کوئی لڑکی لڑکا بن جائے تو مردوں کی صف میں کھڑے رہنے کا حکم:
Question
ایک لڑکی نے اپنے آپ کو لڑکا بنا لیا تو کیا وہ مردوں کی صف میں کھڑی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جب کہ اس کی داڑھی بھی نکلی ہے ۔
Answer
فقہاء نے خنثیٰ کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے کہ اگر مرد کی علامت ظاہر ہو جائے تو مرد کے حکم میں ہے اور مردوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا بھی درست ہے لہٰذا جس لڑکی نے اپنے آپ کو لڑکا بنا لیا اور لڑ کے کی علامات ظاہر ہو گئی تو مردوں کی صف میں کھڑے رہنے کی گنجائش ہے اور نماز سب کی صحیح ہو جائے گی ۔ البتہ ایسا فعل قبیح ہے اور تغییر لخلق اللہ میں داخل ہے اور حرام ہے اس سے باز آنا چاہیے اور غضبِ الٰہی سے ڈرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
فإن بال من الذكر فغلام
هذا قبل البلوغ فإن بلغ وخرجت لحيته أو وصل إلى امرأة أو احتلم كما يحتلم الرجل فرجل. (الدر مختار:
٦
/۷۲۷، كتاب الخنثى، سعيد)
علامہ شامی رحمہ اللہ خنثیٰ مشکل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ مردوں کی صف میں نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے لہٰذا جس میں مردوں کی علامات غالب ہوں اس کی نماز مردوں کی صف میں بدرجۂ اولیٰ صحیح ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں:
وإن قام في صف الرجال فصلاته تامة. (الشامي:
٦
/۷۲۸، كتاب الخنثى، سعيد. وكذا في الطحطاوي على الدر المختار:
٤
/۳٥۰. والفتاوى الهندية:
٦
/٤۳۷. والهداية:
٤
/۷۰۱. وكنز الدقائق: ٤۸۹. والبحر الرائق: ۸/٤۷۲)
حضرت مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں:
اسلام کا نقطۂ نظریہ ہے کہ جسم اللہ کی امانت اور اس کا پیکر اللہ کی تخلیق کا مظہر ہے جس میں کسی شرعی اور فطری ضرورت کے بغیر کوئی خود ساختہ تبدیلی درست نہیں، اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے مصنوعی طور پر بال لگانے خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان فصل پیدا کرنے کو ناجائز قابلِ لعنت اور اللہ کی خلقت میں تغیر قرار دیا ہے ۔ اس لیے ظاہر ہے کہ محض زینت اور فیشن کی غرض سے اس قسم کا کوئی آپریشن اور جسم میں کوئی تغیر قطعاً درست نہ ہوگا جیسا کہ آج کل ناک پستان وغیرہ کے سلسلہ میں کیا جاتا ہے ۔ (جدید فقہی مسائل:
۲/۱۷۱
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.