رکن یمانی کو بوسہ دینے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #526Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

رکن یمانی کو بوسہ دینے کا کیا حکم ہے؟

Answer

دورانِ طواف ہر چکر میں رکن یمانی کا استلام کرنا مستحب ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے یا صرف دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے رکن یمانی کو مس کرنا ۔
لیکن بوسہ دینا جائز ہوگا یا نہیں اس بارے میں مختلف اقوال ہیں: اکثر کتبِ فقہ میں یہ قول منقول ہے کہ رکن یمانی کو بوسہ نہ دے ۔ بعض کتابوں میں یہ مرقوم ہے کہ بوسہ دینا سنت نہیں ہے، اور علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا ایک قول یہ ہے کہ بوسہ دینا سنت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ بدعت ہے ۔ سراجیہ وغیرہ میں مذکور ہے کہ اصح قول کے مطابق بوسہ نہ دے ۔
البتہ کتبِ حدیث کی ورق گردانی سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ بوسہ دینا آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے اگر چہ روایات ضعیف ہیں، بنا بریں احادیث کی روشنی میں اعدل الاقوال یہ ہوگا کہ رکن یمانی کو بوسہ دینا جائز بلکہ مستحب ہے ہاں روایات کے ضعف کے پیش نظر سنت نہیں کہیں گے ۔ اور ہر شوط میں نہیں بلکہ احیاناً کر لینا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ: قبل الركن اليماني ووضع خده عليه. أخرجه ابن خزيمة في صحيحه (۲۷۲۷)، والحاكم في المستدرك (۱٦۷۵)، وقال: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه، والدارقطني في سننه (۲٤۲)، وعبد بن حميد في مسنده (٦۳۸) وقال الهيثمي في المجمع (۵٤۸۱) رواه أبو يعلى وفيه عبد الله بن مسلم بن هرمز وهو ضعيف.
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ لا يدع أن يستلم الركن اليماني والحجر في كل طوفة قال: وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنه يفعله. (رواه أبو داود، رقم: ۱۸۷۸، باب استلام الأركان).
شرح اللباب
میں ہے:

فصل في مستحباته: استلام الركن اليماني أي من غير قبلة ووضع جبهة. (شرح اللباب، ص۱۷۷).
قال الإمام محمد رحمه الله في المبسوط: واستلام الركن اليماني حسن وتركه لا يضر. (المبسوط: ۲/٤۰۵، باب الطواف).
قال العلامة الشامي: وفي الدر المنتقي: واختلف في تقبيل الركن اليماني فقيل: سنة وقيل: بدعة. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸٤، سعيد).
قال في الدر المختار: واستلم الركن اليماني وهو مندوب لكن بلا تقبيل وقال محمد: هو سنة ويقبله والدلائل تؤيده ويكره استلام غيرهما. وقال في الشامية: والدلائل تؤيده أي تؤيد قوله بكونه سنة وبأنه يقبله لكن في شرح اللباب أن ظاهر الرواية الأول كما في الكافي والهداية وغيرهما وفي الكرماني وهو الصحيح وفي النخبة ما عن محمد رحمه الله ضعيف جداً وفي البدائع: لا خلاف في أن تقبيله ليس بسنة وفي السراجية: ولا يقبله في أصح الأقاويل. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۹۸، سعيد).
وينظر: (بدائع الصنائع: ۲/۱٤۷. ۱٤۸، فصل في بيان سنن الحج، سعيد).

نیز فقہاء کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کوئی فقہی مسئلہ حدیث کے موافق ہو تو اس سے عدول نہیں کرنا چاہیے اس کی روشنی میں بھی رکن یمانی کو بوسہ دینا مستحب ہوگا ۔

قال في شرح المنية: ولا ينبغي أن يعدل عن الدراية إذا وافقتها رواية على ما تقدم عن فتاوى قاضيخان، ومثله ما ذكر في القنية. (فتاوى الشامي: ۱/٤٦٤، سعيد).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ دوم، ص ۷۰۱) ۔
حدیث شریف کی دوسری توجیہ:
بعض شراحِ حدیث نے اس حدیث شریف کی یہ توجیہ بیان فرمائی ہے کہ یہاں بھی تقبیل سے مراد حجر اسود کی تقبیل ہی ہے یعنی رکن یمانی کا فقط استلام ہے تقبیل نہیں ہے، اور اس توجیہ میں آسانی ہے ورنہ ویسے ہی حجر اسود پر شدید ہجوم ہوتا ہے کہیں رکن یمانی پر بھی شروع نہ ہو جائے ۔ چنانچہ حضرت شیخ الحدیث الابواب و التراجم میں فرماتے ہیں:

وقال القسطلاني رحمه الله: وحديث ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ قبل الركن اليماني ووضع خده عليه رواه جماعة منهم ابن المنذر والحاكم وصححه وضعفه بعضهم وعلى تقدير صحته فهو محمول على الحجر الأسود وإذا استلمه قبل يده على الأصح عند الشافعية والحنابلة ومحمد بن الحسن رحمه الله من الحنفية. (الابواب والتراجم، ۱۳۵).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.