مرد عورت نماز میں ایک دوسرے کا بوسہ لیں تو فسادِ نماز کا حکم:
Question
عام فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ تحریر شدہ ہے کہ اگر مرد نماز میں ہو اور عورت بوسہ لے تو مرد کی نماز فاسد نہیں ہو گی، اور اگر عورت نماز میں ہو اور مرد بوسہ لے تو عورت کی نماز فاسد ہو جائے گی، اگر یہ مسئلہ صحیح ہے تو دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے؟
Answer
اس مسئلہ میں محقق ابن ہمام رحمه الله نے فرمایا
"والله أعلم بوجه الفرق"
یعنی دونوں میں فرق کی وجہ اللہ کو معلوم ہے ۔ علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله نے فرمایا کہ قیاس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ دونوں کی نماز فاسد ہونی چاہیے لیکن عورت کی نماز اس وجہ سے فاسد ہوئی کہ مرد کا بوسہ اس کے لیے جماع کے حکم میں ہے کیونکہ عورت تو پہلے سے تیار ہے برخلاف عورت کا بوسہ ۔ دوسری وجہ یہ ذکر فرمائی کہ عام طور پر عورتوں میں شہوت کا غلبہ بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتا ہے لہذا جب مرد بوسہ لے گا تو عورت کو بھی شہوت ہو گی اس لیے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
لیکن مرد کا بوسہ مفسدِ صلاۃ ہو یہ بات بندہ کی سمجھ میں نہیں آتی ہے جیسے کہ محقق ابن ہمام رحمه الله کی سمجھ میں نہیں آئی، میرے خیال میں شرح زاہد ی کا قول بہتر ہے جس سے دونوں کے بوسہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، نیز عورت پر شہوت غالب ہے یہ بات تو عقلاً نقلاً قیاساً تجربۃً ہر لحاظ سے درست نہیں ۔ اور بوسہ جماع کے معنی میں ہے یہ بھی حنفیہ کے اصول کے خلاف ہے کیونکہ حنفیہ بوسہ لینے کو ناقضِ وضو نہیں سمجھتے معلوم ہوا کہ بوسہ جماع کے معنی میں نہیں ۔ ملاحظہ ہو فتاوی لکھنوی میں ہے:
قلت: لعل وجه الفرق هو أن القياس أن لا تفسد في الصورتين لأن فعل غير لا يفسد صلاة المصلي.
أما تري إلى أنه لو أخذ رجل ثياب المصلي أو وضع اليد على بدنه لا يفسد لكن إنما يفسد بسبب كونه في معني الجماع، وهو فعل الرجل فلما قبل المصلية كأنه وجد الجماع فتفسد صلاتها، بخلاف ما لو قبلته ولم توجد الشهوة من قبله.
ووجه آخر أن الشهوة على النساء غالبة فلما قبلها فكأنها وجدت الشهوة من جانبها أيضاً فتفسد صلاتها بهذا السبب، بخلاف ما لو قبلته ولم توجد الشهوة فيه. والله أعلم. (فتاوى اللكنوي: ۲۸٦، ما يتعلق بما يفسد الصلاة وما يكره فيها، دار ابن حزم)
فتح القدیر میں ہے:
ولو مس المصلية بشهوة أو قبلها ولو بغير شهوة تفسد ولو قبلت المصلي ولم يشتهها لم تفسد كذا في الخلاصة، والله أعلم بوجه الفرق. (فتح القدير: ۱/٤۰٤، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، دار الفكر)
عدمِ فساد والوں کے اقوال ملاحظہ ہوں:
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
وإن قبلت المصلي امرأته ولم يقبلها هو لا تفسد صلاته
وكذا لو كانت هي تصلي فقبلها لا تفسد صلاتها. (الجوهرة النيرة: ۷۷، مكتبة إمدادية)
البحر الرائق میں ہے:
وأما قولهم كما في الخانية والخلاصة لو كانت المرأة هي المصلية دونه فقبلها فسدت بشهوة أو بغير شهوة ولوكان هو المصلي فقبلته ولم يشتهها فصلاته تامة فمشكل إذ ليس من المصلي فعل من الصورتين فمقتضاه عدم الفساد فيهما في شرح الزاهدي ولو قبل المصلية لا تفسد صلاتها. (البحر الرائق: ۲/۱۲، باب ما يفسد الصلاة، الماجدية. وكذا في الشامي: ۱/٦۲۹، مطلب في المشي في الصلاة، سعيد)
طحطاوی میں ہے:
ورده في الفتح حيث قال والله أعلم بوجه الفرق وذلك لأنه لا صنع للمصلي في الوجهين فمقتضاه عدم الفساد فيهما
والذي في شرح الزاهدي التسوية في عدم الفساد بالتقبيل. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲٦٦، ما يفسد الصلاة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.