طواف کے ہر شوط میں حجر اسود کا استلام کرنے کا حکم:
Question
کیا حجر اسود کا استلام طواف کے ہر شوط میں کرنا ضروری ہے؟ نیز استلام کرتے وقت رفع یدین اور استقبالِ حجر بھی ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
طواف کی ابتدا میں اور آخر میں استلام کی سنیت زیادہ مؤکد ہے درمیان طواف ہر شوط میں استلام مستحب ہے، لہذا اگر کسی نے طواف کے شروع یا آخر میں استلام کو ترک کیا تو یہ مکروہ عمل ہوا لیکن اگر درمیان میں ترک کیا تو تارکِ مستحب ہوگا، اور اس کا طواف بلا کراہت صحیح ہو جائے گا ۔
نیز بوقتِ استلام رفع یدین اور استقبالِ حجر کا بھی یہی حکم ہے ۔ بلکہ اس میں زیادہ خفت ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح لباب المناسک میں ہے:
فصل في سنن الطواف: استلام الحجر مطلقاً أي من غير قيد الأولية والآخرية، والأثنائية، وإن كان بعضها آكد من بعض، بل قيل: يستحب فيما عدا طرفيه
ورفع اليدين عند التكبير مقابلة الحجر أي في الابتداء للخلاف في الأثناء
واستقبال الحجر في ابتدائه أي بخلاف استقباله في أثنائه فإنه مستحب. (شرح اللباب، ص۱۷٦).
غنیۃ الناسک میں مذکور ہے:
واستقبال الحجر الأسود بالوجه في ابتداء ه وأما في أثناء ه فمستحب
ورفع اليدين عند التكبير حال استقبال الحجر في الابتداء
واستلام الحجر في أوله وآخره وأما فيما بينهما فسنة مستحبة قال في شرح الطحاوي: وإن افتتح الطواف باستلام الحجر وختم به وترك الاستلام فيما بين ذلك أجزأه وإذا تركه رأساً فقد أساء. (غنية الناسك، ص ٦۳، فصل في سنن الطواف). (وکذا فی عمد
ۃ
الفقہ: ٤/۱۸۰).
البتہ بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ ہر شوط میں استلام مسنون ہے ۔ ملاحظہ ہو :
ويستلم الحجر في كل شوط يفتتح به إن استطاع من غير أن يؤذي أحداً لما روي أن رسول الله ﷺ كان كلما مر بالحجر الأسود استلمه ولأن كل شوط طواف على حدة فكان استلام الحجر فيه مسنوناً كالشوط الأول. (بدائع الصنائع: ۲/۱٤۷، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.