مرد اور عورت کی نماز کا فرق اور احادیث و کتبِ فقہ سے اس کا ثبوت:
Question
مرد اور عورت کی نماز میں کیا فرق ہے؟ نیز اس پر دلالت کرنے والی احادیث کی کیا حیثیت ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مرد اور عورت کی جسمانی ساخت کے اعتبار سے جو فرق پایا جاتا ہے، شرعی احکام اور مسائل میں جگہ جگہ ان کا پاس و لحاظ کیا گیا ہے ۔ طہارت کے مسائل ہوں یا روزہ وحج کے، عورت کے عورت ہونے کا کسی نہ کسی جگہ اظہار ہو ہی جائے گا ۔
اسی طرح اسلام کی سب سے مہتم بالشان عبادت نماز میں بھی مرد اور عورت کے درمیان کچھ نہ کچھ فرق موجود ہے
وجہ صرف یہی ہے کہ اس کے پردہ کا لحاظ کیا جائے، اس کے اعضائے نسوانی کا اعلان و اظہار نہ ہو ۔
ملاحظہ ہو نماز سے متعلق چند مخصوص مسائل:
عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں صرف چند مقامات میں ان کو مردوں کے خلاف کرنا چاہیے جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
(۱) عورتوں کو خواہ سردی وغیرہ کا عذر ہو یا نہ ہو ہر حال میں چادر یا دوپٹہ وغیرہ کے اندر ہی سے ہاتھ اٹھانے چاہئیں باہر نہیں نکالنے چاہئیں ۔
(۲) صرف کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانے چاہئیں ۔
(۳) تکبیر تحریمہ کے بعد سینہ پر پستانوں کے نیچے ہاتھ رکھنے چاہئیں ۔
(٤) عورتوں کو داہنی ہتھیلی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دینا چاہیے حلقہ بنانا اور بائیں کلائی کو پکڑنا نہ چاہیے ۔
(۵) رکوع میں زیادہ جھکنا نہیں چاہیے بلکہ صرف اس قدر جھکیں جس میں ان کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ۔
(٦) رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بغیر کشادہ کیے ہوے یعنی ملا کر رکھنی چاہئیں ۔
(۷) رکوع میں اپنے ہاتھوں پر سہارا نہ دے ۔
(۸) رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لے ان کو پکڑے نہیں ۔
(۹) رکوع میں اپنے گھٹنوں کو جھکائے رکھے ۔
(۱۰) رکوع میں اپنی کہنیاں اپنے پہلوؤں سے ملی ہوئی رکھنی چاہئیں یعنی سمٹی ہوئی رہیں ۔
(۱۱) سجدہ میں کہنیاں زمین پر بچھی ہوئی رکھنی چاہئیں ۔
(۱۲) سجدہ میں دونوں پیر انگلیوں کے بل کھڑے نہیں رکھنے چاہئیں بلکہ دونوں پیر داہنی طرف نکال دے اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کرے، اور سرین نہ اٹھائے ۔
(۱۳) سجدہ میں پیٹ رانوں سے ملا ہوا ہونا چاہیے ۔
(۱٤) بازو پہلو سے ملے ہوے ہوں ۔
(۱۵) التحیات میں بیٹھتے وقت مردوں کے برخلاف دونوں پیر داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھنا چاہیے ۔
(۱٦) التحیات میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی رکھے ۔
(۱۷) جب کوئی امر نماز میں پیش آوے مثلاً کوئی آگے سے گزرنا چاہے تو تالی ب جائے، مردوں کی طرح سبحان اللہ نہ ک ہے ۔
(۱۸) مردوں کی امامت نہ کرے ۔
(۱۹) نماز میں صرف عورتوں کا جماعت کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔
(۲۰) عورتیں اگر جماعت کریں تو جو عورت امام ہو وہ بیچ میں کھڑی ہو آگے بڑھ کر کھڑی نہ ہو ۔
(۲۱) عورتوں کا جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے ۔
(۲۲) مردوں کی جماعت میں عورت مردوں کے پیچھے کھڑی ہو ۔
(۲۳) عورتوں پر جمعہ فرض نہیں لیکن اگر پڑھ لیں تو ظہر ساقط ہو جائے گی ۔
(۲٤) عورت پر عیدین کی نماز واجب نہیں ۔
(۲۵) عورت پر ایامِ تشریق میں فرض نمازوں کے بعد تکبیر جہراً واجب نہیں ۔
(۲٦) عورتوں کے لیے نماز ِ فجر میں اسفار مستحب نہیں ۔
(۲۷) عورت کو کسی بھی نماز میں جہراً قراءت کرنے کی اجازت نہیں ۔
(۲۸) عورت اذان نہ دے ۔
(۲۹) عورت مسجد میں اعتکاف نہ کرے ۔ (ماخوذ از عمدۃ الفقہ ص ۱۱٤، حصہ دوم، کتاب الصلوۃ، ادارہ مجددیہ، از مولانا سید زوار حسین صاحب) ۔
کتبِ فقہ کی عبارات ملاحظہ ہو: (۱) مذہب احناف ۔
مراقی الفلاح میں ہے:
ورفع اليدين حذاء المنكبين للحرة على الصحيح لأن ذراعيها عورة ومبناه على الستر
وتسن وضع المرأة يديها على صدرها من غير تحليق لأنه أستر لها
والمرأة لا تفرجها (في الركوع) لأن مبنى حالها على الستر
ويسن انخفاض المرأة ولزقها بطنها بفخذيها لأنه ﷺ مر على امرأتين تصليان فقال: "إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى بعض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل" لا نها عورة مستورة
ويسن تورك المرأة بأن تجلس على إليتها وتضع الفخذ على الفخذ وتخرج رجلها من تحت وركها اليمني لأنه أستر لها. (مراقي الفلاح: ص ۹٤. ۹۹، فصل في سننها).
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
(ويسن وضع المرأة يديها) المرأة تخالف الرجل في مسائل منها هذه ومنها أنها لا تخرج كفيها من كميها عند التكبير وترفع يديها حذاء منكبيها، ولا تفرج أصابعها في الركوع، وتنحني في الركوع قليلاً بحيث تبلغ حد الركوع، فلا تزيد على ذلك وتجلس متوركة في كل قعود بأن تجلس على إليتها اليسرى وتخرج كلتا رجليها من الجانب الأيمن وتضع فخذيها على بعضهما، وتجعل الساق الأيمن على الساق الأيسر كما في مجمع الأنهر ولا تؤم الرجال، وتكره جماعتهن ويقف الإمام وسطهن ولا تجهر في موضع الجهر، ولا يستحب في حقها الإسفار بالفجر، والتتبع ينفي الحصر. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ۲٥۹، فصل في بيان سننها، قديمي. والبحر الرائق: ۱/۳۲۱. والشامي: ۱/٥۰٤، سعيد. وفتاوى بينات: ۲/۳۱٦، كتاب الصلاة، مكتبة بينات)
(۲) مذہبِ مالکیہ ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الدسوقی میں ہے:
ومفهوم رجل أن المرأة يندب كونها منضمة في ركوعها وسجودها. (قوله يندب كونها منضمة) أي بحيث تلصق بطنها بفخذيها ومرفقيها بركبتيها. (حاشية الدسوقي: ۱/۳۹۳، دار الفكر)
(۳) مذہبِ شافعیہ ۔
ملاحظہ ہو شرح المہذب میں ہے:
وإن كانت امرأة ضمت بعضها إلى بعض لأن ذلك أستر لها. (شرح المهذب: ۳/٤۲۹، دار الفكر)
کتاب الام میں ہے:
(قال الشافعي رحمه الله) وقد أدب الله تعالى النساء بالاستتار وأدبهنّ بذلك رسوله ﷺ وأحب للمرأة في السجود أن تضم بعضها إلى بعض وتلصق بطنها بفخذيها وتسجد كأستر ما يكون لها وهكذا أحب لها في الركوع والجلوس وجميع الصلاة أن تكون فيها كأستر ما يكون لها وأحب أن تكفت جلبابها وتجافيه راكعة وساجدة عليها لئلا تصفها ثيابها. (كتاب الأم: ۱/۱۳۸، باب التجافي في السجود، دار الفكر)
(٤) مذہبِ حنابلہ ۔
ملاحظہ ہو المغنی میں ہے:
مسألة: قال: (والرجل والمرأة في ذلك سواء إلا أن المرأة تجمع نفسها في الركوع والسجود وتجلس متربعة أو تسدل رجليها فتجعلهما في جانب يمينها. الأصل أن يثبت في حق المرأة من أحكام الصلاة ما ثبت للرجال لأن الخطاب يشملها غير أنها خالفته في ترك التجافي لا نها عورة فاستحب لها جمع نفسها ليكون أستر لها فإنه لا يؤمن أن يبدو منها شيء حال التجافي وذلك في الافتراش، قال أحمد رحمه الله: والسدل أعجب إلى واختاره الخلال. قال علي رضي الله عنه: إذا صلت المرأة فلتحتفز ولتضم فخذيها. وعن ابن عمر رضي الله عنه أنه كان يأمر النساء أن يتربعن في الصلاة. (المغني لابن قدامة الحنبلي: ۱/٥۹۹، دار الكتب العلمية)
احادیث سے فرق کا ثبوت:
چند احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں مرد اور عورت کے فرق کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اور اس کی بنیاد عورت کی نسوانیت اور اس کے پر دہ کو قرار دیا گیا ہے ۔
مراسیل ابی داؤد میں ہے:
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا ابن وهب، أخبرنا حيوة بن شريح، عن سالم بن غيلان عن يزيد بن أبي حبيب، أن رسول الله ﷺ مر على امرأتين تصليان، فقال: "إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض، فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل". (رواه أبو داود في مراسيله: ص ۱۱۷/۸۷، مؤسسة الرسالة)
وقال شعيب الأرناؤوط في تعليقه على المراسيل: رجاله ثقات. (تعليق شعيب الأرناؤوط: ص ۱۱۸، مؤسسة الرسالة)
بیہقی سننِ کبری میں چند روایتیں مذکور ہیں بعض ان میں سے ضعیف ہیں ۔ ملاحظہ ہو :
عن الحارث قال قال علي رضي الله عنه: إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها.
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه صاحب رسول الله ﷺ عن رسول الله ﷺ أنه قال: "خير صفوف الرجال الأول وخير صفوف النساء الآخر وكان يأمر الرجال أن تجافوا في سجودهم ويأمر النساء أن ينخفضن في سجودهن وكان يأمر الرجال أن يفرشوا اليسرى وينصبوا اليمني في التشهد ويأمر النساء أن يتربعن. (
یہ حدیث ضعیف ہے)
وعن مجاهد رحمه الله عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذ ها الأخرى وإذا سجدت ألصقت بطنها فخذيها كأستر ما يكون لها. (
یہ حدیث بھی ضعیف ہے).
(بيهقي سنن كبرى: ۲/۲۲۲، باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود، دار المعرفة)
مصنفِ ابن ابی شیبہ میں چند آثار مذکور ہیں ۔ ملاحظہ ہو :
عن ابن عباس رضي الله عنه أنه سئل عن صلاة المرأة؟ فقال: تجتمع وتحتفز.
وعن إبراهيم رحمه الله قال: إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها ولتضع بطنها على ها.
وعن مجاهد رحمه الله: أنه كان يكره أن يضع الرجل بطنه على فخذيه إذا سجد كما تصنع المرأة.
وعن إبراهيم رحمه الله قال: إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها ولا ترفع عجيزتها ولا تجافي كما يجافي الرجل. (مصنفِ ابن أبي شيبة: ۲/٥۰٤، المرأة كيف تكون في سجودها)
نیز مذکور ہے:
عن خالد بن اللجلاج رحمه الله قال: كن النساء يؤمرن أن يتربعن إذا جلسن في الصلاة ولا يجلسن جلوس الرجال على أوراكهن، يتقي ذلك على المرأة مخافة أن يبدو منها الشيء.
عن نافع: أن صفية رضي الله تعالى عنها كانت تصلي وهي متربعة. (مصنفِ ابن أبي شيبة: ۲/٥۰٥، في المرأة كيف تجلس في الصلاة)
نیز مذکور ہے:
عن عبد ربه بن زيتون رحمه الله قال: رأيت أم الدرداء رضي الله تعالى عنها ترفع يديها حذو منكبيها حين تفتتح الصلاة.
وعن عطاء رحمه الله سئل عن المرأة: كيف ترفع يديها في الصلاة؟ قال: حذو ثدييها.
وعن حمار رحمه الله: أنه كان يقول في المرأة إذا استفتحت الصلاة: ترفع يديها إلى ثديها. (مصنف ابن أبي شيبة: ۲/٤۲، في المرأة إذا افتتحت الصلاة إلى أين ترفع يديها، المجلس العلمي).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.