رکوع سجدے میں جاتے ہوے پاجامہ اٹھانے سے نماز کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #233Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۷): فیما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا

Question

سجدے میں جاتے وقت مصلی اپنا پاجامہ یا کرتہ سمیٹ لے تو نماز میں کچھ خلل واقع ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

رکوع سجدے میں جاتے وقت دونوں ہاتھوں سے پاجامہ اٹھانے سے نماز میں کراہت پیدا ہوتی ہے لیکن نماز فاسد نہیں ہوئی، البتہ نماز میں ایسی حرکت کرنا اور اس کو عادت بنا لینا ناپسندیدہ اور مکروہ ہے اور بعید نہیں کہ عملِ کثیر کی طرف مفضی ہو کر فسادِ صلاۃ کا باعث بن جائے لہذا اس سے احتراز لازم ہے ۔
امداد الفتاح میں ہے:

ويكره كف ثوبه أي: رفعه بين يديه أو من خلفه إذا أراد السجود، انتهى وقيل: أن يجمع ثوبه ويشده في وسطه كذا في شرح الإرشاد انتهى لما قدمناه من قوله ﷺ "أمرت أن أسجد على سبعة أعظم وأن لا أكف شعراً ولا ثوباً" متفق عليه ولما فيه من الجبر المنافي لوضع الصلاة وهو الخشوع والخضوع كذا في البرهان. (إمداد الفتاح: ۳۷۹، فصل في المكروهات، بيروت)

شامی میں ہے:

وكره كفه أي رفعه أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود. (شامي: ۱/٦٤۰، مكروهات الصلاة، سعيد)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: قومہ سے سجدے میں جاتے ہوے پاجامہ اوپر کو اٹھا لیتے ہیں نماز میں جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بلا ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں اور نماز ادا ہو جاتی ہے ۔ (فتاوی دار العلوم: ٤/
۹۳
، باب مکروہاتِ نماز)
کفایت المفتی میں ہے:
یہ فعل مکروہ ضرور ہے مگر مفسدِ نماز نہیں ہے کراہتِ تحریمی بدرجۂ غالب ہے ۔ (کفایت المفتی:
۳/٤۲۸
، مکروہاتِ نماز، دار الاشاعت ۔ و فتاوی محمودیہ: ٦/
٦۰۲
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.