رکوع، سجدے کی تسبیحات نہ پڑھنے پر نماز کا حکم:
Question
مجھے گرمی کے موسم میں فیور (یعنی تپ کا مرض جس میں مسلسل چھینکیں آتی ہیں) ہو جاتا ہے، ایک دفعہ نمازِ تراویح میں مسلسل چھینکیں شروع ہو گئیں کہ رکوع، و سجدے کی تسبیحات کہنے کا موقع نہ ملا، کیا میری نماز ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
نماز میں رکوع، سجدے کی تسبیحات، سنن نماز میں سے ہیں، کسی عذر کی وجہ سے ترک ہو جائے تو نماز ہو جاتی ہے، نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، ہاں ویسے ہی سستی کی وجہ سے نہ پڑھنے سے کراہت پیدا ہوتی ہے، تاہم سجدۂ سہو لازم نہیں آتا ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:
وأما من حيث الرواية فالأرجح السنية لأنها المصرح بها في مشاهير الكتب، وصرحوا بأنه يكره أن ينقص عن الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماماً
وأن حكم السنة أن يندب إلى تحصيلها ويلام على تركها مع حصول إثم يسير وهذا يفيد أن كراهة تركها فوق التنزيه وتحت المكروه تحريماً. (فتاوى الشامي: ۱/٤۹٤، سعيد).
عمدۃ الفقہ میں ہے: نماز میں اگر کوئی سنت بھولے سے چھوٹ جائے تو نہ نماز ٹوٹتی ہے نہ سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ گناہ ہوتا ہے اور قصداً چھوڑ دینے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی اور نہ سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے لیکن چھوڑنے والا برائی اور ملامت کا مستحق ہوتا ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۱۰۲، ط: زوار اکیڈمی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.