دورانِ طواف بیت اللہ شریف پر نگاہ ڈالنے کا حکم:
Question
طواف کرتے وقت بیت اللہ شریف کی طرف دیکھنا کیسا ہے؟ جائز ہے یا ناجائز؟
Answer
بحالتِ طواف بیت اللہ شریف کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا خلافِ ادب ہے کوئی ناجائز یا حرام نہیں ہے بلکہ طواف کرنے والے کے لیے ادب یہ ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں تاکہ طواف میں دل جمعی حاصل ہو جائے ۔ ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں ہے:
وينبغي أن لا يجاوز بصره محل مشيه كالمصلي لا يجاوز بصره محل سجوده لأنه الأدب الذي يحصل به اجتماع القلب. (غنية الناسك، ص ٦۵، فصل في مستحبات الطواف).
تحفہ حجاج میں بحوالہ مجموعہ فتاوی دار العلوم کراچی، ص ۲۵٦/۲ مرقوم ہے:
طواف کی حالت میں بیت اللہ کی طرف چہرہ اور نگاہ کرنا حرام یا مکروہ نہیں ہے، بلکہ خلافِ ادب ہے ۔ ادب یہ ہے کہ طواف کرنے والا دورانِ طواف اپنی نظر چلنے کی جگہ رکھے، تاکہ اِدھر اُدھر دھیان نہ بٹے، اور یک سوئی سے طواف ادا ہو جائے ۔ (تحفہ حجاج، ص۳۷) ۔ (و کذا فی احسن الفتاوی: ٤/۵٤۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.