دورانِ طواف وضو ٹوٹ جانے کا حکم:
Question
اگر دورانِ طواف کسی کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے کے لیے گیا، تو آنے کے بعد پھر سے طواف شروع کرے یا جہاں سے روکا تھا وہیں سے شروع کرے؟ اسی طرح فرض نماز شروع ہو جائے تو نماز کے لیے چلا جائے تو بعد نماز کے از نو شروع کرے گا یا وہیں سے جاری رکھے گا؟
Answer
مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اگر اکثر طواف پورا کر لیا تھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہیں سے شروع کرے جہاں پر روک دیا تھا، اور اگر از سر نو دوبارہ شروع کیا تو بھی درست ہے، اور اگر اکثر طواف نہیں ہوا تھا بلکہ ایک دو چکر ہوئے تھے تو اس صورت میں استیناف مستحب اور بنا بھی جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں مرقوم ہے:
ولو خرج من الطواف أو من السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بني لو كان ذلك بعد إتيان أكثره ولو استأنف لا شيء عليه فلا يلزمه إتمام الأول لأن هذا الاستيناف للإكمال بالموالاة بين الأشواط ويستحب الاستيناف في الطواف إذا كان ذلك قبل إتيان أكثره. (غنية الناسك، ص ٦۸، فصل في مكروهات الطواف).
کتاب الفتاوی میں ہے:
طواف کے درمیان جہاں وضو ٹوٹا ہے وہیں سے وضو کرنے کو چلا جائے اور وضو کر کے دوبارہ وہیں سے طواف شروع کر کے سات چکر پورے کر لے، وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے پہلے کیے جانے والے چکر ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو شمار کرتے ہوئے سات چکر پورے کرے گا ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/٤۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.