دورانِ طواف بیت اللہ کی طرف سینہ یا پیٹھ کرنے کا حکم:
Question
دورانِ طواف بیت اللہ شریف کی طرف سینہ یا پیٹھ کرنے سے طواف میں کوئی خرابی لازم آئے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اگر پورا طواف بیت اللہ شریف کی طرف سینہ یا پیٹھ کرنے کی حالت میں ادا کیا تو طواف مکروہِ تحریمی ہوا، اور اس کا اعادہ لازم ہے، اگر اعادہ نہیں کیا تو دم واجب ہوگا ۔ لیکن اگر طواف کا کچھ حصہ اس طرح ادا کیا تو بھی مکروہِ تحریمی ہوگا اور اتنے حصہ کا اعادہ لازم ہوگا، البتہ اعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم واجب نہیں ہوگا، ہاں ہر شوط کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار ادا کر دے، اور اگر تمام مل کر دم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کر دے، اور آئندہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح اللباب میں مذکور ہے:
وأما ما في الكبير من أنه ذكر في منسك الرومي عن السروجي وليس شيء من الطواف يجوز مع استقبال البيت إلا قبالة الحجر، انتهى. وهو غلط منه لأنه إنما ذكره السروجي عن الشافعية وقد صرح في الغاية ومنسك السنجاري، ولو استقبل البيت بوجهه وطاف معترضاً وجعل البيت عن يمينه ومشي القهقري أو مر معترضاً مستدبر البيت لا يبطل عندنا
ولا يخفى أن ما نقل عن السروجي يمكن حمله على ما يوافق المذهب بأن يقال: معني لا يجوز يحرم لتركه الواجب
والحاصل أن وجوب التيامن يفيد أن من أتي بخلافه من الصور المذكورة المخالفة للتيامن في الهيئة والكيفية يحرم عليه فعله ويجب عليه الإعادة أو لزوم الجزاء. (شرح اللباب، ص۱٦۹، فصل في واجبات الطواف).
غنية الناسك
میں ہے:
فصل وأما محرماته
وأداء شيء من الطواف مع استقبال البيت، قيل إلا قبالة الحجر الأسود في ابتداء الطواف خاصة. (غنية الناسك، ص ٦۷).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
بیت اللہ شریف کو اپنے سینہ کے سامنے کیا، یا بیت اللہ شریف کی طرف پیٹھ کی اور آڑا چل کر یعنی داہنے یا بائیں پہلو کی طرف چل کر طواف کیا یا اور کسی بھی طرح سے طواف کیا تو اس کا طواف صحیح ہو جائے گا اور احرام سے حلال ہونے کے لیے ایسا طواف ہمارے نزدیک معتبر ہو جائے گا لیکن ترک واجب کی وجہ سے اس پر اس کی جزا لازم ہو گی ۔ حاصل یہ ہے کہ داہنی طرف سے طواف شروع کرنے کے علاوہ جتنی بھی صورتیں ہیئت و کیفیت کے اعتبار سے مذکور ہوئیں ان کا کرنا اس پر حرام ہے اور اس پر اس طواف کا اعادہ لازم ہے اور اگر اعادہ نہیں کرے گا تو جزا لازم ہو گی ۔ یعنی جب تک مکہ مکرمہ میں ہے اس پر اعادہ واجب ہے اگر اعادہ نہ کیا اور اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹ گیا تواب اس پر دم واجب ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۷۲، واجباتِ طواف) ۔ (و کذا فی زبدۃ المناسک، ص۱۲۱) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے:
طواف کے لیے دو کلیہ قاعدے: (۱) اگر فرض (یا واجب) یا نفل (سنت و تطوع) طواف ایسے طریقہ پر کیا کہ جس سے طواف میں نقص لازم آتا ہے تو اس پر جزا یعنی دم یا صدقہ واجب ہوگا اور اس نے اس طواف کا اعادہ کر لیا تو اس سے تمام صورتوں میں بالاتفاق جزا ساقط ہو جائے گی
(۲) جن صورتوں میں پورے طواف میں دم واجب ہوتا ہے ان میں طواف کے اکثر حصہ میں بھی دم ہی واجب ہوگا، کیوں کہ اکثر حصہ کل کا قائم مقام ہوتا ہے اور اس کے اقل حصہ میں جنایت کے ہلکا ہونے کی وجہ سے صدقہ واجب ہوگا سوائے عمرہ کے طواف کے کہ اس کے کثیر و قلیل دونوں کا ایک حکم ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/ ۵۳۸) ۔
تنبیہ: تحفہ حجاج میں بحوالہ مجموعہ فتاوی دار العلوم کراچی یہ مرقوم ہے کہ اگر طواف کا کچھ حصہ بیت اللہ کی طرف سینہ یا پیٹھ کر کے ادا کیا تو گنہگار ہوگا توبہ لازم ہے لیکن کچھ واجب نہیں ۔ (تحفہ حجاج، ص ٦۸، بحوالہ مجموعہ فتاوی دار العلوم کراچی، غیر مطبوعہ) ۔
لیکن ہمارے خیال میں شرحِ لباب کی مذکورہ عبارت اور مذکورہ بالا دو قاعدوں کی روشنی میں صدقہ فطر واجب ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔ لہذا تحفہ حجاج کی یہ بات بظاہر ہماری سمجھ میں نہیں آتی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.