دورانِ نماز اگلی صف میں خالی جگہ پر کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #183Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر کسی شخص کو نماز میں یاد آیا کہ میرا وضو نہیں تھا، اور نماز شروع کی، یاد آنے پر وہ چلا گیا اور اس کی جگہ خالی ہو گئی تو پچھلی صف والا آگے بڑھے گا یا نہیں؟ اگر بڑھے گا تو قدم مسلسل لیتا رہے گا یا توقف کرے گا؟ نیز پاؤں کو اٹھا کر چلے گا یا کوئی اور شکل ہو گی؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ پچھلی صف والے سے مطلوب ہے کہ وہ آگے بڑھ کر خالی جگہ پر کر لے، اور ایک صف کے بقدر مسلسل چل سکتا ہے، لیکن اگر اس سے آگے چلنا ہو تو بقدرِ رکن ٹھہر جائے پھر ایک صف کے بقدر چل سکتا ہے اسی ترتیب سے آگے بڑھے، نیز چلنے کی کیفیت کے بارے میں فقہاء سے کچھ منقول نہیں لہٰذا پاؤں اٹھا کر چل سکتا ہے۔ فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں؛ فتاوی شامی میں منقول ہے:

بقي ما إذا رأى الفرجة بعد ما أحرم هل يمشي إليها لم أره صريحاً، وظاهر الإطلاق، نعم

ثم رأيت في مفسدات الصلاة من الحلبة عن الذخيرة: إن كان في الصف الثاني فرأى فرجة في الأول فمشى إليها لم تفسد صلاته لأنه مأمور بالمراصة، قال عليه الصلاة والسلام: تراصوا في الصفوف، ولو كان في الصف الثالث تفسد، أي لأنه عمل كثير، وظاهر التعليل بالأمر أنه يطلب منه المشي إليها، تأمل. (فتاوى الشامي: ۱/۵۷۰، سعيد).

تقریرات الرافعی میں مرقوم ہے:

قوله ولو كان في الصف الثالث تفسد، سيأتي في الشرح في مفسدات الصلاة مشى مستقبل القبلة هل تفسد إن قدر صف ثم وقف قدر ركن ثم مشى ووقف كذلك وهكذا لا تفسد وإن كثر ما لم يختلف المكان، فعلى هذا محل الفساد لو كان في الصف الثالث إذا لم يقف. (التحرير المختار بهامش رد المحتار: ۱/۷۳، سعيد).
(وكذا في شرح المنية، ص ٤۵۰، ط: سهيل، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۳۲۳، والدر المختار مع رد المحتار: ۱/٦۲۷، سعيد).
فتاوى قاضي خان
میں مرقوم ہے:
ولو مشى في صلاته مقدار صف واحد لم تفسد صلاته ولو كان مقدار صفين إن مشى دفعة واحدة فسدت صلاته وإن مشى إلى صف ووقف ثم مشى إلى صف لا تفسد صلاته. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۱۳٤).

مزید ملاحظہ ہو: (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/٤۲، مکتبہ لدھیانوی، و اغلاط العوام، ص ۵٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.