ہجوم کی وجہ سے مسعی میں طواف کرنے کا حکم:
Question
بہت سی مرتبہ ہجوم کی وجہ سے بعض لوگ مسجدِ حرام کی چھت پر مسعی میں پہنچ جاتے ہیں اور طواف کا کچھ حصہ مسعی میں ادا کر لیتے ہیں تو کیا مسعی میں طواف کرنے سے طواف ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ یہ بھی یا د
ر ہے کہ مسعی مسجدِ حرام سے خارج ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ہر قسم کے طواف کے لیے یہ شرط ہے کہ مسجدِ حرام کے اندر سے خانہ کعبہ کے گرد ہو خواہ مسجدِ حرام کی چھت کے اوپر سے ہو، پس اگر مسجدِ حرام کے باہر سے طواف کیا جائے گا تو طواف نہیں ہوگا، اور باتفاقِ علماء مسعی مسجدِ حرام سے خارج ہے بنا بریں مسعی میں طواف کرنے سے طواف ادا نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شرح اللباب میں مذکور ہے:
فصل في مكان الطواف: (مكانه حول البيت لا فيه) أي لا في داخله (داخل المسجد) أي سواء كان قريباً من البيت أو بعيداً عنه بعد أن يكون في المسجد (ويجوز) الطواف (في المسجد) أي في جميع أجزاء ه (ولو من وراء السواري) الأسطوانات (وزمزم) وكذا المقامات (ولو طاف على سطح المسجد ولو مرتفعاً عن البيت) أي من جدرانه كما صرح به صاحب الغاية (جاز) لأن حقيقة البيت هو الفضاء الشامل لما فوق البناء من الهوى
ولو طاف خارج المسجد، فمع وجود الجدران لا يصح إجماعاً، وأما إذا كانت جدرانه منهدمة فكذا عند عامة العلماء. (شرح اللباب، ص۱٦۵).
عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل میں مذکور ہے:
المجمع الفقہی الاسلامی کے اجلاس میں اس موضوع پر غور کیا گیا اور اکثریت کی رائے سے طے پایا کہ سعی گاہ مسجدِ حرام کی عمارت میں آ جانے کے بعد بھی مسجد کے حکم میں نہیں ہوگا، اور نہ اس پر مسجد کے احکام جاری ہوں گے، اس لیے کہ وہ خود ایک مستقل مشعر (شعار کا مقام) ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما. [سورئه بقره:
۵۸
]
جمہور فقہاء جن میں ائمہ اربعہ داخل ہیں یہی رائے رکھتے ہیں، مسجدِ حرام کے امام کی اقتدا کرتے ہوے مسعی میں نماز پڑھنا اسی طرح جائز ہے جس طرح دیگر پاک جگہوں پر جائز ہے، مسعی میں حائضہ عورت اور جنبی شخص کا ٹھہرنا اور سعی کرنا جائز ہے، اگر چہ سعی میں بھی طہارت مستحب ہے ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا حل، ص۲٦٤) ۔
تحفہ حجاج میں مرقوم ہے:
اگر طوافِ زیارت کے سارے چکر میں یا تین سے زیادہ میں مسعی کو گزرا ہے تو اس کی قضا کرنی لازم ہے، اور ۱۲/تاریخ تک اس کی قضا نہ کی، یا طوافِ وداع نہ کیا، یا اور کوئی نفل طواف نہ کیا تو تاخیر کی وجہ سے ایک دم واجب ہوگا، اور طواف کو قضا بھی کرنا ہوگا ۔
اگر زندگی میں اس طواف کو نہ کر سکا تو موت سے پہلے بدنہ، یعنی اونٹ کی قربانی کی وصیت اس پر واجب ہو گی ۔ (مسائل حج و عمرہ، ص۳۹٦) ۔
اور طوافِ زیارت کے ذمہ میں رہتے ہوے عورت سے قربت بھی حرام رہے گی، اگر عورت سے ایک مجلس میں کئی بار جماع کیے تو ایک دم واجب ہوگا، اور اگر میں جماع کیے کے بدلے میں ایک ایک دم واجب ہوگا ۔ (زبدہ، ص۳۷۵) ۔
(تنبیہ: ہاں اگر اس نے اپنے آپ کو حلال سمجھ کر مختلف مجالس میں مختلف جنایات کا ارتکاب کیا ہو تو صرف ایک ہی دم واجب ہوگا ۔
قال في غنية الناسك: وإذا اختلف جنس الجناية تعذر التداخل إلا إذا فعلها على قصد رفض الإحرام، فإن المحرم إذا نوى رفض الإحرام، فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد، فعليه دم بجميع ما ارتكب. (غنية الناسك، ص۱۲۹، باب الجنايات).).
اگر چار چکر صحیح طور پر مسجدِ حرام میں کیے، اور تین چکر یا اس سے کم میں مسعی کو گزرا ہے تو طوافِ زیارت تو ادا ہو گیا، مگر ہر چکر کے بدلے میں ایک صدقہ دینا واجب ہے ۔ (زبدۃ المناسک مع عمدۃ المناسک، ص۳۷۵) ۔ مستفاد از تحفہ حجاج، ص۳۲) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (عمدۃ الفقہ: ٤/۱٦۸، و غنیۃ الناسک، ص۵۷، ۵۸، باب فی ماہیۃ الطواف) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.