طواف کے دوران بیت اللہ شریف کو چھونے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #527Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

طواف کے دوران ٹھہرنا اور کعبہ شریف کے غلاف کو پکڑ کر دعا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

Answer

طواف کی سنن میں سے ایک سنت یہ ہے کہ طواف پے در پے کیا جاوے، یعنی بلا کسی حاجت و ضرورت کے درمیان میں وقفہ نہ کیا جائے ورنہ مکروہ ہوگا، بنا بریں صورتِ مسئولہ میں خلافِ سنت طواف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہوگا ۔
مزید براں طواف کرنے والے کا سینہ بیت اللہ کی طرف ہوگا، اور فقہاء کی تصریح کے مطابق طواف کے درمیان ایسا کرنا مکروہ ہے، لہذا ایسے شخص کو طواف مکمل کرنے کے بعد بیت اللہ شریف کا غلاف پکڑ کر دعا کرنی چاہیے ۔ یہی اولیٰ اور بہتر ہے ۔ ملاحظہ ہو شرحِ لباب المناسک میں ہے:

والموالاة أي المتابعة بين الأشواط أي أشواط الطواف، وكذا أشواط السعي

والظاهر أن يراد بها الموالاة العرفية إلا أنه لا يقع فيه مطلق الفاصلة لتجويزهم الشرب ونحوه في أثناء الطواف. (شرح اللباب، ص۱۷٦، فصل في سن الطواف). (وكذا في غنية الناسك، ص ٦٤).
غنية الناسك
میں مرقوم ہے:

فصل في مكروهات الطواف

والوقوف للدعاء في أثناء الطواف في الأركان أو في غيره لأن الموالاة بين الأشواط وأجزاء الأشواط سنة مؤكدة. (غنية الناسك، ص ٦۷).
وينظر: (شرح اللباب، ص۱٦۹، فصل في واجبات الطواف، وغنية الناسك، ص ٦۰، فصل في واجبات الطواف).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.