طواف کے دوران بات چیت کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #298Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

کیا طواف کے دوران دوستوں کے ساتھ بے تکلفی سے بات چیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

حدیث شریف میں آتا ہے کہ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، ہاں طواف میں بقدرِ ضرورت کلام مباح ہے، لہٰذا طواف میں دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور بے تکلف بات چیت کرنا مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو الجامع الصغیر اور اس کی شرح التیسیر میں ہے:

(الطواف بالبيت صلاة ولكن الله أحل فيه المنطق فمن نطق فلا ينطق إلا بخير)

(طب حل ك هق عن ابن عباس رضي الله عنه)، قال الحاكم صحيح، وقال في المجموع ضعيف والصحيح وقفه على ابن عباس رضي الله عنه ونوزع في جزمه بالضعف وبأن مثله لا يقال من قبل الرأي فهو في حكم المرفوع. (الطواف صلاة فأقلوا فيه الكلام)، ندباً لا وجوباً لقيام الإجماع على جوازه فيه لكن الأولى أن لا يتكلم إلا بنحو دعاء أو ذكر (طب عن ابن عباس رضي الله عنه) بإسناد حسن. (التيسير بشرح الجامع الصغير: ۲/۲٤۲، ط: الرياض).
بدائع الصنائع
میں مرقوم ہے:

ويكره إنشاد الشعر والتحدث في الطواف لما روي عن النبي ﷺ أنه قال: الطواف بالبيت صلاة فأقلوا فيه الكلام وروي أنه قال ﷺ فمن نطق فيه فلا ينطق إلا بخير ولأن ذلك يشغله عن الدعاء. (بدائع الصنائع: ۲/۱۳۱، سعيد).

عمدۃ الفقہ میں مباحاتِ طواف میں لکھا ہے:
مباح کلام کرنا، یعنی بقدرِ ضرورت مباح کلام کرنا اور غیر ضروری مباح کلام کو ترک کرنا مستحب ہے ۔ پس جس کلام کے کرنے کی اس کو ضرورت ہے اس کو بقدرِ ضرورت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں یعنی یہ مباح ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۸٦) ۔
دوسری جگہ مکروہاتِ طواف کے تحت مذکور ہے: جو چیزیں طواف میں مکروہ ہیں وہ یہ ہیں: (۱) فضول اور بے فائدہ کلام کرنا اور بلا ضرورت بات چیت کرنا یعنی کلامِ مباح بلا ضرورت کرنا مکروہ ہے اور اس کا ترک کرنا مستحب ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۸۹) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (کتاب المسائل: ۳/۲٤۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.