام کے لیے پانچ مرتبہ مستحب ہے ۔

ونقل في الحلية (اَلْحَلْبَة) عن عبد الله بن المبارك وإسحاق وإبراهيم والثوري أنه يستحب للإمام أن يسبح خمس تسبيحات ليدرك من خلفه الثلاث. (فتاوى الشامي: ۱/٤۹۵، سعيد).

گیا رہ مرتبہ تسبیحات پڑھنے کو علامہ لکھنوی رحمه الله نے کمال کا اعلی درجہ بیان کیا ہے اور احادیث سے ثابت کیا ہے ۔

قال العلامة اللكنوي رحمه الله في السعاية: رواه أبو داود والنسائي عن سعيد بن جبير قال: سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه يقول: ما صليت بعد رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم وراء أحد أشبه بصلاته من هذا الفتى يعني عمر بن عبد العزيز قال سعيد: فحزرنا ركوعه عشر تسبيحات وسجوده عشر تسبيحات، انتهى. قال ابن حجر رحمه الله في شرح المشكاة بهذا الخبر وبحديث: إن الله وتر يحب الوتر يستدل لما ذهب إليه أئمتنا أن أعلى الكمال إحدى عشر مرات، انتهى. (السعاية: ۲/۱۸۳، سهيل اكيڈمي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.