طواف کے دوران نجاستِ حکمیہ سے پاکی کا حکم:
Question
دورانِ طواف نجاستِ حکمیہ یعنی حدثِ اصغر و حدثِ اکبر سے پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ یعنی اگر کوئی شخص بے وضو یا جنابت کی حالت میں طواف کر لے تو وہ طواف شمار ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
صحیح قول کے مطابق طواف کے دوران نجاستِ حکمیہ سے پاک ہونا واجب ہے اگر کوئی شخص جنابت کی حالت میں یا بے وضو ہونے کی حالت میں طواف کرے گا تو گنہگار ہوگا اور جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں کیے ہوے طواف کا اعادہ واجب ہوگا اور بے وضو طواف کرنے سے اعادہ مستحب ہے، اور دونوں صورتوں میں اعادہ نہ کرنے پر جزا واجب ہو گی، اور اس کی تفصیل درجِ ذیل ہے؛ ۔
معلم الحجاج میں مذکور ہے:
مسئلہ: اگر پورا یا اکثر طوافِ زیارت بے وضو کیا تو دم دے اور اگر طوافِ قدوم یا طوافِ وداع یا طوافِ نفل یا نصف سے کم طوافِ زیارت بلا وضو کیا تو ہر پھیرے کے لیے آدھا صاع صدقہ دے اور اگر تمام پھیروں کا صدقہ دم کے برابر ہو جائے تو کچھ تھوڑا سا کم کر دے اور اگر ان تمام صورتوں میں وضو کر کے طواف کا اعادہ کر لیا تو کفارہ اور دم ساقط ہو جائے گا ۔
مسئلہ: اگر پورا یا زیارت جنابت یا حیض کی حالت میں کیا "یعنی ایک اونٹ یا ایک گائے سالم" واجب ہوگا اور اگر طوافِ قدوم یا طوافِ وداع یا طوافِ نفل ان حالتوں میں کیا تو ایک بکری واجب ہو گی اور ان سب صورتوں میں طہارت کے ساتھ طواف کا اعادہ کر لینے سے کفارہ ساقط ہو جائے گا ۔
مسئلہ: جو طواف جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں کیا ہو اس کا اعادہ واجب ہے اور جو بے وضو کیا ہے اس کا اعادہ مستحب ہے ۔ (معلم الحجاج، ص۱۸۵، واجباتِ حج میں کسی واجب کو ترک کرنا ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.